ازکار رفتہ سپاہی کسی کا ترجمان نہیں ہے۔ ٹھیک سے یہ بھی نہیں جانتا کہ ادارے کے اندر کیا سوچ پنپ رہی ہے۔ تاہم اپنے جیسوں میں رہتا ہوں۔ اسی لئے جانتا ہوں کہ ہم جیسے اکثر کیا سوچ رہے ہیں۔ ہمارے اندر سے ہی مگر آج کل کچھ ایسے بھی متحرک ہیں جو خود کو ’پوپ سے زیادہ پرہیز گار‘ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم جیسے مگر جانتے ہیں کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ رنجشیں گو جلد ہی جاتی رہتیں۔ اگرچہ چند استثنائی ہر زمانے میں پائے گئے کہ جو کچھ تعصب، کچھ لاعلمی تو یا پھر ذاتی مفادات و وجوہات کی بناء پر ادارے سے دائمی مخاصمت رکھتے رہے۔
پاکستان کے عوام نے خاکی سے مگر عشروں بلا مشروط محبت کی ہے۔ خود از کار رفتہ سپاہی نے لگ بھگ چار قرن یہی محبت سمیٹی ہے۔ ایک خاص رینک کے بعد دستیاب ہونے والی مالی مراعات اور اثاثوں کی بابت کوئی بات عوام سے کبھی ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ لیکن پاکستانیوں نے اسی پیار سے ادارے کو اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ آخر آج یہ اتنا شور کیوں ہے؟ آخر کچھ نا کچھ تو بدلا ہے۔ کلیدی سوال مگر یہ ہے کہ کیا رویوں میں تبدیلی مستقل ہے؟ یا کہ محض کسی ایک فرد یا افراد سے منسلک ہے کہ منظر سے جنہیں ہٹا دیا جائے تو باہم اعتماد کا رشتہ بلا رد و کد بحال ہو جائے گا؟ ان اور ان جیسے کئی دیگر سوالات کے جوابات ڈھونڈنے سے پہلے ضروری ہے کہ سامراجی برٹش انڈین آرمی سے قومی ادارے تک کے سفر کا طائرانہ جائزہ لیا جائے۔
بیسویں صدی عیسوی کے آغاز کے ساتھ ہی برٹش انڈین آرمی کی تنظیم نو کی گئی تو ملک کے طول و عرض میں پھیلی یونٹوں کو سمیٹ کر چھاؤنیوں میں سمیٹ لیا گیا۔ ارد گرد دھول اڑاتے ویرانوں میں شاداب جزیروں کی طرح بچھی چھاؤنیاں شہری آبادیوں سے فاصلے پر قائم کی جاتیں۔ سول لائنز میں بسنے والے برطانوی افسروں کا پھر بھی مقامیوں سے لین دین رہتا۔ سویلین آبادیوں سے دور آباد گیریژنز کے مکینوں کا تو مقامی آبادیوں سے سماجی رابطہ نہ ہونے کے برابر ہوتا۔
ان کے لئے تو تفریح کے اسباب بھی دور دراز پہاڑی علاقوں سے لا کر چھاؤنیوں کے لال کرتی بازاروں میں بٹھائے جاتے۔ برٹش انڈین آرمی کے افسر متوسط برطانوی طبقے سے تعلق رکھتے اور خالصتاً میرٹ پر منتخب کیے جاتے۔ متوسط گھرانوں کے ان بچوں کے لئے برطانیہ میں مقیم یونٹوں کی بود و باش اور میسوں میں اٹھنے والے اخراجات کو اپنی تنخواہوں میں برداشت کرنا ممکن نہ ہوتا، چنانچہ بیشتر کو گرم و مرطوب ہندوستان بھیج دیا جاتا۔
خاندانی حسب و نسب پر کنگز کمیشن پانے والے برطانوی رؤساء کے بچوں کے بر عکس ان نوجوان افسروں کی پیشہ وارانہ کار کردگی کہیں بہتر ہوتی۔ زمانہ امن میں یہ افسران پولو، کرکٹ اور ٹینس کھیلتے۔ شامیں کروفر کے ساتھ میسوں میں گزارتے۔ میلوں لمبی گھڑ سواری پر جاتے اور ہفتوں گھنے جنگلوں کے اندر تاریک شکار گاہوں میں چیتے کا شکار کھیلتے۔ چھاؤنیوں کی لہو گرم رکھنے والی زندگی ہو یا افغانستان کی سرحد پر جان گسل شب و روز، نا موافق موسموں کے تھپیڑے کھاتے اور کندن بن کر نکلتے۔
کمان کرنے کے لئے ان افسران کو پنجابی مسلمانوں اور سکھوں کے علاوہ شمال سرحدی صوبے کے پٹھان اور نیپال کے گورکھا جوان دستیاب رہتے۔ بلاشبہ برٹش انڈین آرمی اپنے دور کی ایک بہترین لڑاکا فورس تھی۔ صدی کے تیسرے عشرے میں ایک تدریجی عمل کے تحت میرٹ کی مکمل پاسداری کے ساتھ مقامی افسروں کی فوج میں شمولیت کا آغاز کر دیا گیا۔ جو اپنی بود و باش اور عادات و اطوار حتی الوسع برٹش افسروں جیسی رکھتے۔ برٹش انڈین آرمی کا حصہ ہونا محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک طرز زندگی تصور کیا جاتا۔
تقسیم ہند کے نتیجے میں فوج کی تقسیم کی آخر دم تک مخالفت کی جاتی رہی۔ قائد اعظم نے مگر متحدہ فوج جیسے کسی بھی بندو بست کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی متعین فارمولے کے تحت برٹش انڈین آرمی کی تقسیم کا عمل اس کے افراد کی سیاسی یا فرقہ وارانہ وابستگیوں سے ماورا ہونے کی بناء پر پر امن طریقے سے مکمل ہوا۔ ایک ساتھ نمو پانے والی دونوں پیشہ ور افواج کچھ ہی عرصے بعد ہی مگر کشمیر کے پہاڑوں پر ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑی ہوئیں۔
بھارتی حکومت کی پاکستان دشمنی پر مبنی حکمت عملی نے نوزائیدہ مملکت کی قیادت کو مجبور کیا کہ وہ اپنے بے حد محدود وسائل کو پہلی ترجیح میں پاکستانی مسلح افواج کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کو استعمال میں لائے۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر منڈلاتے خطرات کی بناء پر پاکستان کی پالیسی سازی میں مسلح افواج کا کردار فطری طور پر غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا۔
انڈین نیشنل کانگرس کی صورت میں جہاں بھارت کو زیرک و جہاندیدہ رہنماؤں پر مشتمل ایک قدیم سیاسی جماعت دستیاب تھی جو چھوٹتے ہی آئین اور ادارہ سازی میں جٹ گئی، تو وہیں ہمارے ہاں کی قیادت آزادی کے کئی برسوں بوجہ انتخابات سے کنی کتراتی رہی۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد امور مملکت ان سیاست دانوں کے ہاتھوں میں آ گئے کہ جن میں سے بیشتر تحریک پاکستان کے آخری مہینوں میں مسلم لیگ کی ٹرین پر سوار ہوئے تھے۔ نئی مملکت میں اب یہ وزرائے اعظم کو تگنی کا ناچ نچاتے۔
انہی سالوں میں سرحد پار سے نہرو بولے کہ وہ تو اس قدر پاجامے تبدیل نہیں کرتے جس رفتار سے پاکستان میں پردھان منتری بدلتے ہیں۔ متروکہ املاک کی تقسیم اور مہاجرین کی آباد کاری میں بدعنوانیاں، خوراک میں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی کے علاوہ امپورٹ لائسنسوں اور پرمٹوں کی سیاست نے بد عنوانی اور لوٹ مار کے ایک ایسے کلچر کی بنیاد رکھی جو اب بھی ہماری رگوں میں دوڑتا ہے۔
1953 ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ لے کر اٹھنے والی تحریک بے قابو ہو گئی تو لاہور جو اس زمانے میں پاکستان کا سب سے بڑا شہر تھا، فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ امن و امان بحال ہوا تو لاہور شہر کی صفائی ستھرائی اور آرائش کا کام بھی فوج کو ہی سونپ دیا گیا۔ مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل اعظم اور ان کے جوانوں نے عوام سے خوب داد سمیٹی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فوج کو اپنی تمام تر توجہ مشرقی اور مغربی سرحدوں سے اٹھنے والے خطرات کے پیش نظر اپنی پیشہ وارانہ استعداد کار بڑھانے پر مرکوز رکھنے کو کہا جاتا، جبکہ قومی قیادت بتدریج سول اداروں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتی۔
اس کے برعکس فوج کو مسلسل ایسے امور میں الجھائے رکھے جانے کا سلسلہ جاری رہا جو اس کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں شامل نہیں تھے۔ مشرقی پاکستان کے سائیکلون زدہ علاقوں کی بحالی میں سول اداروں کا ہاتھ بٹانا قابل فہم تھا۔ لیکن کیا پٹ سن کی بھارتی بنگال کو سمگلنگ روکنے جیسے معاملات میں بھی فوج کے ادارے کو ملوث کرنا درست طرز عمل تھا؟ ذخیرہ اندوزی، چور بازاری اور ملاوٹ کرنے والے مافیاز کے خلاف متعلقہ اداروں کی بجائے فوج کا بے دریغ استعمال مسلسل جاری رہا۔ اسی دوران برٹش انڈین آرمی کا تکبر لئے جنرل ایوب اور ان کے ساتھی زعم برتری کا احساس لئے حالات کو بغور دیکھ رہے تھے۔ (جاری ہے )