58

مغربیت ، اشتراکیت اور کابل پر قابض گروہ !

’فکرِ اقبال ‘ میںڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم لکھتے ہیںکہ’ اقبال یورپ کے کافروں کو عملاََ اسلامی اخلاقیات کا زیادہ پابند مگر روحانیت سے عاری اورمادیت کا اسیرسمجھتا ہے‘۔ مغرب میں جدید نظریات اور علوم کے فروغ کے نتیجے میں بے حساب مادی ترقی ہوئی ۔ انہی مغربی مصلحین کی کوششوں سے بادشاہتوں کا خاتمہ ہوا اور جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں۔بادشاہوں کے دور میں اقتدار جاگیرداروں کے ہاتھوں میں تھا ، اب سرمایہ دار بھی حکومتوں میں وزیر مشیر ہو گئے۔ اشتراکیت اسی نظام کے خلاف ردعمل تھا۔اشتراکیوں نے تاریخِ اقوامِ عالم کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ مذہبی پیشوا اِس استعماری نظام کے روزِ اول سے معاون رہے ہیں۔ اقبال کے نزدیک ’اشتراکیت نے بت شکنی تو کر لی ،مگرالاللہ تک نہ پہنچ سکا۔ چنانچہ اسلامی افکار کے قریب تر ہونے کے باوجودالحاد اور مادیت کو یکجا کردیا‘۔ مغرب اور اشتراکیت میں سرد جنگ اِسی مادیت کے میدان میں لڑی گئی۔ آج یوکرین کی جنگ ہو، مشرقِ وسطیٰ میں صہیونیت کے ہاتھوں فلسطینیوں کی انسانیت سوزنسل کشی ہو،امریکی’ بیک یارڈ‘ میں وینزویلاکی قائدِ حزبِ اختلاف کی امن کے نوبل انعام کے لئے نامزدگی ہو ،یا ہمارے پڑوس میں دہشت گردی کا گڑھ افغانستان ، سب اِسی مادی کشمکش کا شاخسانہ ہیں۔ جنگِ عظیم اوّل دو عہد ساز واقعات پر اختتام پذیر ہوئی۔ پہلاواقعہ جرمنی جیسی عظیم قوم کو پستول کنپٹی پر رکھ کر ’ٹریٹی آف ورسائے ‘ پر مجبور کئے جانا اور دوسرا 1917ء کے اندر روس کا بالشویک انقلاب ۔ یکطرفہ شرائط پر مبنی جنگ بندی کے ذلت آمیز معاہدے کے نتیجے میں غیور جرمن قوم کے اندر’ریڈیکل اتھارٹیٹو نیشنلزم‘ پر مبنی اُن انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ ملا،جنہیں آج ہم ’فاشزم‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں۔ دوسری طرف بالشویک انقلاب نے اشتراکیت سے خوفزدہ ’لبرل جمہوری‘ ملکوں کے سرمایہ داری نظام میں خوف کی لہر دوڑا دی۔ چنانچہ ان جمہوری ممالک نے اٹلی اور جرمنی میں فاشزم کو کمیونزم کا تدارک سمجھتے ہوئے میسولنی اور ہٹلر جیسے ڈکٹیٹرز کے اقتدار پر قبضے کی راہ ہموار کی۔ ہٹلر نے جرمنی کی کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی توسرمایہ دار اور جاگیردار طبقات نے ہٹلر کی حمایت شروع کر دی۔ لبرل جمہوریت پسندوں کا رویہ بھی فاشسٹ آمر کے ساتھ ہمدردانہ تھا۔ان سب طبقات کا مشترکہ حدف کمیونسٹوں کواُسی جمہوری نظام کے ذریعے اقتدار میں آنے سے روکنا تھا کہ جس کے یہ سب داعی تھے۔تاہم یہی فاشسٹ جرمنی جب اِرد گردملکوں پر چڑھ دوڑا تو جمہوری ملکوں اور سٹالن کے کمیونسٹ روس نے دوسری جنگِ عظیم اُس کے خلاف مل کر لڑی۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد بدگمان اتحادیوں کے درمیان سرد جنگ مختلف اَدوار سے ہوتی ہوئی ہر گزرتے دن نام نہاد جمہوریت پسند مغربی ممالک کے دوغلے پن کا پردہ چاک کرتی چلی گئی۔ بیسویں صدی کے نصف میں مغربی استعماری طاغوت کے زیرِ تسلط چین سمیت محکوم قوموں نے اپنی اُمیدیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے وابستہ کر لیں ۔ برطانوی انٹیلیجنس کے بطن سے جنم لینے والی سی آئی اے نے مگر ایران میں تیل کے کارخانوں کو قومیانے والی منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اپنے ارادوں کو جلد ہی آشکار کر دیا۔ ایک جابرشہنشاہ ایرانی عوام پر ایک بار پھر مسلط کر دیا گیا۔ کئی عشروں کے بعد جب سوشلسٹ طلباء اور مذہب پسندوں نے اسی بادشاہ کا تختہ ایک خونریز تحریک کے ذریعے الٹاتو سوشلسٹوں کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لئے اسلام پسندوں کی پشت پناہی کی گئی۔ نتیجے میں جو کٹّر مذہبی حکومت قائم ہوئی اس کی جگہ عشروں سے اب وہی مغربی ممالک ایک’ جمہوری حکومت‘ کے قیام کی سازشوں میں مصروف ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں بھی بنیادی طور پراشتراکیت پسندوں سے نبرد آزما ہونے کی خواہش میں ہی صہیونی ریاست کاقیام عمل میں لایا گیا۔ مصر اور عراق میں بائیں بازو سے وابستہ حکمرانوں کو کمزور کئے جانے کے لئے ہی اخوان جیسی تحریکوں کی آبیاری کی گئی۔ عشروں بعد یہی اخوان مصر میں جمہوری حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تواُن کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر ایک سفاک فوجی آمرکو مسلط کر دیا گیا۔ دوسری طرف کسی بھی جنوب امریکی حکمران نے عوامی امنگوں کے مطابق ملکی وسائل کے استعمال کا فیصلہ کیا تواسے سوشلسٹ قرار سے کر جنرل پنوشے جیسے ظالم آمروں کے ذریعے کسی بھی مقبول جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے سے گریز نہ کیا گیا۔ اقبال نے مغرب اور اشتراکیت کے درمیان روحانیت سے عاری جس مادی کشمکش کی نشاندہی کی تھی نصف صدی سے زیادہ عرصے تک دنیا پر مسلط رہنے والی سرد جنگ کو اس کا عملی مظاہرہ کہا جا سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور خود ہمارے خطے میں مگر ’پولیٹکل اسلام ‘ کواس’ مادی کشمکش ‘میں ’روحانیت ‘پھونکنے کے لئے بروئے کار لایا گیا۔ اِنہی عالمی کوششوں کے زیرِ اثر ہی اَسّی کی دہائی میں افغانستان میں ملحدسوویت یونین کے خلاف مجاہدین میدان میں اتارے گئے۔ درحقیقت یہ جہاد ’گریٹ گیم‘ کے نام پر رچائے جانے والے اُسی کھیل کا فائنل ایکٹ تھا، جو گزشتہ دو صدیوں سے خطے میں بڑی طاقتوں کے درمیان کھیلا جا رہا تھا۔سوشلزم کے افغانستان سے سمٹنے کے بعدمگر انہی مجاہدین کو شدت پسندکہاجانے لگا۔ پھر وہی شدت پسند،دہشت گرد کہلائے جانے لگے۔نوے کی دہائی میں ہمارے منصوبہ سازوں کو کچھ اور ہی سوجھی۔انہی جتھوںکی مدد سے وہ افغانستان میں ’سٹریٹیجک ڈیپتھ‘ ڈھونڈنے لگے۔ اکیسویں صدی میں بساط پلٹی تو ہم ’ اچھے اور برے طالبان ‘کی تمیز میں مصروف ہو گئے۔ آج وہی’اچھے اور برے طالبان‘ مل کرکابل پر قابض ہیں ۔ افغانستان اب ان کی ’سٹریٹیجک ڈیپتھ‘ ہے۔ یہی دہشتگرد اب ہمیں سوویت یونین اور امریکہ کے انجام سے ڈرا رہے ہیں۔ عشروں پہلے جب چند افراد پر مشتمل ٹولہ افغانستان میں ’سٹریٹیجک ڈیپتھ ‘پیدا کر رہا تھا یا بعد میں آنے والادوسرا ٹولہ دنیا کو اچھے اور برے طالبان کی تمیز سکھا رہا تھا تو پاکستان یا افغانستان میں بسنے والے کروڑوں لوگوں سے کسی نے ان کی رائے نہیں پوچھی تھی۔ آج بھی فیصلہ سازی میں عوامی شراکت دار کو ضروری نہیں سمجھا جا رہا۔ چند حواری اور کاسہ لیس مگر کابل پر مسلط انتہا پسند ٹولے کی آڑ میں پوری کی پوری افغان قوم کو’احسان فراموش‘قرار دے رہے ہیں۔ کوئی مگر پاکستانیوں کو یہ نہیں بتارہاکہ طالبان کے مظالم سے اکتائے ہوئے لاکھوں افغانی آخر پاکستان سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں؟ جن لوگوں نے اپنے گھروں میں مرغیاں پالی ہوں وہ جانتے ہیں کہ چوزے سارا دن باہردانا دنکا چگنے کے بعد شام ڈھلے گھروں کو واپس لوٹتے ہیں۔ 1809ء میں Robert Southey نے منظوم اساطیری داستان of Kahama Curses میں لکھا کہ چوزوں کی طرح curses بھی ہمیشہ گھروں کو واپس لوٹ کر آتی ہیں۔ ان کی یہ بات اب انگریزی زبان میں ضرب المثل بن چکی ہے۔ کسی زمانے میں ہنستے بستے کابل کو کھنڈرات میں بدلنے اور اب ان کھنڈروں پر قابض متروک سوچ کو ہم نے عشروں اپنے پروں تلے چوزوں کی طرح پالا ہے ۔

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز