تحریر : ڈاکٹر ثانیہ کھیڑا کے قلم سے(لاہور)
پاکستان کے صحت کے نظام میں اگر کسی ایک شعبے کو ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو وہ نرسنگ ہے۔ ہسپتالوں کے وارڈز سے لے کر ایمرجنسی، آپریشن تھیٹرز، آئی سی یوز اور دیہی مراکزِ صحت تک، مریض کی براہِ راست دیکھ بھال کا بوجھ بڑی حد تک نرسز کے کندھوں پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر تشخیص کرتا ہے، مگر مریض کی مسلسل نگرانی، ادویات کی بروقت فراہمی، جذباتی معاونت اور طبی ہدایات پر عملدرآمد نرس ہی یقینی بناتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی ملک کے صحت کے نظام کا معیار اس کی نرسنگ فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تربیت اور ادارہ جاتی استحکام سے جڑا ہوتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ کئی برسوں سے پالیسی ابہام، انتظامی بے یقینی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کا شکار ہے۔ اس صورتحال کا مرکز پاکستان مڈوائفری نرسنگ کونسل ہے، جو ملک بھر میں نرسنگ اور مڈوائفری کی تعلیم، رجسٹریشن اور ریگولیشن کی ذمہ دار اتھارٹی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف نصاب، امتحانات اور لائسنسنگ کے معاملات دیکھتا ہے بلکہ نرسنگ کالجز کی منظوری اور انسپیکشن کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ ایسے میں اگر خود ریگولیٹر ہی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہو تو اس کے اثرات پورے نظام پر پڑنا ناگزیر ہیں۔حالیہ دنوں وزارتِ قومی صحت کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں چند افراد کو کونسل کے نومینیٹڈ ممبران کے طور پر شامل کیا گیا۔ اسی کے ساتھ دوسرے اجلاس کے انعقاد کا اعلامیہ بھی سامنے آیا جو 10 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہونا ہے۔ بظاہر یہ پیش رفت تعطل کے خاتمے کی جانب ایک قدم معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے ساتھ کئی بنیادی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔سب سے اہم سوال شفافیت اور میرٹ کا ہے۔ نرسنگ ایک تخصصی اور تکنیکی شعبہ ہے جس میں پالیسی سازی کے لیے محض نمائشی تقرریاں کافی نہیں ہوتیں۔ کونسل کے ممبران کے پاس نہ صرف وسیع پیشہ ورانہ تجربہ ہونا چاہیے بلکہ انہیں نرسنگ تعلیم، کلینیکل پریکٹس اور انتظامی ڈھانچے کی باریکیوں کا بھی ادراک ہونا ضروری ہے۔ اگر تقرریاں واضح معیار اور کھلے طریقہ? کار کے بغیر کی جائیں تو شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری امر ہے۔اطلاعات کے مطابق نومینیٹڈ ممبران میں دو خواتین کا تعلق نرسنگ سے ہے، تاہم نرسنگ حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ان کے انتخاب کا معیار کیا تھا اور کیا اس عمل میں سینئر نرس ایجوکیٹرز، پرنسپلز اور کلینیکل ماہرین سے مشاورت کی گئی؟ اسی طرح ایک وکیل اور ایک نجی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مختلف شعبوں کی نمائندگی یقیناً ادارہ جاتی تنوع پیدا کر سکتی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ نرسنگ کے تکنیکی اور تعلیمی معاملات میں ان کی مہارت کس حد تک معاون ثابت ہوگی؟یہ امر بھی تشویشناک ہے کہ پرائیویٹ نرسنگ کالجز، جو ملک میں نرسنگ تعلیم کا بڑا حصہ سنبھالے ہوئے ہیں، اس پورے عمل میں خود کو نظر انداز محسوس کر رہے ہیں۔ ہزاروں طلبہ و طالبات کی تعلیم، امتحانات، کلینیکل ٹریننگ اور مستقبل انہی اداروں سے وابستہ ہے۔ اگر پالیسی سازی میں ان کی رائے شامل نہ ہو تو فیصلے زمینی حقائق سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ نتیجتاً تنازعات، قانونی پیچیدگیاں اور انتظامی رکاوٹیں جنم لیتی ہیں۔کونسل کا پہلا اجلاس بھی بدقسمتی سے کسی واضح نتیجے تک نہ پہنچ سکا اور اختلافات کی نذر ہو گیا۔ ایسے میں 10 مارچ کا اجلاس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس اجلاس میں نہ صرف صدر کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے بلکہ ادارے کی آئندہ سمت کا تعین بھی ہونا ہے۔ اگر قیادت کا انتخاب متنازع یا غیر شفاف انداز میں ہوا تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ایک اور اہم پہلو سیکرٹری کے عہدے کا ہے۔ پیشہ ورانہ کونسلز کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان کی انتظامی قیادت متعلقہ شعبے کی باریکیوں سے واقف ہو۔ دنیا بھر میں نرسنگ کونسلز کی قیادت عموماً اسی شعبے کے تجربہ کار افراد کے سپرد کی جاتی ہے تاکہ پالیسی سازی عملی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اگر انتظامی عہدے ایسے افراد کے پاس ہوں جو نرسنگ کے پیشہ ورانہ چیلنجز سے براہِ راست واقف نہ ہوں تو پالیسی اور عمل کے درمیان فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔اجلاس کے بعد نرسنگ کالجز کے انسپیکشن وزٹس کا آغاز بھی متوقع ہے۔ یہ مرحلہ نہایت حساس ہے کیونکہ اس پر کالجز کی منظوری، طلبہ کے امتحانات اور رجسٹریشن کا انحصار ہے۔ انسپیکشن کا عمل شفاف، یکساں اور واضح معیار پر مبنی ہونا چاہیے۔ اگر یہ عمل جلد بازی، جانبداری یا انتظامی دباؤ کا شکار ہوا تو اس کے نتائج نہ صرف اداروں بلکہ طلبہ کے مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب کریں گے۔یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان اس وقت تربیت یافتہ نرسز کی شدید کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، پھیلتی ہوئی بیماریوں اور جدید طبی سہولیات کی ضرورت کے پیشِ نظر نرسنگ فورس کی تعداد اور معیار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ اگر ریگولیٹری ادارہ ہی عدم استحکام کا شکار رہے گا تو نہ نئے کالجز مؤثر انداز میں کام کر سکیں گے اور نہ ہی موجودہ ادارے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں گے۔یہ مسئلہ محض تقرریوں یا اجلاسوں تک محدود نہیں بلکہ قومی صحتِ عامہ کا معاملہ ہے۔ ایک کمزور نرسنگ نظام کا مطلب ہے مریضوں کی ناقص دیکھ بھال، ہسپتالوں پر دباؤ اور طبی نظام کی مجموعی کارکردگی میں کمی۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو وقتی انتظامی فیصلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ اسے پالیسی سطح پر سنجیدگی سے لیا جائے۔وفاقی وزیر صحت Mustafa Kamal اور وزیرِاعظم پاکستان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ کونسل کی تشکیلِ نو، واضح قواعد و ضوابط، شفاف تقرریوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ذریعے ایک مضبوط اور خودمختار ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقت ذاتی یا گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلہ سازی کا ہے۔اگر 10 مارچ کا اجلاس واضح لائحہ عمل دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے، صدر اور سیکرٹری کے تقرر میں میرٹ کو یقینی بنایا جاتا ہے، اور انسپیکشن کے عمل کو شفاف بنایا جاتا ہے تو یہ نرسنگ شعبے کے لیے ایک نئی شروعات ہو سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر، یہ بحران مزید طول پکڑ سکتا ہے اور اس کے اثرات آنے والے برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔فیصلوں کی یہ گھڑی دراصل پاکستان کے صحت کے مستقبل کی گھڑی ہے۔ نرسنگ کے طلبہ، اساتذہ، ادارے اور سب سے بڑھ کر مریض اس بات کے منتظر ہیں کہ ریاست ایک واضح، شفاف اور پیشہ ورانہ سمت کا تعین کرے۔ اگر آج درست بنیادوں پر اصلاحات کی گئیں تو کل ایک مضبوط، بااعتماد اور عالمی معیار کی نرسنگ فورس ملک کا اثاثہ بن سکتی ہے۔ ورنہ انتظامی انتشار کا یہ سلسلہ صحت کے نظام کو مزید کمزور کرتا رہے گا۔
