186

نوسربازوں کے ہاتھوں لٹتے عوام اور نظامِ انصاف

چند روز قبل ہمارے ایک عزیز کو فون موصول ہوا کہ آپ فلاں صاحب بات کر رہے ہیں انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو انہیں کہا گیا کہ آپ کا فلاں بھانجا اس وقت ہمارے پاس تھانہ صدر کے اندر موجود ہے اور میں تھانے کا ایس ایچ او(SHO) بات کر رہا ہوں ، اسے ہم نے گرفتار کیا ہے اس کا جرم یہ ہے کہ اس نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر کسی کرنل کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کی ہے جس کی وجہ سے ہم نے سب کو گرفتار کیا ہے مگر یہ ہمیں عمر میں کچھ چھوٹالگ رہا تھا اور اس نے بہت زیادہ قسمیں کھائی ہیں کہ میں ان کے ساتھ نہیں تھا ہمیں خود بھی اس پر ترس آگیا جس کی وجہ سے ہم نے اس پر مقدمہ تو نہیں کیا لیکن ابھی تک اس کی پٹائی خوب ہو چکی ہے ، آپ اس سے بات کیجئے انہوں نے ان کے بھانجے سے بات کروائی ، اب تھا تو وہ نہ جانے کون لیکن ان کی بھانجے کی آواز اور لہجے میں روتے دھوتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ مامو ںمجھے بچائیں ان سے ، انہوں نے مجھے بہت زیادہ مارا ہے ، مجھ پر کیس کر رہے ہیں آپ کسی طرح سے پیسوں کا انتظام کر کے مجھے یہاں سے چھڑا لیں اور میرے گھر میں ابھی مت بتائیے گا مجھے ابو سے بہت ڈر لگتا ہے ۔ جب ماموں نے بھانجے کی آواز میں سب کچھ سنا تو انہیں مکمل یقین ہو گیا کہ جو کال کر رہے ہیں ان کی بات درست ہے تو پھر جو ایس ایچ او بنے ہوئے تھے انہوں نے بات کی کہ اب مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم آگے بتائیں گے تو اس کا نام تو بیچ میں آئے گا اس لیے کچھ رقم آپ بھیجیں تاکہ ہم اس کے عوض صلح کروا لیں دیگر بھی رقوم دیں گے اور آپ بھی جمع کروائیں ۔ انہوں نے 50 ہزار روپے کا مطالبہ کیا مگر ہمارے ان عزیز نے کہا کہ بھائی میرے پاس تو اتنی رقم موجود نہیں ہے لہذا آپ کچھ کم کریں تاکہ ہم ادا کرنے کے قابل تو ہو سکیں پھر کم کراتے کراتے وہ 25 ہزار تک لے آئے وہ اس پر بھی مان تو نہیں رہے تھے لیکن ہمارے عزیز نے کہا کہ اس سے زیادہ تو میری گنجائش بالکل بھی نہیں ہے اب آپ نے جو کرنا ہے وہ کر لیں میں تو اس سے زیادہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں ۔ تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم اپنا اکاؤنٹ نمبر سینڈ کرتے ہیں آپ اس میں یہ رقم بھیج دیں انہوں نے جیسے تیسے انہیں رقم بھیج دی اور کہا کہ اب آپ اس کو چھوڑ دیں اور بچے سے کہیں کہ میرے گھر آ جائے تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے ۔ کچھ دیر کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ ابھی تک بچہ پہنچا نہیں ہے تو انہوں نے اسی نمبر پر دوبارہ کال کی تو انہوں نے کہا نہیں بھائی ہماری بات تو زیادہ پیسوں کی ہوئی تھی آپ نے تو بہت کم بھیجے ہیں ہم یہ بھی واپس کرتے ہیں اور بچے کو جیل میں بھیجتے ہیں تو پھر ماموں پریشان ہوئے کہ اب کیا کریں میرے پاس تو اس سے زیادہ رقم بھی نہیں تھی پھر انہوں نے سوچا کہ اب بچے کے والد سے بات کروں اور انہیں ساری بات بتاؤں پہلے تو وہ اس لیے نہیں بتا رہے تھے کہ ہم تو پریشان ہو ہی گئے ہیں اورکچھ پیسوں میں بات ختم ہو رہی ہے تو کیوں انہیں بھی پریشان کیا جائے ، اس بچے کو میں پیسے دے کے چھڑا کے اپنے گھر لے آتا ہوں بعد میں ایک دو دن اپنے گھر رکھ کر بھیج دوں گا جب بات ذرا ٹھنڈی ہو جائے گی لیکن جب مزید پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے اور جیل بھیجنے کی دھمکیاں دینے لگے تو پھر ان کے والد سے بات کی کہ بھائی اس طرح مسئلہ ہے انہوں نے کہا بچہ تو ہمارے پاس گھر میں بیٹھا ہوا ہے اپ کس کی بات کر رہے ہیں ، انہیں بتایا کہ ایسا سب کچھ ہوا ہے میرے ساتھ ۔ انہوں نے کہا یہ کوئی فراڈ تھا بچہ تو ہمارے پاس صحیح سلامت گھر میں موجود ہے ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے تو پھر معلوم ہوا کہ وہ کوئی نوسر باز تھے جو اس طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر کے لوگوں سے پیسے ہتھیاتے ہیں۔ یہ تو ایک معمولی سا واقعہ ہے جو ہمارے عزیز کے ساتھ پیش آیا اس قسم کے ہزاروں واقعات بلکہ اس سے بھی کہیں بڑے اور سنگین واقعات ہمارے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر پیش آرہے ہیں لوگ ان کی وجہ سے اپنی قیمتی رقوم وغیرہ سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیںاور اپنا اچھا خاصا نقصان کر دیتے ہیں اور نوسر باز روزانہ کی بنیاد پر عوام سے لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں اصل میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اچھے خاصے سیانے لوگ بھی ان کی باتوں میں آجاتے ہیں کیونکہ ان کا طریقہ واردات ہی کچھ اس قسم کا ہے کہ اس وقت وہ کچھ سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتے کہ انسان کچھ سوچے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے یا نہیں کیونکہ اب جیسے انہوں نے ہمارے عزیز کے بھانجے سے بات کرائی جب اسی کی آواز میں اسی کے لہجے میں انہوں نے بات کی تو انہیں اس بات کا گمان بھی نہیں گزرا کہ یہ ان کا بھانجا نہیں ہوگا تو جب بھانجے سے بات ہو گئی تو اب تو کسی قسم کا شک و شبہ رہا ہی نہیں کہ یہ کوئی جھوٹ بھی ہو سکتا ہے اور ساتھ انہوں نے یہ جلدی مچائی ہوئی تھی کہ ابھی ابھی فوراً رقم بھیجیں ورنہ اس پر کیس ہو جائے گا اب اس کیس سے بچنے کے لیے انہوں نے فوری طور پر انتظام کر کے پیسے بھیجے تاکہ کسی طرح سے بچے کی جان چھوٹے اور کسی بڑی مصیبت میں نہ پھنس جائیں ۔ تو وہ اس قسم کے ہتھکنڈے اختیار کر رہے ہیں کبھی لوگوں کو ای میل کے لنکس بھیجے جاتے ہیں ، کبھی بینک کی طرف سے میسجز بھیجے جاتے ہیں ایسے مختلف قسم کے طریقے ہیں جن کی انسان کو سمجھ بھی نہیں آنے دیتے کہ کیا واقعی اس طرح ہو بھی سکتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ان نوسر بازوں اور فراڈیوں کے ہاتھوں لوگوں کا بے تحاشہ نقصان ہو رہا ہے کوئی آن لائن پیسے کمانے کے چکر میں لوگوں سے پیسے وصول کر لیتا ہے اور پھر بھاگ جاتا ہے کوئی کسی اور طریقے سے پیسے بٹور کر نکل جاتا ہے لوگوں کو یقین دلانے کے بھی ان کے پاس بہت زیادہ طریقے موجود ہیں جس کی وجہ سے لوگ ان کے جال میں بہت جلدی پھنس جاتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اس قسم کے کیسز کے لیے تھانوں وغیرہ کا رجوع نہیں کرتے ، پولیس کے پاس نہیں جاتے کیونکہ لوگوں کو اپنے نظام قانون وانصاف پر بالکل یقین نہیں ہے کہ ان لوگوں کو یہاں سے انصاف بھی مل سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی بار ایسا ہوا کہ لوگ مقدمہ درج کرواتے ہیں لیکن اس پہ کوئی کام نہیں ہوتا ، اب ہمارے عزیز ہیں ان کے پیسے گئے ہم نے انہیں کہا بھی کہ آپ ایک بار رپورٹ تو کریں ہو سکتا ہے کہ کسی طرح سے جس نمبر پر آپ نے پیسے بھیجے ہیں یا جس نمبر سے آپ کو کالز آرہی تھیں اس کو ٹریس کر لیا جائے ۔ تو انہوں نے کہا نہیں اگر میں تھانے میں چلا بھی جاؤں تو میرے اپنے چکر ہی لگیں گے مزید خرچہ ہوگا لیکن ا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر مجرموں کو گرفتار کرنا چاہیں تو گرفتار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے سم موجود ہے ان کے پاس نمبر موجود ہیں جن نمبروں سے وہ کال کرتے ہیں جن نمبرز پہ وہ پیسے منگواتے ہیں سب کچھ موجود ہے کسی بھی طرح سے ٹریس کر کے ان کو گرفتار کرنا کچھ مشکل نہیں ہے لیکن کوئی کرنا چاہے تو ۔ مگر ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ سب تنخواہیں تو بڑی بڑی وصول کرتے ہیں لیکن کوئی اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں سنجیدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ بھاری نقصان کرانے کے باوجود بھی تھانوں میں نہیں جاتے مقدمات درج نہیں کرواتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا مزید پیسہ لگے گا مزید وقت ضائع ہوگا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوگا ہاں کسی کے اچھے تعلقات ہوں اداروں کے اندر تو وہ تو اپنے کام نکلوا لیتے ہیں لیکن عام افراد کے کام حقیقتاً نہیں ہوتے جس کی وجہ سے لوگ اس چکر میں پڑتے ہی نہیں کہ جو نقصان ہوا سو ہوا مزید ہم اپنا وقت اور پیسہ برباد نہیں کر سکتے۔ یہ تو حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان گھناؤنے جرائم کے خلاف کاروائی کریں اور ان کا سد باب کریں ورنہ تو وہ اسی طرح عوام کو لوٹتے رہیں گے اور جب ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہو گی تو پہلے سے موجود نوسربازوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور پھر ان کی دیکھا دیکھی دیگر کئی جرائم پیشہ افراد پیسہ کمانے کے لیے اسی طریقے کو اختیار کر لیں گے جس کی وجہ سے عوام کا جینا مزید دوبھر ہو جائے گا۔ (ضیاء الرحمن ضیائ) www.ziarehman.com

بشکریہ اردو کالمز