انجام کار افغانستان کے ساتھ وہی کچھ ہواجس کے خدشے کاہم نے انہی کالموں میں کچھ عرصہ پہلے اظہار کیا تھا‘طالبان کے ہاتھوں دہ دنیا میں سیاسی تنہائی کا شکار ہو رہاہے اب آ سٹریلیا نے بھی جون سے افغان سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کر دیاہے‘ آسٹریلیا کے مطابق طالبان کی حکومت عوامی نمائندہ نہیں۔سعودی عرب حکومت کا یہ اعلان بھی قابل تعریف ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، اگر مشرق وسطیٰ کے تمام مسلمان ممالک صدق دل سے یہ تہیہ کر لیں کہ وہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے میں اس کا ساتھ بالکل نہیں دیں گے تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں کوئی من مانی کر سکے۔ امریکی پرنٹ میڈیا‘کے ایف 17تھنڈر کی کارکردگی پر مطمئن ہے اور اس کا تمام تر کریڈٹ پی اے ایف کے ایرو ناٹیکل انجینئرز کو جاتاہے۔ پانی کو جنگی حربہ کے طور پراستعمال کرنا ایک نہایت ہی گھٹیا عمل ہے‘ پرہندو بنیا سے اس قسم کے حربے استعمال کرنے پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے‘ ماضی میں بھی کئی کئی بار ہندو پاکستان کے خلاف ایسے حربوں میں ملوث رہے ہیں‘ کبھی دریاؤں سے پاکستان کو ڈبونے کیلئے پانی چھوڑ کر یا اس کی زراعت کو تباہ کرنے کے واسطے کیا۔آئیے اب کچھ ذکر گدھوں کا بھی ہو جائے جسے انگریزی میں beast of burdenاور اردو میں بوجھ کا جانور کہا گیا ہے‘ کل تک جو کام گدھے سے لیا جاتا آج کل وہ موٹر سائیکل سے لیا جا رہا ہے ایک سواری کی جگہ بلا مبالغہ چار پانچ افراد جن میں خواتین‘بوڑھے اور بچے شامل ہوتے ہیں موٹر سائیکل چلانے والے کے آگے پیچھے بٹھائے جاتے ہیں‘ نہ تو موٹر سائیکل چلانے والے نے ہیلمٹ پہنا ہوتا ہے نہ دیگر نے‘ خدانخواستہ کسی بھی حادثے میں ان موٹر سائیکلوں میں سوار افراد کو جو چوٹیں لگ سکتی ہیں‘ ان سے ریکوری بہت ہی مشکل ہوتی ہے قانون سازوں نے اس مسئلے کا کچھ سدباب کر دیا ہوتاتو سڑکوں پر موٹر سائیکل حادثات میں کمی ضرور آگئی ہوتی۔
