عالمی نظام بمقابلہ فردکا ضمیر

چودہ فروری دوہزارچھبیس

عالمی نظام بمقابلہ فردکا ضمیر

شبیر حسین امام

کیا عالمی اصول بھی حقیقت ہیں؟ آج ہر طرف ’’عالمی اصولوں‘‘ کے ٹوٹنے کا تذکرہ ہو رہا ہے جیسا کہ دنیا میں کوئی بہت ہی انصاف پسند نظام رائج ہو۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ایسا کوئی ’’نگران‘‘ یا ’’عدالت‘‘ نہیں جو طاقتور ملکوں کو لگام ڈال سکے۔

کسی ملک کے اندر تو قانون ہوتا ہے لیکن عالمی سطح پر امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کی سوچ کو پوری دنیا پر نافذ کرنے کی کوشش تناؤ کا باعث ہے کیونکہ دنیا کو ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کے
اصول پر نہیں چلایا جا سکتا۔ عالمی طاقتوں کا طریقۂ واردات یہ رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے ’اقوام متحدہ‘ جیسے ادارے تخلیق کرنے میں پیش پیش رہتی ہیں مگر پھر اِنہی اداروں یا تنظیموں کو اپنی مرضی اور حکمت ِعملی کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ جو ملک ان کی بات نہ مانے اس پر اقتصادی (تجارتی) پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔ تعجب تو یہ ہے کہ ان طاقتوں نے اپنے لئے ’’ویٹو‘‘ جیسا اختیار بھی وضع کر رکھا ہے، جس کی موجودگی میں کسی غیرجانبدار (منصفانہ) عالمی نظام کا تصور کرنا بھی خواب جیسا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ ضمیر رکھنے والے جب اُور جہاں کہیں موقع ملے آواز اُٹھاتے ہیں۔ 13 سے 20 فروری کی تاریخوں میں ’برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ سلسلے کا 63 واں میلہ جرمنی میں منعقد ہو رہا ہے جس میں دنیا بھر سے نامور ادیب اُور اداکار شرکت کرتے ہیں لیکن اِس مرتبہ بھارت سے تعلق رکھنے والی عالمی انعام یافتہ مصنفہ ’(چونسٹھ سالہ) اروندھتی رائے‘ نے اس میلے سے شرکت نہ کرنے اُور انعامات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہے کیونکہ فیسٹیول کی جیوری کے صدر وم وینڈرز نے غزہ کے قتل ِعام پر خاموش رہنے اُور ’’سنیما کو سیاست یا عالمی معاملات سے الگ رکھنے کا کہا تھا۔‘‘ جس سے اروندھتی رائے اختلاف رکھتی ہیں اُور اس بیانیے کو صرف وہی نہیں بلکہ باشعور دنیا کی بڑی تعداد جرم سمجھتی ہے۔ حقیقت میں یہ ’’ناقابلِ فہم اُور ناقابل معافی‘‘ جرم ہے کہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے فلسطینی عوام کی نسل کشی ہو رہی ہو اُور کسی فنکار کا یہ کہنا کہ اُس کا ان مظالم سے تعلق نہیں کیونکہ وہ ’غیر سیاسی‘ ہے‘ دراصل ظالم کی حمایت کے مترادف ہے۔ یہ وہی دوہرا معیار ہے جس کا ذکر اکثر کیا جاتا ہے۔ ایک طرف وہ فنکار اور ادارے ہیں جو خود کو ’’ترقی پسند‘‘ کہتے ہیں لیکن غزہ کے معاملے پر خاموش ہیں اور دوسری طرف اروندھتی رائے جیسی شخصیات ہیں جو بھارت کی انتہاپسند حکومت کی سنگین ناقد ہونے کے ساتھ فلسطینیوں کے حق میں بول رہی ہیں اُور جنہوں نے ایک عالمی اعزاز کو حاصل کرنے کی بجائے اُسے ٹھوکر مار دی ہے۔ یہ کہلاتا ہے ضمیر جس میں ایوارڈ اور رتبے کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ جب مصر کے ہدایت کاروں کی فلموں کو صرف اس لئے برلن فلم فیسٹیول سے الگ کر دیا گیا تھا کیونکہ وہ غزہ میں جاری مظالم کے موضوع پر ایک جیسا مؤقف رکھتے تھے تو برلن فیسٹیول کا ’’ترقی پسند‘‘ چہرہ اُسی وقت بے نقاب ہو گیا جس کا ڈھونگ وہ برسوں سے رچاتا آیا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو صورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے۔ جب گزشتہ برس مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے آئیں‘ تو کوئی ’’عالمی نظام‘‘ مداخلت (جنگ بندی) کے لئے نہیں آیا۔ ہر کوئی جوہری جنگ کا تماشا دیکھنا چاہتا تھا جس کا ایندھن عام لوگ بنتے۔ اگر پاکستان نے دفاعی تیاری نہ کی ہوتی اور چین جیسا دوست ساتھ نہ ہوتا تو بھارت کی فضائی برتری کا جواب دینا مشکل تھا۔ بھارت اب بھی ’’آپریشن سندور ٹو‘‘ کے ذریعے پاکستان کو داخلی سطح پر فرقہ واریت میں الجھا کر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عراق‘ افغانستان اور لیبیا میں طاقتوروں نے کبھی قانون کی پرواہ نہیں کی۔ آج غزہ کے بچے صرف اسرائیل کے نہیں بلکہ اس عالمی نظام کے مظالم سہہ رہے ہیں جو چاہتا ہے کہ ہر ملک ان کے سامنے سرنگوں رہے۔
ذرائع ابلاغ (میڈیا) جو ’’کہانیاں‘‘ سنا رہے ہیں اُس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے بارے میں بہت ہی کم بات کی جاتی ہے یا پھر خاموشی اختیار کی جاتی ہے لیکن دیگر کم اہم واقعات کو عالمی مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جو بائیڈن ہوں یا ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی صدور کے نام اُور چہرے بدلنے سے طاقت کے بنیادی ڈھانچے نہیں بدلتے۔ یہ مان لینا کہ کوئی پرانا موجودہ عالمی نظام سے بہت اچھا تھا‘ خود فریبی ہے۔ اصول ہے کہ دنیا میں کبھی خلا نہیں رہتا اگر ایک طاقت کمزور ہوتی ہے تو دوسری اُس کی جگہ لے لیتی ہے۔ پاکستان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اصول ہمیشہ وہی لکھتے ہیں جو طاقت کے توازن پر قابض ہوتے ہیں۔ نظم و ضبط ہمیشہ رہتا ہے، بس اس کا رخ اور انداز بدل جاتا ہے۔ اروندھتی رائے کا برلن فیسٹیول چھوڑنا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب نظام اندھا ہو جائے، تو فرد کا ضمیر ہی سب سے بڑا قانون ہوتا ہے۔

Politics

 

بشکریہ روزنامہ آج