غزہ میں انٹر نیشل سٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی کے لئے دوحا میں امریکی میزبانی میں بلائی جانے والی عالمی کانفرنس میں کم ازکم پندرہ ممالک نے شرکت نہیں کی۔ آذربائیجان نے تو اسرائیل کے ساتھ پہلے سے موجود سفارتی تعلقات کے باوجود اپنے فوجی دستے بھیجنے سے صاف معذرت کرتے ہوئے ابراہیم اکارڈ تک کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا یہی جاتا ہے کہ غزہ کے لئے ’ٹرمپ منصوبے ‘کا حصہ بننے والے اکثر ممالک اب عالمی فورس کی سربراہی، حماس کو غیر مسلح کئے جانے سمیت ’رولز آف انگیجمنٹ‘ پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ڈان اخبارکے مطابق یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ پاکستان نے اس معاملے پر کیاموقف اپنایا ہے ۔ تاریخی طور پر پاکستان اور امریکہ کے مابین رشتہ ’سکیورٹی خدمات برائے امداد‘ کی مساوات پر استوار اور تعلقات کی نو عیت ہمیشہ Transactionalرہی ہے۔ بھارت روز اول سے ہی امریکہ کا فطری اتحادی رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی حیثیت ہر دور میں شخصیات پر استوار ایک ’کلائنٹ سٹیٹ‘ سے زیادہ نہیں رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ دو طرفہ سرد مہری کے باوجود اپریل 2022 ء کے بعد قائم ہونے والے حکومتی بندوبست کو صدر بائیڈن انتظامیہ کی خاموش تائید حاصل تھی۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات حتی کہ فروری 2024ء میں بڑے پیمانے پر نتائج تبدیل کئے جانے جیسے معاملات کی جانب توجہ دلائے جانے کے باوجود امریکی انتظامیہ کی طرف سے ان الزامات کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتے ہوئے نظر اندازکیا جاتا رہا۔ امریکی کانگرس میں غیر معمولی اکثریت کے ساتھ پے درپے قراردادیں منظور ہونے کے باوجود بائیڈن انتظامیہ کے کانوں پرکبھی جوں تک نہ رینگی۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد سے قائم ہونے والی آمریتوں، محکوم قوموں کے قدرتی وسائل پر قبضے کے لئے دنیا پر مسلط کی جانے والی امریکی جنگوں اور اسرائیلی مظالم کے ستائے ہوئے دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں نے صدر ٹرمپ کے ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ ‘ ہونے کے تاثر کی بناء پر اُن سے بہتری کی توقعات وابستہ کر لیں۔ خود ہمارے ہاں صدرٹرمپ کی فتح کے امکانات نے مہینوں سرکاری حلقوں میںسراسیمگی طاری کئے رکھی۔ تاہم مئی 2024 ء کے بعد رونما ہونے والے واقعات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ یقینا ایسا راتوں رات نہیں ہو ا ہوگا۔ عالمی فورمز پرہماری حکومتی شخصیات کی مدح سرائی میں صدر ٹرمپ کا انداز اب اِس قدر بلند آہنگ ہے کہ جس کی مثال دو ملکوں کے تعلقات کی Transactional تاریخ میںبھی نہیں ملتی۔ یقیناً ہمارے زعماء اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کاروباری ذہنیت کے مالک صدر ٹرمپ اس ملک کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں کہ جہاں کسی کو ایک وقت کا کھانا بھی مفت نہیں کھلایا جاتا ۔کیا ہمارے ساتھ ان کی غیر معمولی محبت کے پس پشت محض کسی خاص شخصیت کا دبنگ ہونا ہے؟ پاکستان کی معیشت امریکی سرپرستی میں قائم عالمی معاشی اداروں کے سہارے کھڑی ہے۔ ملکی معیشت کا جائزہ لیتے ہوئے آئی بی اے کراچی کے سربراہ اکبر زیدی اپنے حالیہ مضمون میں عالمی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کی مدد سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پاکستان ہر گزرتے دن کے ساتھ علاقے کے دیگر ممالک سے ہی نہیں خود اپنے ہر پچھلے دن کے مقابلے میں بھی پستی کی طرف گامزن ہے۔ صرف زیدی صاحب نہیں،اکثرغیر جانبدار اور متین طبع معاشی تجزیہ کاروں کی عمومی رائے یہی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کی مدد سے ڈیفالٹ روکنے میںتو کامیاب ہو گیا، تاہم معیشت اب stablization سے Growthکی طرف جانے کی بجائےstagnation میں جا چکی ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکی اثر و رسوخ کے نیچے کام کرنے والا عالمی معاشی نظام اگر قرضے روک دیتا ہے یا شرائط مزید سخت کر دیتا ہے توکیا لڑکھڑاتی معیشت پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے؟مودی سرکار آپریشن سندور کی شکل میں اپنے تکبر اور اندازے کی ایک بڑی غلطی کے احمقانہ امتزاج کے نتیجے میں دھول چاٹنے کے بعد بدلے کی آگ میں جل رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے یا امن کی بات تک کرنے کو وہ اپنی سیاسی موت کے مترادف سمجھتی ہے۔ افغانستان کے خلاف کی جانے والی عسکری کاروائی کے بعد طالبان کے خلاف غیر ضروری بیانات کے نتیجے میں اگر بھارت اور افغان طالبان ہمارے نقصان کو اپنا مشترکہ مفادسمجھنے لگیں توکیاصورتحال کو ہماری سفارتی کامیابی کہا جائے گا یا ناکامی؟ اندریں حالات پوچھا جا سکتا ہے کہ عوامی تائید سے محروم ایک ایسی حکومت کہ جس کی بقاء امر یکی حمایت کی مرہونِ منت ہو، جس کی معیشت مغربی معاشی اداروں کی بیساکھیوں کے سہارے کھڑی ہو،دہشت گردی کی پشت پناہی میں جس کے ازلی دشمن کے عزائم ہمارے مغربی ہمسائے کے ساتھ ہم آہنگ ہوچکے ہوں، کیا ٹرمپ کے ساتھ اپنی شرائط پرکوئی معاملہ کر سکتی ہے؟ کوئی ایسی حکومت کیا پاک امریکہ تعلقات میں ایک بار پھر پیدا ہونے والے تنائو کی متحمل ہو سکتی ہے؟ یہ درست ہے کہ اندرونی محاذ پر بظاہرہر قسم کی سیاسی یا ادارہ جاتی مزاحمت کو کامیابی سے کچل کر ریاست خود کو ’ہارڈ سٹیٹ‘ منوانے میںکامیاب ہو چکی ہے۔ بیرونی محاذ پر درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے اندورنی محا ذپر قومی یکسوئی مگرلازم ہے۔ یہاںسوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حکومتی بندوبست سے متعلق عوامی بے چینی ختم ہو گئی ہے؟ بھارت ایک مستحکم اور بڑی اکانومی ہے۔ تا حدِ نظر مستقبل کی پیش بینی یہی بتاتی ہے کہ وہ ہمارے سر پر کثیر الجہت اعصابی جنگ مسلسل مسلط رکھے گا۔ ابھی کل ہی پاکستان نے بھارت کو دریائوں کا پانی روکے جانے کی با قاعدہ شکایت کی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے دو صوبوں میں جہاں بھارتی ایماء پر دہشت گرد شورش برپا کئے ہوئے ہیں ان کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ ملتی ہیں۔خطے میں طالبان بھارت گٹھ جوڑ ہر گز نیک شگون نہیں۔ دہشت گردی کا تدارک محض کابل پر بمباری، طعنہ زنی یا اپنی افواج کو دائمی طور پر آپریشنز میں الجھائے رکھے جانے میں نہیں، عوام کو ان کے حقوق لوٹانے، نمائندہ حکومتوں کے قیام اور قومی یکجہتی میں پنہاں ہے۔ کئی محاذوں پرطویل المدت جنگ لڑنے کے لئے ہمیںمستحکم اور پائیدار بنیادوں پر استوار معیشت درکار ہے۔ معیشت کی نمو مگر انہی معاشروں میں ممکن ہے جہاں امن و امان ہو، سیاسی استحکام ہو ، قومی ادارے آزاد اورسب چھوٹے بڑے قانون کے تابع ہوں۔ امریکہ تاریخی طور پر معاملات ہمارے ہاں شخصیات کے ساتھ طے کرتا چلا آرہاہے۔یاد رکھنے کی بات مگر یہ ہے کہ وہ اِن میں سے کبھی کسی کی دائمی محبت میںگرفتارنہیں ہوتا۔
175