ہمارے کئی کرم فرماوں نے پشاور شہر کی فصیل کے اندر رہنے والوں کے روز وشب سے جڑی ہوئی اہم باتوں کو اجاگر کرنے کی بھی ہم سے فرمائش کی ہے جو حاضر خدمت ہے 16 دروازوں کے اندر رہنے والوں کی اب اکثریت باہر جا بسی ہے ابتدا گلبہار کالونی سے ہوئی اور لوگ حیات آباد تک جا پہنچے جس دور کی ہم بات کر رہے ہیں وہ 1970ء تک موجود تھا صبح تڑکے شہر کے اندر ہر محلے میں واقع تندور گرم کر دیئے جاتے اور بھینی بھینی خوشبو والی تندور کی روٹیاں بشمول روغنی روٹیاں خریدنے والے اپنے اپنے دستر خوان لئے ان تندوروں پر پہنچ جاتے پشاور کے گردونواع میں واقع دیہات سے تانگوں پر تازہ دودھ شہر کے کونے کونے پر پہنچ جاتا دودھ فروش جنہیں مقامی زبان میں دودی کہہ کر پکارا جاتا دیہی علاقوں سے آنے والے دودھ کی فروخت شروع کر دیتے پشاوریوں کا ناشتے میں من بھاتا کھاجا روغنی روٹی ملائی اور کشمیری چائے ہوتی جسے مقامی زبان میں شیر چاہ کہا جاتا شہر کے بازاروں میں حلوائی قتلمے اور پھیڑیاں بھی بیچتے کئی پشاوری تو پائے اور اس کے شوربے میں روٹی کوٹ کر کھاتے جسے کلا کہا جاتا اس زمانے
میں ڈبل روٹی‘ جام اور آملیٹ کا رواج نہ تھا ابھی سورج پوری طرح نکلا نہ ہوتا کہ میونسپل کمیٹی کے ماشکی اپنے کاندھوں پر پانی کی مشک اٹھائے سڑکوں پر چھڑکاؤ کرتے۔ شہر کی دکانیں فجر کی اذانوں کے بعد کھلنا شروع ہو جاتیں پشاور شہر میں گھنٹہ گھر کے قریب واقع سبزی منڈی میں بھی کاروبار زندگی صبح تڑکے ہی شروع ہو جاتا تھا قیام پاکستان سے پہلے ہی سے پشاور شہر کا محل وقوع کچھ اس انداز سے مرتب کیا گیا تھا کہ ہر محلے میں روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی ہر اشیاء خوردنی اس کے اندر ہی خریدار کو دستیاب ہو جاتیں بالفاظ دیگر ہر محلہ ایک مکمل چھوٹا شہر تھا حجام کی دکان گرم پانی کے سقاوے سے لے کر قصاب کی دکان غرضیکہ ہر ضرورت زندگی کی شے اس میں میسر تھی امن عامہ اتنا اچھا تھا کہ آدھی رات کو شادی بیاہ میں شرکت کے بعد زیورات
سے لدی خواتین پیدل اپنے گھروں کو جاتی تھیں اور مجال ہے کہ ان سے کسی کو زیورات چھیننے کی ہمت پڑتی ہو جہاں تک مذہبی ہم آ ہنگی کی بات تھی تمام مکتبہ ہائے فکر کے لوگ آپس میں شیرو شکر تھے ایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہوتے۔ کاش وہ دن واپس لوٹ آئیں۔ جن دنوں کی ہم بات کر رہے ہیں ان میں منرل واٹر کا رواج اس لئے عام نہ تھا کہ ہر محلے کے ہر گھر میں میونسپل کمیٹی نے پینے کے پانی کے جو نلکے لگائے ہوئے تھے ان کے ذریعے جو پانی سپلائی کیا جاتا وہ حفظان صحت کے اصولوں پر پورا اترتا تھا لہٰذا شاذ ہی کوئی اسے پینے کی وجہ سے معدے کی کسی بیماری میں کبھی مبتلا ہوتا یہ تو جب میونسپل کمیٹی کے متعلقہ عملے کی نااہلی یا غفلت کی وجہ سے زیر زمین پانی کی لائن اور گٹر کا پانی گڈ مڈ ہوا تو اس آلودہ پانی پینے کے بجائے لوگوں نے منرل واٹر کا استعمال شروع کیا۔ فرانس جیسے آزاد خیال ملک نے بھی 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگا دی ہے سوشل میڈیا کی مادر پدر آزادی کچے اذہان پر جو منفی اثرات مرتب کر رہی ہے اس کے بارے میں ہمارے ارباب اختیار بھلے ان کا تعلق کسی بھی قومی ادارے سے کیوں نہ ہو لاعلم ہیں یا ان کو اس سے معاشرے میں پھیلنے والی عریانیت اور فحاشی کا رتی بھر احساس تک نہیں۔
