ایران پر حملہ: ممکنہ نتائج

فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی خبر ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی جارحیت ہے۔ جس کا آغاز 28 فروری 2026 (دو ہفتے دو دن قبل) ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھا، نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ منصوبہ بندی پہلے سے طے شدہ تھی، جس کا مقصد ایران کی سیاسی اور فوجی قیادت کو کمزور کرنا تھا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقاصد اور اہداف بدلتے رہتے ہیں لیکن نیتن یاہو کے مقاصد مستقل ہیں جو چاہتا ہے کہ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہو۔ ٹرمپ کی بھی یہ سوچ ہے حکمت عملی، جسے "وینزویلا ماڈل" قرار دیا جا رہا ہے اُور وہ ایران کی قیادت میں تبدیلی چاہتے ہیں جبکہ نیتن یاہو نے اسرائیل کی علاقائی برتری اور ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنا اپنے مقاصد میں شامل کر رکھا ہے۔

اس جنگ کو بین الاقوامی اور امریکی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ کسی خودمختار ریاست پر حملہ صرف دفاع کے تحت یا اقوام متحدہ کی منظوری سے جائز ہے، جو اس معاملے میں موجود نہیں۔ ایران کی جانب سے شہری تنصیبات پر حملے کی اطلاعات اور جانی نقصان نے بھی قانونی موقف کو مضبوط کیا ہے۔

ایران نے "فضائی تصادم" کی حکمت عملی اپنا رکھی، جس میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف علاقے اور معیشت کو متاثر کرنے والے حملے کیے گئے۔ اس میں خلیج میں امریکی اڈوں پر حملے، اہم بنیادی ڈھانچوں اور تجارتی راستوں پر نشانہ، اور اتحادیوں کے درمیان کشیدگی شامل ہیں۔ ایران نے اپنی فوجی کمان کو منتشر کر کے اور حق حکومتی اختیارات کو میدان میں منتقل کر کے اپنی حملہ آور صلاحیت کو برقرار رکھا۔

امریکہ اور اسرائیل کی فضائی کاروائیاں ابتدائی طور پر کامیاب نظر آ رہی ہیں، لیکن ایران کی افقی حکمت عملی نے دکھا دیا کہ صرف فضائی طاقت کافی نہیں، بلکہ زمینی حکمت عملی اور صورتحال کے مطابق عمل بھی ضروری ہوتا ہے۔ ایران نے ڈرونز اور میزائل لانچرز کو موبائل بنا کر دشمن کی فضائی حکمت عملی ناکام بنا دی۔

ایران پر حملے کے تین ممکنہ نتائج تصور کئے جا سکتے ہیں

امریکہ اور اسرائیل فضائی کاروائیاں جاری رکھیں، ایران چھوٹے مگر مسلسل حملوں کی صورت جواب دے۔

ایران پر بین الاقوامی دباؤ کارگر ثابت ہو، خاص طور پر چین اور روس کی وجہ سے، جنگ رک جائے اور ایران کی موجودہ مذہبی رجیم برقرار رہے۔

 ایران کی جنگی حکمت عملی اب تک کامیاب ثابت ہوئی ہے لیکن اگر اس کی کامیابیوں کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو امریکہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے، جس سے پاکستان سمیت پورا مشرق وسطیٰ بحران سے دوچار ہو جائے گا۔

ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ سے صرف غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ایران کے جوابی حملے کارگر ثابت ہو رہے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے۔ ان حالات میں خلیجی ممالک کو بھی اپنی حکمت عملیوں کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا کیونکہ جس امریکہ کے سہارے وہ ایران مخالف رہے وہ امریکہ اب اُن کی حسب توقع مدد نہیں کر رہا اُور نہ ہی امریکی ہتھیار کارگر ثابت ہو رہے ہیں۔ خلیجی ممالک اگر ایران کے ساتھ مشترکہ سیکورٹی فریم ورک کی بنیاد رکھیں اور ایران کا ساتھ دیں تو طویل جنگ مختصر اُور منفی اثرات مثبت نتائج میں ڈھل سکتے ہیں۔

 

بشکریہ روزنامہ آج