مصنوعی ذہانت: حقیقی خطرات

مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جہاں پیچیدہ امراض کا علاج تلاش کیا جا رہا ہے اور درس و تدریس سے لے کر تخلیقات تک امکانات کا ایک لامحدود جہان دریافت ہوا ہے وہیں اس کے مضمرات و خطرات بھی ہیں۔ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تخلیق کردہ AI-generated خاکے یعنی کاریکچرز (کارٹون) بنانے کا رجحان تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ لوگ اپنے تصاویر اور مختصر تعارف کے ساتھ چیٹ بوٹس، جیسا کہ ChatGPT وغیرہ کا استعمال کرتے ہوئے دلچسپ اور مزاحیہ خاکے تیار کر رہے ہیں۔ صارفین اپنی تصاویر اور مختصر بائیو گرافی چیٹ بوٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں، اور اس کے بدلے میں انہیں ایسے کاریکچرز ملتے ہیں جو ان کی جسمانی خصوصیات کو بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی ان کی شخصیت، مشاغل اور کام کے بارے میں مزاحیہ تفصیلات شامل کرتے ہیں۔

 

یہ رجحان ایک نظر میں بے ضرر اور تفریحی لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اتنا بے ضرر نہیں جتنا کہ لوگ سمجھتے ہیں۔ ماہرین سائبردہشت گردی نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص چیٹ بوٹ کو اپنی تصاویر اور ذاتی معلومات فراہم کرتا ہے، تو اس سے ان کی ذاتی معلومات کے تحفظ کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ جب آپ اپنی تصویر ایک AI بوٹ پر اپ لوڈ کرتے ہیں، تو آپ صرف تصویر ہی نہیں دیتے بلکہ اپنے بارے میں بہت ساری معلومات بھی فراہم کر دیتے ہیں۔

جب کوئی صارف چیٹ بوٹ کو اپنی یا کسی کی بھی ذاتی تصویر فراہم کر رہا ہوتا ہے تو درحقیقت وہ ایک قسم کا خطرہ مول لے رہا ہوتا ہے اور یہی تصویر اس کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ ایسا اس لئے ممکن ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے نام سے خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں یہ تصاویر یا کوائف اپنے پاس محفوظ کرنے کے بعد نتائج دیتی ہیں اور یہ راز شاید بہت ہی کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ وہ تمام تر ذاتی معلومات جو مصنوعی ذہانت ماڈیولز کو فراہم کی جاتی ہیں وہ استعمال یعنی پراسیس ہونے کے بعد جاتی کہاں ہیں۔

 

توجہ طلب ہے کہ کچھ معلومات ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہمیشہ کے لئے محفوظ نہیں رہنا چاہیئے مثال کے طور پر، تصویر اور بائیو گرافی اپ لوڈ کرتے ہیں تو آپ کی آنکھوں کا رنگ، بالوں کا رنگ اور اس قسم کی ذاتی معلومات ماڈل سیکھ سکتا ہے۔ ایسی معلومات کو استعمال کر کے آپ کے بینک اکاؤنٹس یا میڈیکل ریکارڈ تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے، خاص طور پر اگر AI ڈیٹا بریچ ہو جائے یعنی جن کمپنیوں کو یہ معلومات دی گئی ہیں ان کے ذخیرے یعنی سرور میں محفوظ معلومات غیرمتعلقہ افراد تک پہنچ جائیں۔

سب سے بدتر بات یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کی ذاتی معلومات کا استعمال AI-powered اسکیموں اور ڈیپ فیک ویڈیوز (جو کہ آپ کی تصاویر یا ویڈیوز کو جعلی طریقے سے ردوبدل کرتے ہیں) کے لئے کیا جائے۔ کیا ہماری نوجوان نسل کو اس بات کا علم ہے؟

سمجھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت کہلانے والی تمام خدمات نہ تو ذہین ہوتی ہیں اُور ہیں اُور نہ ہی اُن کے کام کاج میں ذہانت کا عمل دخل ہوتا ہے۔ مشینیں مختلف قسم کی ہدایات کی روشنی میں کام کرتی ہیں اُور یہ ہدایات انہیں انسانوں ہی نے دے رکھی ہیں جنہیں بار بار ایک جیسا یا ہر مرتبہ مختلف انداز میں سمجھنے کی ہدایات یعنی پروگرامنگ دی گئی ہوتی ہے۔ بظاہر پیچیدہ مسئلے کا واحد اور آسان حل یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کہلانے والی ٹیکنالوجی کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ غیرضروری استعمال نہ کیا جائے۔ تفریح کے لئے تو بالکل بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ ذمہ داری تعلیمی اداروں کی ہے کہ وہ ہر درجے میں مصنوعی ذہانت سے متعلق علوم یا کم سے کم ہدایات کو نصاب کا حصہ بنائیں۔ 

مصنوعی ذہانت (AI) ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو کمپیوٹر سسٹمز کو انسانوں کی طرح سوچنے، سیکھنے، اور فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ AI کی مدد سے کمپیوٹر سسٹمز تصاویر کی شناخت، زبان کی تفہیم اور فیصلے کرنے کی صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں AI نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اپنی جگہ بنا لی ہے، جس سے نئے اور دلچسپ تجربات پیدا ہو رہے ہیں، جیسے کہ AI-generated کاریکچرز یعنی خاکے بنائے جا رہے ہیں جو بظاہر مزاحیہ اور بے ضرر معلوم ہوتے ہیں لیکن مستقبل قریب یا بعید  میں سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر اور ذاتی معلومات شیئر کرتے وقت ہر صارف کو احتیاط برتنا چاہیے اور اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ دی گئی معلومات کا غلط استعمال بھی ممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ڈیٹا پرائیویسی اور سیکیورٹی سے متعلق موضوعات کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ کرتے رہنا چاہیئے تاکہ خطرات چاہے جتنے بھی بڑے ہوں ان سے نمٹنے کی کچھ نہ کچھ تیاری پہلے ہی سے ہونی چاہیئے۔

مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے خاکے یا تصاویر یا ویڈیوز تفریحی رجحان ہو سکتے ہیں مگر ان کے ساتھ جڑے خطرات نظرانداز نہیں کئے جانے چاہیئں۔ کوئی بھی ٹیکنالوجی خیر محض ہوتی ہے یعنی یہ فوائد و نقصانات کا مجموعہ ہوتی ہے تو اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ خطرات کا پہلے سے اُور ہر ممکنہ ادراک کیا جائے۔ یہی آن لائن رہتے ہوئے محفوظ رہنے کی واحد صورت ہے۔

 

بشکریہ روزنامہ آج