29

سورن کیرکیگارڈ کا خدا کیسا ہے

کسی محفل میں بحث ہو رہی تھی کہ شوہر اور بیوی میں سے گھر میں زیادہ کس کی حکمرانی ہوتی ہے۔ ایسے میں ایک شخص نے نہایت فخر سے بتایا کہ گھر کے تمام بڑے فیصلے وہ خود کرتا ہے جبکہ چھوٹے موٹے فیصلے اُس کی بیوی کرتی ہے۔ ”بچوں نے کون سے اسکول میں پڑھنا ہے، بیوی نے میکے کب کب جانا ہے، کس شادی پر کتنی سلامی دینی ہے، کون سے دوست کے گھر جانا ہے، کس کی گھر پر دعوت کرنی ہے، یہ تمام فیصلے میری بیوی کرتی ہے۔“ اِس پر شرکا محفل نے حیران ہو کر پوچھا کہ پھر تم کون سے بڑے فیصلے کرتے ہو۔ اُس شخص نے اطمینان سے جواب دیا: ”میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ملک کی خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیے، طرز حکمرانی کیسا ہونا چاہیے، کس آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور ملک میں کون سا قانون ختم کر دینا چاہیے، وغیرہ۔“

 

میرا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ملک کے جید تجزیہ نگار، لکھاری اور وی لاگر معمولی موضوعات پر تبصرے کر رہے ہیں، جیسے کہ ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ میں فاتح کون ہو گا، آبنائے ہرمز کب کھلے گی، عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں کب مستحکم ہوں گی، مشرق وسطیٰ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، وغیرہ۔ جبکہ اِس خاکسار کے ذِمّے کائناتی مسائل کی گتھی سلجھانا ہے جن میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ فلسفی سورن کیرکیگارڈ نے خدا کے وجود کو کیسے ’ثابت‘ کیا! اِس ضمن میں کیرکیگارڈ کی کتاب Philosophical Fragments پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

اِس کتاب کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو وہ دراصل یہ ثابت کر رہا ہوتا ہے کہ وہ خود خدا پر یقین نہیں رکھتا۔ یہ بات خاصی دلچسپ ہے، کیونکہ ہم ہر چیز کا ثبوت مانگتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ اگر کائنات اتنی خوبصورت اور کامل ہے تو یقیناً اسے کسی نے بنایا ہو گا لہٰذا خدا موجود ہے۔ کیرکیگارڈ کے نزدیک یہ دلیل ایک منطقی سراب ہے کیونکہ اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے سامنے دیوار موجود ہے تو کیا آپ اسے ثابت کرنے کے لیے کتابیں لکھیں گے؟ ثبوت کی ضرورت وہاں پڑتی ہے جہاں یقین کی کمی ہو۔

کیرکیگارڈ کا کہنا ہے کہ جب ہم منطق کے ذریعے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم ایک ’دائرے‘ میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ آپ خدا کی تخلیق (کائنات) کی مدد سے خدا کو ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ اِن کاموں کو ’خدا کے کام‘ تسلیم کرنے کے لیے آپ کو پہلے سے ہی خدا پر ایمان لانا پڑے گا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی شخص کی تصویر دیکھ کر کہیں کہ ’یہ تصویر ثابت کرتی ہے کہ یہ مصور موجود ہے‘ ۔ حالانکہ پہلے یہ ماننا پڑے گا کہ یہ کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر ہے، محض اتفاقی رنگوں کا بکھرنا نہیں!

سورن کیرکیگارڈ کے نزدیک انسانی عقل یقیناً بہت سی گتھیاں سلجھا سکتی ہے لیکن اِس کی بھی ایک حد ہے۔ جب عقل اپنی آخری سرحد پر پہنچتی ہے تو اس کا ٹکراؤ ایک ایسی چیز سے ہوتا ہے جسے وہ سمجھ نہیں پاتی، اِس سرحد کا نام کیرکیگارڈ نے ”The Unknown“ (نا معلوم) رکھا ہے۔ اُس کے نزدیک خدا وہ ’نامعلوم‘ ہے جسے عقل چھو تو سکتی ہے مگر گرفت میں نہیں لے سکتی۔ عقل چاہتی ہے کہ وہ خدا کو اپنی لیبارٹری میں رکھ کر ٹیسٹ کرے لیکن خدا وہ تضاد (Paradox) ہے جو عقل کے چھکے چھڑا دیتا ہے۔ کیرکیگارڈ کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں تھا کہ ’کیا خدا موجود ہے؟‘ بلکہ یہ تھا کہ ’ایک انسان خدا سے تعلق کیسے قائم کرے؟‘

کیرکیگارڈ اس رشتے کو سمجھانے کے لیے ایک ادبی تمثیل کا سہارا لیتا ہے : بادشاہ اور غریب لڑکی کی کہانی۔ فرض کریں ایک انتہائی طاقتور بادشاہ کو ایک غریب، معمولی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ بادشاہ چاہتا ہے کہ لڑکی بھی اس سے محبت کرے، لیکن وہ جانتا ہے کہ اگر وہ اپنے شاہی جاہ و جلال کے ساتھ اس کے سامنے گیا تو لڑکی اس کی طاقت سے مرعوب ہو جائے گی یا خوفزدہ ہو کر اس کے قدموں میں گر جائے گی۔ وہ سچی محبت نہیں کر پائے گی کیونکہ سچی محبت برابری کی بنیاد پر ہوتی ہے۔

بادشاہ کے پاس دو راستے ہیں، یا تو وہ لڑکی کو ملکہ بنا کر اپنے رتبے تک لے آئے (جو کہ ایک دھوکہ ہو گا کیونکہ لڑکی اندر سے وہی غریب لڑکی رہے گی) یا پھر بادشاہ خود اپنا تاج و تخت چھوڑ کر ایک غریب خادم کا روپ دھار لے اور لڑکی کی سطح پر آ جائے۔ سچی محبت کی خاطر بادشاہ دوسرا راستہ چنتا ہے۔ کیرکیگارڈ کہتا ہے کہ خدا کا انسان کے ساتھ رشتہ بھی ایسا ہی ہے۔ خدا (استاد) انسان (طالب علم) سے محبت کرتا ہے لیکن خدا اور انسان کے درمیان ایک لامحدود خلیج ہے، خدا انسان کو سچائی سکھانے کے لیے اپنی خدائی شان و شوکت کے ساتھ نہیں آتا، بلکہ وہ خود کو محدود کر کے انسان کا روپ دھار لیتا ہے، یہ خدا کی محبت کی انتہا ہے کہ وہ سکھانے کے لیے سیکھنے والے کی سطح پر آ جاتا ہے۔

دنیا میں سچائی دو طرح کی ہوتی ہے، معروضی اور موضوعی سچائی (objective and subjective truth ) ۔ دو جمع دو چار ہوتے ہیں، کسی بھی مثلث کے تین داخلی زاویوں کا مجموعہ ہمیشہ 180 ڈگری ہوتا ہے، پانی ہائیڈروجن اور آکسیجن کا مرکب ہے، یہ تمام معروضی سچائیاں ہیں، ہم جئیں یا مریں، اِنہیں تسلیم کریں یا نہ کریں، اِن سچائیوں کی ’صحت‘ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نہ ہماری زندگی میں کوئی تبدیلی آئے گی، اگر ہم پانی کو آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مرکب مانے بغیر بھی پئیں گے تو اُس کی تاثیر وہی رہے گی۔ یہ وہ سچائیاں ہیں جو ہماری جذباتی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتیں، اگر آپ اداس ہیں کہ محبوب ناراض ہے اور بریک اپ کرنے کے موڈ میں ہے تو مسئلہ فیثاغورث پر ’ایمان‘ لانے سے آپ کی اداسی کم نہیں ہو گی۔ جبکہ موضوعی سچائیاں وہ ہیں جن کا براہ راست آپ کی زندگی سے تعلق ہے، جیسے کہ کیا خدا وجود رکھتا ہے، کیا اِس زندگی کا کوئی مقصد ہے، کیا محبوب کو واقعی مجھ سے محبت ہے، وغیرہ۔

جس طرح آپ ریاضی کی مساوات سے یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ آپ کو کس سے کتنی محبت ہے، اسی طرح معروضی سچائی کے طور پر یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ خدا وجود رکھتا ہے یا نہیں۔ یہ وہ سچائیاں ہیں جن کے بل بوتے پر آپ زندگی جیتے ہیں، آج اگر آپ کو محبوب کی بے وفائی کا یقین ہو جائے تو آپ کے نزدیک اِس بات کی اہمیت نہیں ہو گی کہ تمام طاق اعداد، قدرتی اعداد کا سب سیٹ ہوتے ہیں (حالانکہ یہ ایک آفاقی اور ثابت شدہ سچائی ہو گی) بلکہ آپ کی زندگی میں وہ سچائیاں اہمیت رکھیں گے جو ’غیر ثابت شدہ‘ ہوں گی اور جن پر آپ کو ’یقین‘ اور ’ایمان‘ ہو گا۔ عقلی دلائل اور سچائیاں دو جمع دو چار پر ختم ہو جاتی ہیں جبکہ ایمان کا دائرہ اُس کے بعد شروع ہوتا ہے۔

سو، اگر خدا کا وجود بھی عقلی دلائل سے ثابت ہو جائے تو وہ بھی اسی طرح کی معروضی سچائی بن جائے گا اور اُس کے ساتھ جذباتی وابستگی ختم ہو جائے گی۔ سچائی وہ ہے جس کے لیے آپ جی سکیں اور جس کے لیے آپ مر سکیں۔ کیرکیگارڈ کے نزدیک خدا کوئی ریاضیاتی مسئلہ نہیں جسے حل کیا جائے بلکہ وہ ایک ہستی ہے جس سے رشتہ استوار کیا جاتا ہے۔

سورن کیرکیگارڈ بہت بڑا فلسفی تھا، اُس کی بات سے اختلاف تو درکنار اتفاق کرنے سے بھی ڈر لگتا ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ اگر خدا کا وجود موضوعی سچائی کی طرح ’ثابت‘ ہو جائے تو کیا وہ غیر جذباتی حقیقت بننے کی بجائے انسانوں کی زندگیوں میں عملاً کارفرما نہیں ہو جائے گا؟ کیا فرماتے ہیں اہلِ دانش بیچ اِس مسئلے کے؟

بشکریہ جنگ نیوزکالم