برسوں پہلے لکھی گئی ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ فیلڈ مارشل ایوب خان کی مشہورِزمانہ خو دنوشت ہے۔ کتاب میں خارجہ پالیسی سے متعلق دو ابواب پڑھیں تو لگتا ہے کہ وقت کہیں وہیں ٹھہراہواہے۔ کتاب کے انہی ابواب میںامریکی دورے سے متعلق اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے صدر ایوب لکھتے ہیںکہ صدر کینیڈی کو انہوں نے وائٹ ہائوس میں اُداسی، تنہائی اور کسی حد تک تھکاوٹ کے احساسات کے زیرِ اثر پایا۔ یوں دکھائی دیتا تھا جیسے وہ اپنے ساتھیوں کے مکمل تعاون اور وفاداریوں سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر کینیڈی کے بعد صدر ٹرمپ دوسرے امریکی صدر ہیں، جنہوں نے امریکی ’ڈیپ سٹیٹ ‘سے مخاصمت کی راہ اپنائی۔صدر ٹرمپ نے دوسری بارصدارتی امیدوار بننے کا ارادہ ظاہر کیا توان کے راستے میں ہر ممکن رکاوٹ ڈالی گئی۔ ماضی کے جنسی تعلقات سمیت ا ُن کے پہلے دورِ صدارت کو کھنگا لتے ہوئے ان کے خلاف درجنوں مقدمات بنائے گئے اور سخت سزائیں دلوائی گئیں۔ صدرٹرمپ نے صدارتی الیکشن جن وعدوں پر لڑا ان میں دنیا بھر سے جنگوں کا خاتمہ اور کٹھ پتلی حکومتوںکی پشت پناہی ترک کئے جانے جیسے و عدے سرفہرست تھے۔ چنانچہ دنیا بھر میں جنگوں کی تباہی اور مطلق العنان حکمرانوں کے مظالم سے ستائی ہوئی قوموں نے اپنی امیدیں انہی سے وابستہ کر لیں۔ امریکہ میں آباد لاکھوں مسلمانوں سمیت کروڑوں کثیر النسل تارکینِ وطن نے انہیں ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا۔صدر ٹرمپ نے Isolationist پالیسی اپناتے ہوئے امریکہ کو معاشی طور پر ایک بار پھر عظیم بنانے کا وعدہ کیا تو دائیں بازو کے سفید فام ارب پتی بھی اُن کی پشت پرآن کھڑے ہوئے ۔خود پر قاتلانہ حملے سمیت تمام رکاوٹوں کے با وجود صدر ٹرمپ واضح برتری کے ساتھ دوسری بارامریکی صدر منتخب ہو نے میں کامیاب ہوگئے۔ منتخب ہونے کے فوراََ بعد انہوں نے اپنے ارب پتی مشیر ِخاص کو مشرقِ وسطیٰ بھیج کرجنگ بندی کروائی ۔یوکرین کی جنگ میں مزیدامریکی امداد جھونکنے سے انکار کرتے ہوئے یورپ کو اپنے دفاع کے اخراجات خود برداشت کرنے اور یوکرینی صدر کو پیوٹن سے مذاکرات کا مشورہ دیا۔اندرونی طور پر انہوں نے دنیا بھر میں حکومتوں کے تختے الٹنے اور ’ڈیپ سٹیٹ‘ کی جانب سے بیانیہ سازی کے لئے بے دریغ استعمال ہونے والی یو ایس ایڈ کو لپیٹنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ ہی ماہ بعد انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا۔ اربوں ڈالرز کے معاہدے کئے، اور نیتن یاہو کو سرے سے نظر انداز کیا۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے خود کو نظر انداز کئے جانے پرتوپُراِسرار خامو شی برقرار رکھی، تاہم جہاں ایک طرف وہ غزہ میں بے گناہ عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے قتلِ عام میں مگن رہا تووہیںایران کے ایٹمی پروگرام پر اس کا واویلہ یکا یک بلند آہنگ ہونے لگا۔بظاہر یہ کئی غیر مرئی عوامل کے دبائو کا ہی نتیجہ تھا کہ دنیا سے جنگیں سمیٹنے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والے صدر ٹرمپ نے جلد ہی ایران کوایک خاص مدت کے اندراپنا ایٹمی پروگرام ترک کرنے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے بے لچک رویہ اختیارکر لیا۔ایران نے تما م تر غیر اخلاقی و غیر سفارتی لب و لہجے کے باوجود مذاکرات سے کبھی انکار نہ کیا۔ چنا نچہ کئی روز کی بیک ڈور سرگرمیوں کے بعد ایران اور امریکہ کے بالواسطہ مذاکرات طے پا گئے۔ تاہم اس سے پہلے کہ امریکی وزیرِ خارجہ طے شدہ مذاکرات کے لئے اومان پہنچتے، عین ایک روز قبل نیتن یاہو نے ایران کے خلاف مجرمانہ جارحیت کا ارتکاب کر دیا۔ صدر ٹرمپ کے پاس اسرائیلی جارحیت کی حمایت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا ۔ ایران کو دھمکیوں اور ایرانی مذہبی پیشوا کے بارے میں نازیبا گفتگو کے باوجود صدر ٹرمپ نے بات چیت کو ایک اور موقع دینے اور دو ہفتوں تک ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت سے باز رہنے کا وعدہ کیا۔ تاہم اس اعلان کی بازگشت ابھی فضاء میں تھی کہ امریکہ سے براہِ راست بمبار طیارے اڑے اور ایران پر حملہ ہوگئے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ حملے سے دو روز قبل ایران کو مجوزہ کاروائی سے مطلع کر دیا گیا تھا۔ حملے سے اگلے روز امریکی صدر نے اعلان کیا کہ چونکہ ایران کی جوہری صلاحیت تباہ کر د ی گئی ہے، لہٰذا اب وہ خطے میں امن قائم کرنے جا رہے ہیں۔سیز فائر کے اعلان کے بعدصدر ٹرمپ نیٹو اجلاس میں شمولیت کے لئے روانگی کے لئے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے تو بھُنّائے ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے قبل وہ نیتن یاہو کو سیز فائر کی خلاف ورزی پرصلواتیں سنا چکے تھے۔ صدر ٹرمپ کی اس جھنجلاہٹ کا سبب کیا تھا؟ کیا نیتن یاہو اُن کی پیٹھ پیچھے کچھ اور قوتوں سے بھی رابطے میں رہا؟ صدر ٹرمپ ایران پر اگلے دو ہفتوں تک حملہ نہ کرنے کے اپنے وعدے پر قائم کیوں نہ رہ سکے؟ حملہ کرنا ہی تھا توایران کو پیشگی اطلاع دینے کا کیا جواز تھا؟ ٹرمپ کی جانب سے سیز فائر کے باوجود نیتن یاہو کس کے ایماء پر ایران کے خلاف ان مہلک ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے پایا گیا کہ جن کے متعلق بقول صدر ٹرمپ ،خود ا نہوں نے پہلی بارسُنا؟ سیز فائر کے بعدصدر ٹرمپ کے چڑچڑے پن کا کیا یہی ایک سبب تھا یاکہ کسی غیرمرئی طاقت کی جانب سے امر یکی ریاستی فیصلوں پر اثر انداز ہو نے کا ادراک ان کی جھجلاہٹ کے پیچھے کارفرما تھا ؟ جارحیت کے بارہ دنوں میں اسرائیلی جنگی اخراجات کا تخمینہ ایک ٹریلین ڈالرزکے قریب بتایا جاتا ہے۔امریکہ نے بھی ضرور کروڑوں ڈالرز خرچ کئے ہوں گے۔ یہ وہی ڈالرز ہیں جو صدر ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم میں امریکی عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہی اربوں ڈالرزاب ہمیشہ کی طرح امریکی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی جیبوں میں گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخاب جن کلیدی وعدوں پر لڑا ان میں دنیا سے جنگوں کا خاتمہ اور امریکی ڈیپ سٹیٹ کی طرف سے امریکی امداد سمیت مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے جمہوری حکومتوں کے خاتمے اور امریکی مفادات کے نگہبان مگر غیر مقبول کٹھ پتلی حکمرانوںکی حمایت جیسی پالیسیوں کا خاتمہ شامل تھے۔ اپنے اقتدار کے چند ہی ماہ کے اندر صدر ٹرمپ ان دونوں وعدوں سے پیچھے ہٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ کیاڈیپ سٹیٹ کے ساتھ ان کی جنگ اب بھی جاری ہے؟ یاکہ صدر کینیڈی کی طرح وہ بھی بے بسی کے عالم میںاب رفتہ رفتہ تنہائی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ جنگ کے فوراََ بعد نیویارک کی میئر شپ کی دوڑ میں نوجوان ڈیموکریٹ زہران ممدانی کا منظر نامے پر اُبھرنا ،امریکی معاشرے میں تبدیلی کی اُسی منہ زور لہر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جس پر سوار ہو کر صدر ٹرمپ دوسری بار وائٹ ہائوس پہنچے تھے۔ صدر ٹرمپ رہیں یا نہ رہیں، نوجوان نسل کی رگوں میں دوڑتی اس لہر کے سامنے تادیر بند باندھے رکھنا اب امریکی ڈیپ سٹیٹ کے بس کی بات نہیں رہی۔
114