جب تک ٹیلی ویژن کا وطن عزیز میں ظہور نہیں ہوا تھا کرکٹ کے میچوں پر رواںتبصرہ یعنی رننگ کمنٹری عمر قریشی اور جمشید مارکر کی جوڑی پر مشتمل ریڈیو کمنٹریٹرز کیا کرتے تھے ان دنوں صرف ٹیسٹ میچ ہوا کرتے تھے کیونکہ کم دورانئے کے میچ یعنی ون ڈے اور ٹیونٹی میچوں کا چلن ابھی عام نہیں ہوا تھا ان دونوں کا انگریزی زبان کا تلفظ غضب کا تھا اور یقین مانئے ہماری جنریشن کے طالب علم بڑے ذوق و شوق سے ان کو سنا کرتے ‘جمشید مارکر تو بعد میں فارن سروس سے منسلک ہو گئے اور کئی ممالک میں پاکستان کے سفیر بھی رہے‘ انہوں نے سفارتکاری پر ایک کتاب بھی لکھی تھیجو بہت مقبول ہوئی عمر قریشی زندگی کے آخری لمحات تک صحافت سے ہی منسلک رہے اور کراچی سے چھپنے والے کئی انگریزی زبان کے روزناموں کے لئے لکھتے بھی رہے‘ جب ٹیلی ویژن سے بھی کرکٹ میچوں پر کمنٹری شروع کی گئی تو کچھ عرصے تک وہ اس میں بھی حصہ لیتے رہے بہت کم لوگوں کو پتہ ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں وہ ذولفقار علی بھٹو کے کلاس فیلو بھی تھے کرکٹ کے کئی تجزیہ کاروں کے مطابق کاردار گو کہ ایک اوسط درجے کے آل راﺅنڈر تھے پر انتظامی صلاحیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھریہ ہوئی تھی‘ ٹیم کے کھلاڑی بیک وقت ان کی عزت بھی بہت کرتے اور ان سے خائف بھی بہت رہتے تھے‘ جب کرکٹ میں ون ڈے کا ظہور عمل میں آنے والا تھا تو کئی پرانے کھلاڑیوں نے اس کی مخالفت کی تھی اور اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ یہ گیم کہ جو شرفا کا کھیل کہلاتی ہے کمرشلائز ہو کر بد عنوانی کا شکار ہو جائے گی اور وقت نے اسے درست ثابت کیا۔
اور وقت نے ان کے خدشات کو صحیح ثابت کیا بال ٹمپرننگ اور میچ فکسنگ میں ملوث کئی کھلاڑیوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا ھاکی کو پاکستان کا قومی کھیل کہا گیا ھے اور یہ بات بڑی حد تک درست بھی ھے کیونکہ 1948 سے لے کر 1992 تک یعنی۔ 45 برس کے عرصے کے دوران دنیاے ھاکی میں صرف پاکستان کا ھی طوطی بولتا تھا اس دوران ھاکی کے عالمی میچ ہر چار سال بعد ھو ے والے عالمی اور ایشیائی اولمپکس گیمز میں ھی ھوا کرتے تھے جن میں اکثر پاکستان ھی گولڈ میڈل سلور میڈل یا کانسی کا میڈل جیتتا تھا مثلا 1952 کے ھیلسنکی کے ورلڈ اولمپکس میں ھم ے کا نسی کا تمغہ جیتا 1956 کے کینبرا میں ھو ے والے ورلڈ اولمپکس میں ھم نے چاندی کا تمغہ جیتا 1958 کے ٹوکیو کے ایشیائی اولمپکس میں سونے کا تمغہ اور 1960 کے روم اولمپکس میں ھم نے سونے کا تمغہ جیتااور اس کے بعد دیگر کئی عالمی سطح کے ھاکی ٹورنامنٹس میں بھی پاکستان کی ھاکی ٹیم اپنی فتح کے جھنڈے گاڑتی رھیھاکی کو ایک عرصہ ھوتا ھے کہ وہ زوال پزیر ھے حکمرانوں کی اس پر اس قسم کی نظر عنایت نہیں ھے جو کرکٹ پر ھے حالانکہ ھاکی کو پاکستان کا قومی کھیل کہا گیا ھے سکواش میں بھی ایک لمبے عرصے تک زوال پزیر رھنے کے بعد اب کہیں جا کر نشاط ثانیہ کے آ ثار دکھاہی دینے لگے ہیں سکواش میں اگر جواں سال کھلاڑیوں کے لئیے ھاشم خان اعظم خان روشن خان جہانگیر خان محب اللہ خان ھڈی جہاں قمر زمان اور جان شیر جیسے رول ماڈل موجود ہیں تو ھاکی میں بھی ان کے لئیے دارا حمیدی نصیر بندہ مطیع اللہ سمیع اللہ حسن سردار وحید حبیب کڈی عاطف تنویر ڈار اور زکا الدین جیسے کھلاڑی موجود ہیں
