ریلوے کج کارکردگی میں بہتری !!

اگر یہ خبر درست  ہے کہ 2024 -2025 میں پاکستان ریلوے کو 93 ارب روپے کی آ مدنی ہوئی ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے یہ بات تو طے ہے کہ وطن عزیز میں ریلوے کی سواری کو  بجا طور پر عام آدمی کی سواری کہا گیا ہے کاش کہ ارباب اقتدار نے 1947 سے ہی پاکستان ریلوے کی ترقی کی طرف خصوصی توجہ دی ہوتی جو فرنگی قیام پاکستان کے وقت ورثے میں بڑی اچھی حالت میں چھوڑ گئے تھے پر روڈ ٹریفک مافیا کے سیاسی پریشر نے گزشتہ ستر برسوں میں اس کو پنپنے نہ دیا  راولپنڈی سے لیکر براستہ کوہاٹ بنوں لکی مروت ٹانک اور منزئی ریلوے ٹریک موجود ہے اسے کشادہ کر کے اس کو ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیلایا جا سکتا ہے اور منزئی تک  اس کا جو ٹریک موجود ہ ے اسے براستہ جنوبی وزیرستان‘کوئٹہ بلوچستان سے لنک کیا جا سکتا  ہے اس سے اگر روڈ ٹریفک پر پریشر کم ہو گا تو عام آدمی کو آرام دہ سفر کی سہولت بھی میسر آ جائے گی۔فرانٹیر کانسٹیبلری کی  جسے عرف عام میں بارڈر فورس کہا جاتا ہے‘ کی تنظیم نو کے بارے میں عرض ہے کہ اس فورس  کو  قائم کرنے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اسے سابقہ صوبہ سرحد اور موجودہ  خیبر پختونخوا کے سابقہ فاٹا کے جفرافیائی طور پر لگنے والے  ریونیو ڈسثرکٹس کی سرحد پر لاء  اینڈ آرڈر  کے ضمن میں تعینات کیا جائے تاکہ وہ فاٹا سے ریونیو ڈسثرکٹس کی جانب ہو نے والی تمام نقل و حرکت پر عقابی نظر رکھ سکے  تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بسا اوقات ریونیو ڈسثرکٹس کے حکام امن عامہ کی ڈیوٹی کے واسطے پولیس کی معاونت کے لئے اس  بارڈر فورس کی پلاٹون کو بندو بستی علاقے میں بلاتے رہے   ہیں  اب شنید ہے کہ اس   بارڈر فورس کے  مینڈیٹ  میں ترمیم زیر غور ہے اس ضمن میں بہتر یہ ہوگا کہ بارڈر کے مینڈیٹ کو نہ چھیڑا جائے اگر متعلقہ حکام کے خیال میں پولیس کی موجودہ نفری  کم ہے تو وہ بارڈر فورسز کا سہارا لینے کے بجائے پولیس کی نفری زیادہ زیادہ کرے۔ اسرائیل نے سیز فائر یعنی جنگ بندی کو مذاق بنایاہواہے‘ بظاہر تو وہ اس کا اعلان کر دیتا ہے پر اس پر عمل درآمد شاذہی کرتا ہے اور سیز  فائر کے دوران بھی  نہتے فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھتا ہے اس سے بڑھ کر بھلا اور ظلم کیا ہو گا‘ نہ جانے کب اسلامی ممالک کے حکمرانوں کا ضمیر جاگے گا،اور کب وہ یکجا ہو کر صیہونی سازش کا مقابلہ کریں گے‘نیتن یاہو نے بربریت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں‘ اسرائیل کے اب تک جتنے وزرائے اعظم گزرے ہیں وہ ان سب میں ظالم ترین ثابت ہوا ہے‘ اس نے فلسطینیوں پر جتنے ظلم ڈھائے ہیں ان کا جواب نہیں۔ الون مسک کو ٹرمپ کا حمایتی سمجھا جاتا تھا‘ امریکی صدر کا اس پر بڑا تکیہ تھا پر بقول شاعر جن پے  تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘ اب مسک ٹرمپ کے لئے درد سر بن گیا ہے اور اس نے امریکی صدر پر الزام  لگایا ہے کہ وہ حد سے زیادہ اخراجات کے بل پاس کر رہا ہے اور یہ کہ  مسک اب امریکہ میں ایک نئی سیاسی پارٹی بنانے چلے ہیں‘ ٹرمپ مسک کے اس بیان پر سیخ پا ہے اسے خدشہ ہے کہ چونکہ مسک ایک بہت بڑا سرمایہ دار ہے وہ آئندہ الیکشن  میں اس کی الیکشن مہم پر فنڈنگ نہ کر کے اس کو نقصان پہنچا سکتا ہے اب دیکھتے ہیں ان دو سیاسی ہاتھیوں کی لڑائی کا انجام کیا ہوتا ہے‘سوات میں سیلابی ریلے میں کئی جانوں کے ضیاع کی بات ہو کہ عمارتوں کے بارش کے پانی سے گرنے کا معاملہ ہو‘ فائر بریگیڈ کی  عدم موجودگی یا ناقص کارکردگی عوام کو روزمرہ جن  مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کا زیادہ تر تعلق گڈ گورننس کے فقدان سے ہے۔ڈپٹی کمشنر لگانے سے پیشتر اس بات کی تسلی کر لینی ضروری  ہے کہ جس کو اس منصب پر لگایاجا رہاہے‘ کیا اس نے بطور اسسٹنٹ کمشنر کم ازکم تین سب ڈویژنوں کو چلایا بھی ہے کہ نہیں اور اس کی عمومی شہرت کیسی تھی اور اسی طرح کمشنر کی تعیناتی اس افسر کی کی جائے کہ جس نے کم ازکم دو اضلاع میں بطور ڈپٹی کمشنر کام کیا ہو اور اس کی کارکردگی پر کوئی انگلی نہ اٹھی ہو اسی  کے مطابق اضلاع میں سینئر پولیس افسران کی پوسٹنگ کرنی ضروری ہے‘۔کوئی بھی ذی شعور فرد بھارت کی وزارت خارجہ کے اس بیان سے اتفاق نہیں کرے گا کہ بھارت کا اس خودکش حملے میں کوئی ہاتھ نہیں جو میر علی شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر کیا گیا اس بات میں کوئی دو آراء نہیں کہ بھارت افغانستان کے حکمرانوں کے دست تعاون سے عرصہ دراز سے سابقہ فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث تھا‘ ہم ایک عرصے سے اس کالم کے توسط سے ارباب اقتدار سے گزارش کرتے آ رہے ہیں کہ فوراً سے پیشتر افغانیوں کی پاکستان آمد و رفت کو ایک فول پروف اور جامع ویزا سسٹم کے تابع کیا جائے جس سے پاکستانی حکام کو یہ پتہ بھی چلتا رہے کہ جو افغانی اس ملک میں آیاہے وہ ویزے کی میعاد ختم ہونے کے بعد واپس اپنے وطن چلا گیاہے اور یہ کہ ان کو ان شہروں کے نام کا ویزا دیاجائے کہ جس میں وہ آنا چاہتے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ آج