حسیب نایاب منگی شیخ ایاز سندھ کے ایک معروف شاعر، ادیب اور دانشور تھے جنہوں نے اپنی ادبی خدمات کے اعتراف میں سندھی اور اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کا اصل نام مبارک علی شیخ تھا، ان کے والد کا نام غلام حسین تھا۔ جو خود شاعر اور لا ایجنٹ تھے۔ مبارک علی شیخ ادبی دنیا میں شیخ ایاز کے نام سے مشہور ہوئے۔ ان کی شاعری، نثر اور فکری تحریریں سندھ کی ثقافت، صوفیانہ روایت، سماجی مسائل اور آزادیٔ اظہار کی عکاس ہیں۔ شیخ مبارک علی ایاز 2 مارچ 1923 کو سندھ کے تاریخی اور تمدنی شہر شکارپور سندھ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور ابتدا ہی سے علم و ادب میں دلچسپی رکھتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سے انٹر تک شکارپور میں علوم حاصل کیے ۔ سندھی، اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں سے واقف تھے۔ ان زبانوں کے ادب کا بھی بغور مطالعہ کیا ہوا تھا۔ سندھی میں ان کا ادبی استاد پروفیسر کھیئلداس فانی تھا۔ شیخ مبارک علی ایاز نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے، لیکن ان کی اصل پہچان ان کی سندھی اور اردو ادبی خدمات بنیں۔ شیخ ایاز ترقی پسند خیالات کے حامل تھے اور انہوں نے اپنی شاعری اور نثر میں سماجی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ ان کے خیالات کی وجہ سے انہیں کئی مرتبہ مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، لیکن وہ اپنے نظریات پر قائم رہے۔ شیخ ایاز کی شاعری اور نثر نے سندھ کے ادبی افق پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کا سب سے نمایاں کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی مشہور تصنیف "شاہ جو رسالو" کا اردو زبان میں ترجمہ ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں سندھ کی دھرتی، محبت، انقلاب اور انسانی حقوق جیسے موضوعات کو اجاگر کیا ہے۔ ایاز نے اردو اور سندھی میں شاعری کی، لیکن وہ بنیادی طور پر سندھی ادب کے نمائندہ شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے مشہور اردو شعری مجموعے بوئے گل نالہ دل، حلقہ میری زنجیر کا بہت مشہور ہوئے۔ ان کی اردو اور تصانیف میں کہیں بھی راہ میں منزل نہ ہو گی (خودنوشت)، دنیا ساری خواب (نثری تخلیقات) اے آہو چشم کدھر؟ (نظموں کے مجموعے) اور رسالہ شاہ عبداللطیف بھٹائی (مترجم) شامل ہیں، جو تراجم ہیں۔ ان تمام کتابوں میں ان کی فکری گہرائی اور جذبات کی شدت واضح ہوتی ہے۔ شیخ ایاز کا نثری ادب بھی انتہائی اہم ہے۔ ان کے افسانے، مضامین اور خود نوشت سوانح، سندھ کے سماجی و ثقافتی پس منظر کو پیش کرتے ہیں۔ ان کے ادبی کاموں میں جدیدیت اور روایت دونوں کا اثر نظر آتا ہے، جو انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ شیخ ایاز کو سندھی ادب میں وہی مقام حاصل ہے جو اردو میں فیض احمد فیض یا انگریزی میں شیکسپیئر کو حاصل ہے۔ انہوں نے سندھی زبان کو نئی جدت دی اور اپنی تحریروں میں عوامی جذبات کی ترجمانی کی۔ ان کی شاعری میں سندھ کی زمین، اس کے دریا، ثقافتی روایات، محبت، آزادی اور انقلاب کے گہرے رنگ نظر آتے ہیں۔ شیخ ایاز نہ صرف ایک شاعر بلکہ ایک دانشور، مفکر اور انقلابی ادیب بھی تھے۔ ان کی شاعری اور نثر آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ ان کے سندھی کتب 50 سے زیادہ ہیں جو سارے کئی مرتبہ شایع ہوچکے ہیں۔ شیخ ایاز نے صحافت بھی کی تھی۔ اس کے اداریے اور جو سندھی میگزیں آگے قدم جاری کیا اس کی بھی دوبارہ اشاعت ہوئی ہے۔ شیخ ایاز سندھ کی دھرتی کے شاعر تھے، لیکن ان کے خیالات اور تحریریں ہر اس انسان کے لیے اہم ہیں جو آزادی، محبت اور انصاف پر یقین رکھتا ہے۔ ان کی ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا نام سندھ اور برصغیر کے بڑے ادیبوں میں شمار ہوتا رہے گا۔ سندھ کا عظیم شاعر شیخ مبارک علی ایاز 28 ڈسمبر 1997ء کو انتقال کرگئے ان کی آخری آرامگاہ بھٹ شاہ (حیدرآباد) میں ہے۔
اشتہار
مقبول خبریں
غیرت کے نام پر قتل:قابل مواخذہ
مہمان کالم
مہمان کالم
نظریات کی جنگ
مہمان کالم
مہمان کالم
پرل ہاربر سے خلیج فارس تک
مہمان کالم
مہمان کالم
