پاکستانی عوام نے حال ہی میں امریکہ-اسرائیل اتحاد اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کا پہلا براہ راست معاشی اثر محسوس کیا ہے، اور یہ اثر سب سے زیادہ پیٹرول پمپ پر نظر آیا۔ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں فی لیٹر 55 روپے بڑھانے کا فیصلہ کیا، جو عالمی تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا فوری عکس ہے۔ کیروسین اور ہلکے ڈیزل آئل میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ تاریخی طور پر غیر معمولی ہے اور پاکستان کی معیشت کی جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے سامنے کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
Textiles & Nonwovens
آبنائے ہرمز کی بندش اور خلیج میں امریکی فوجی تنصیبات پر ایران کے حملوں کے بعد عالمی تیل کی مارکیٹ میں افراتفری پیدا ہوئی۔ صرف ایک ہفتے میں، برینٹ خام تیل کی قیمتیں تقریباً 33 فیصد بڑھ کر $92 فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ مارکیٹ کا تخمینہ ہے کہ اگر تنازعہ طویل ہو تو قیمتیں $150 کے قریب پہنچ سکتی ہیں۔ پاکستان جیسی توانائی کی درآمد پر انحصار کرنے والی معیشت کے لیے یہ اضافے سنگین مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
حکومت کے پاس اس جھٹکے کا مقابلہ کرنے کے دو راستے تھے: بجٹ کے ذریعے یا صارفین پر لاگت ڈال کر۔ مالیاتی دباؤ کی وجہ سے، حکومت نے صارفین پر بوجھ ڈالنے کا راستہ اختیار کیا۔ آئی ایم ایف کے اہداف اور آمدنی و خسارے کے منصوبوں کے تحت، حکومت کے پاس بہت کم لچک تھی۔ پیٹرولیم لیوی کو کم کرنا بجٹ کے اہداف کی خلاف ورزی ہوتا، کیونکہ ایف بی آر ٹیکس اہداف پورے کرنے میں پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔ اس لیے یہ لیوی گزشتہ برسوں میں اہم آمدنی کا ذریعہ بن گئی ہے، جس کی بنا پر بجٹ کے ذریعے عالمی تیل کے جھٹکوں کا سامنا ممکن نہیں رہا۔
تاہم، اقتصادی منطق کے باوجود اس فیصلے کے اثرات عوام پر زیادہ بوجھ ڈالیں گے۔ سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہوگا، جو پہلے ہی بڑھتی مہنگائی اور محدود آمدنی کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیروسین کی بڑھتی قیمت غریب گھرانوں کے لیے خاص طور پر تکلیف دہ ہے۔ تیل کے یہ جھٹکے نہ صرف عام صارفین بلکہ وسیع معیشت پر بھی اثر ڈالیں گے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست نقل و حمل کے اخراجات میں شامل ہوتا ہے، جو خوراک، درآمدات، برآمدات اور صنعتی پیداوار کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے۔ تنازعہ کے آغاز سے پہلے ہی مہنگائی میں اضافہ شروع ہو چکا تھا، جو تقریباً 7 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ تازہ ترین ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اس رجحان کو تیز کر سکتا ہے، اور کم و درمیانے آمدنی والے گھرانوں کے بجٹ پر مزید دباؤ ڈالے گا۔ آئندہ ہفتوں میں عالمی مارکیٹ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے حالات کے باعث مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔
Energy & Utilities
بحران نے پاکستان کی معاشی خامیوں کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ حکومت ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے اور مالیاتی بفر بنانے میں ناکام ہے۔ مضبوط آمدنی کے ذرائع اور بالواسطہ ٹیکس پر کم انحصار صارفین کو موجودہ بحران سے بہتر تحفظ فراہم کر سکتے تھے۔
اب اگر ہم پٹرولیم مصنوعات کی سال بہ سال قیمتوں پر نظر ڈالیں تو پاکستان کی عوام نے پچھلے پانچ سالوں میں مسلسل اضافہ دیکھا ہے۔ 2018 میں پٹرول کی قیمت فی لیٹر تقریباً 80 روپے تھی، جو 2019 میں بڑھ کر 90 روپے، 2020 میں تقریباً 100 روپے، 2021 میں 110 روپے، اور 2022 میں 120 روپے فی لیٹر تک پہنچی۔ 2023 میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مقامی کرنسی کی کمزوری کے باعث یہ 145 روپے تک جا پہنچی۔ موجودہ اضافے کے بعد، 2026 میں پٹرول کی قیمت 200 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈیزل کی قیمت بھی تقریباً اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبے پر بھی بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
اس اضافے کے اثرات مختلف شعبوں میں واضح ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کرایہ بڑھ گئی، خوراک کی قیمتیں بڑھ گئیں، اور تعمیراتی شعبہ مہنگا ہو گیا۔ چھوٹے کاروبار اور صنعتیں بھی بڑھتی توانائی کی قیمتوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ اگر عالمی تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں، تو یہ اثرات معاشی سکڑاؤ اور بے روزگاری میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
Textiles & Nonwovens
حالیہ اقدامات میں کیروسین اور لائٹ ڈیزل آئل پر بھی اضافہ شامل ہے۔ یہ بنیادی طور پر صنعتوں اور گھریلو استعمال میں اہم ہیں۔ اس سے صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور عوامی سہولیات پر بھی اثر پڑے گا۔ حکومت کی طرف سے فوری مالیاتی ریلیف نہ ہونے کی وجہ سے یہ بوجھ سیدھا صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اثر پاکستان کی کرنسی پر بھی پڑتا ہے۔ روپیہ کی قدر میں کمی کے ساتھ درآمدی تیل مزید مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے ملکی تجارتی خسارہ بڑھتا ہے۔ حکومت کے بجٹ پر دباؤ اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا ہے، جو معاشی عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔
حکومت کی موجودہ حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان توانائی کی درآمدات کے جھٹکوں کے لیے زیادہ مستحکم نہیں ہے۔ عالمی تیل کی قیمت میں ہر معمولی اضافہ براہ راست عوام کی زندگی پر اثر ڈالتا ہے۔ مالیاتی بفر نہ ہونے اور ٹیکس نظام میں خامیوں کی وجہ سے حکومت کے پاس متبادل راستے محدود ہیں۔
مجموعی طور پر، عالمی تنازعات، خاص طور پر امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیز اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور محدود آمدنی کا سامنا کر رہے ہیں، اور یہ بحران ان کے لیے شدید معاشی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ سال بہ سال قیمتوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹ، صنعت اور خوراک پر دباؤ، اور مالیاتی کمزوری کے اثرات مستقبل میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
