فرانس کے صدر نے اگلے روز اپنے ملک کے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرتے وقت بڑے پتے کی بات کی ہے کہ ملک کی حفاظت کرنے اور اس کی آزادی قائم رکھنے کے واسطے اپنے آ پ کو مضبوط رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اس بیان سے وطن عزیز کے ان حلقوں کو سبق لینا چاہیے جو پاکستان کی دفاعی افواج کو جدید ترین اسلحہ سے لیس رکھنے کے لئے بجٹ میں اضافے پر اعتراضات اٹھاتے ہیں‘اس بات میں تو دو، آرا ہوہی نہیں سکتیں کہ بھارت ہر دم وطن عزیز کے خلاف کسی نہ کسی سازش میں مصروف رہتا ہے اور قیام پاکستان سے لے کر اب تک اس نے افغانستان کی ہر حکومت کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا ہے۔افغانستان میں قیام پاکستان سے لے کر تا دم تحریر ہر قسم کی حکومت برسر اقتدار رہی ہے اس میں ظاہر شاہ کا بادشاہی گھرانہ بھی شامل تھا‘ نور محمد ترکئی‘ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب جیسے کمیونسٹ اور طالبان جیسے مذہبی رہنما بھی شامل رہے۔ ان سب میں ایک قدر مشترک تھی اور وہ تھی بھارت نوازی اور پاکستان دشمنی سے بھارت اب بھی باز نہیں آ یا‘لہٰذا ہمیں ہر وقت چوکس رہنا ہوگا، بھارت نے حال ہی میں اپنا سالانہ دفاعی بجٹ کئی گنا زیادہ کر دیا ہے جس کا مقابلہ کرنے کے واسطے ہمیں بھی اپنی افواج کی دفاعی ضروریات پورا کرنے کے واسطے اپنی افواج کو جدید ترین اسلحہ سے لیس کرنا ہوگا۔ایک طرف تو امریکی صدر یہ گلہ کرتا ہے کہ روسی صدر امن کی بات بھی کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یوکرائن پر بمباری بھی‘پر وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ امریکہ اگر یوکرائن کی روس کے خلاف ہلہ شیری کرتا رہے گا اور اسے جدید ترین اسلحہ سپلائی کرتا رہے گا تو اس صورت حال میں روسی صدر کیونکر امریکہ سے تعاون کا مظاہرہ کرے گا،ماضی بعید میں یونان کے قریب واقع اسپارٹا نامی علاقہ میں ایک ایسا دور گزرا تھا کہ اسپارٹاکی زرعی زمین چند خاندانوں کی ملکیت تھی بقیہ لوگ مزارعوں کی طرح کھیتوں میں کام کرتے تھے زمین پر ان کا کوئی حق نہ تھا‘ اسپارٹا میں لائی سو کرگس نامی ایک لیڈر نے اس اراضی کے 39ہزار مساوی ٹکڑے کئے اور ان ٹکڑوں کو کاشتکاروں میں برابر بانٹ دیا‘اس نے امراء کی غیر منقولہ جائیداد و زیورات بھی زمین کی طرح لوگوں میں مسا وی طور پر تقسیم کرنے کی کوشش کی لیکن اسے اس مقصد میں جب کامیابی حاصل نہ ہوئی تو اس نے یہ حر بہ استعمال کیاکہ اس نے سونے اور چاندی کو بہ حیثیت زر اور بطور شرح مبادلہ استعمال کرنے کی ممانعت کردی یعنی کوئی شخص سونے یا چاندی کے بدلے کوئی چیز نہ تو خرید سکتا تھا اور نہ فروخت کر سکتاتھا،ان قیمتی دھاتوں کی جگہ اس نے لوہا رائج کیا اور اس کی قدر بھی بہت گرا دی‘ اس اقدام سے معاشرے میں سونے اور چاندی کی وقعت کم ہو گئی‘وطن عزیز میں آج ہزاروں کی تعداد میں ایسے افراد بھی موجود ہیں کہ جنہوں نے سونے اور چاندی کی اینٹوں اور ان سے بنے زیورات کو اس خوف سے کہ وہ قانون کی نظر میں کہیں نہ آ جائیں‘ذخیرہ کر رکھا ہے‘ماہرین یہ کہتے ہیں کہ سونا اگر سرکولیشن میں رہے تو معاشرے اور ملک کی معیشت مضبوط رہتی ہے‘لہٰذا وطن عزیز میں اس طرح کا اقدام کیا جائے تو معیشت میں بہتری آسکتی ہے۔
اشتہار
مقبول خبریں
امریکہ ایران مذاکرات پر آمادہ...
سید مظہر علی شاہ
سید مظہر علی شاہ
