چند روز قبل میرا اسلام آباد کے تعلیمی بورڈ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن(FBISE) میں جانا ہوا، جہاں سے میں نے اپنی ہمشیرہ کا مائیگریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنا تھا میں نے جب 2012اور 2014میں میٹرک اور ایف اے کیا تھا تب وہاں کے حالات مختلف تھے اور اب جب میں وہاں پہنچا تو حالات بہت بدلے ہوئے تھے ، میرے ذہن میں وہی پرانا فیڈرل بورڈ تھا جس میں داخل ہوتے ہی ایک گہما گہمی کا سامنا کرنا پڑے گا، کھڑکیوں کے سامنے لمبی قطاریں ہوں گی ، دھکم پیل ہوگا لیکن میں جب وہاں پہنچا تو ایک انتہائی پرسکون ماحول مجھے نظر آیا ۔ بہت سے لوگ نہایت آرام سے کرسیوں پر بیٹھے تھے اور حال کے دونوں اطراف کمپیوٹرائزڈ مشینیں نصب تھیں جن کے گرد دو دو چار چار افراد کھڑے اپنا کام کر رہے تھے۔ وہاں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ ان مشینوں کے ذریعے خود ہی اپنے فارم اور چالان فارم ڈاؤن لوڈ اور پرنٹ کرنے ہوں گے ۔ میں ایک مشین پر پہنچا وہاں ہمشیرہ کا رول نمبر اور رجسٹریشن نمبر درج کیا تو ایک چالان فارم پرنٹ ہو گیا میں نے وہیں کھڑے کھڑے آن لائن فیس جمع کرائی اور دوبارہ مشین میں میں نے مائیگریشن سرٹیفیکیٹ کے آپشن پر کلک کیا تو میرے ذہن میں یہ تھا کہ ابھی یہاں سے ایک فارم نکلے گا جسے اندر دفتر میں کہیں جمع کرانا ہوگا، اس کے بعد مجھے وہ چند روز کا وقت دیں گے اور پھر مجھے آکر یہاں سے فارم وصول کرنا ہوگا جب میں نے وہاں ڈیٹا انٹر کیا تو ایک فارم پرنٹ ہو کر باہر آیا میں نے فارم لیا اور سوچنے لگا کہ اسے کہاں جمع کراؤں ۔ ابھی یہ سوچ رہا تھا کہ میرے ذہن میں آیا کہ ایک بار فارم کو دیکھوں کہ تفصیلات درست ہیں۔ میں نے جب فارم کو دیکھا تو میں حیرت زدہ رہ گیا کہ وہ فارم نہیں بلکہ مائیگریشن سرٹیفکیٹ تھا جو وہاں سے پرنٹ ہو کر آ چکا تھا اور مجھے اب کہیں جانے کی ضرورت نہیں تھی سوائے گھر کے۔ یہ نظام اتنا آسان ہو چکا ہے کہ پہلے جس کے لیے ہمیں کھڑکیوں کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر چالان فارم وصول کرنا ہوتا تھا ، پھر بینک کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر فیس جمع کرانی ہوتی تھی پھر اس کے بعد واپس کھڑکیوں کے باہر آکر فارم وصول کرتے تھے ، پھر فارم پر کرتے تھے ، پھر دوبارہ فارم جمع کراتے تھے ، اس کے بعد ہمیں وقت ملتا تھا اس وقت کے بعد ہم دوبارہ آکر کھڑکیوں کے باہر لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر سرٹیفکیٹ وصول کرتے تھے ، اب وہ سارا کام منٹوں میں ہونے لگا ہے اور کسی کھڑکی کے باہر قطاروں میں کھڑے ہونے یا کسی ملازم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فیڈرل بورڈ میں میرے چند جاننے والے بھی تھے لیکن میں نے جانے سے پہلے یہ سوچا کہ اتنے چھوٹے سے کام کے لیے کسی کو تکلیف نہیں دینی چاہیے ، ہاں کہیں اگر مسئلہ پیش آجائے تو تب ان سے رہنمائی لی جا سکتی ہے ۔ یہ موقع میں اپنے سکول کی رجسٹریشن کے لیے رکھنا چاہتا تھا کیونکہ وہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے تو جس کے لیے ان سے رہنمائی لے کر کام چلاؤں گا ، انشاء اللہ ۔ اس معمولی کام کے لیے میں کسی کے پاس جانا نہیں چاہتا تھاجب تک کہ کوئی مسئلہ پیش نہیں آ جاتا مگر یہ کام آسانی سے ہو گیا کہ مجھے کسی کے پاس جانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اس نظام کو دیکھ کر مجھے انتہائی خوشی ہوئی۔ ترقی یافتہ ممالک میں کام اسی طرح ہوتے ہیں کہ وہاں پر لوگوں کو لمبی قطاروں میں نہیں کھڑے ہونا پڑتا بلکہ خود کار طریقے سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت منٹوں میں کام کر لیتے ہیں۔ چند روز قبل میرے پھوپھی زاد بھائی سعودی عرب سے آئے ہوئے تھے ،میں ان سے ملاقات کے لیے گیا تو اے ٹی ایم کارڈ پر ہماری بات ہو رہی تھی ، انہوں نے بتایا کہ میرے پاس بہت زیادہ اے ٹی ایم کارڈ موجود ہیں میں نے کہا آپ اتنے زیادہ کارڈ کیسے بنا لیتے ہیں ؟انہوں نے کہا وہاں پر ایسا نظام نہیں ہے کہ ہم درخواست دیں گے ، اس کے بعد انتظار کریں گے پھر اے ٹی ایم کارڈ آئے گا بلکہ وہاں ہم اے ٹی ایم مشین پر جاتے ہیں اپنی تفاصیل درج کرتے ہیں تو اے ٹی ایم کارڈ اسی وقت پرنٹ ہو کر ہمیں مل جاتا ہے۔ میں اس پر حیرت زدہ تھا کہ ان ممالک میں اتنا اچھا نظام ہے لیکن جب میں فیڈرل بورڈ میں گیا اور وہاں یہ نظام میں نے دیکھا تو نہایت خوشی ہوئی کہ ہمارے ملک کا کم از کم کوئی ادارہ تو ایسا ہے جو اس نظام کو متعارف کرا چکا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو کسی قوم کی ترقی کی علامت ہوتا ہے جو قومیں آج دنیا میں ترقی کر رہی ہیں وہ اسی طرح عوام کو سہولتیں فراہم کرتی ہیں ، عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہیں ۔ عوام کو لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے یا ملازمین سے الجھنا نہیں پڑتا بلکہ خود جا کر خاموشی سے اپنا کام کر کے واپس آ جاتے ہیں ۔ فیڈرل بورڈ کا یہ نظام تمام اداروں کے لیے قابل تقلید ہے حتی کہ نادرا کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس قسم کا نظام متعارف کرائے کہ لوگ شناختی کارڈ لینے یا کسی بھی طرح کے فارم وصول کرنے کے لیے جائیں تو وہاں پر ٹوکن لے کر گھنٹوں انتظار نہ کریں ۔ ہمارے ملک میں نادراکے پاس ایک اچھا نظام ہے ، نادرا کا نام اس لیے لیا کہ وہ ایک اچھی سمت میں چل رہا ہے تو اسے مزید بہتر کرنا چاہیے کہ لوگ جائیں وہاں پر مشینوں میں خود اپنا ڈیٹا انٹر کریں اور فوراًسرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈ وصول کر کے واپس آجائیں انہیں 40 ، 40 دن انتظار نہ کرنا پڑے۔ ایسے ہی دیگر تمام اداروں کو چاہیے جو پبلک ڈیلنگ کرتے ہیں وہ عوام کے لیے خودکار نظام متعارف کرائیں جو منٹوں میں عوام کے مسائل حل کر ے ۔ ابھی بھی پاکستان میں لا تعداد ادارے ایسے ہیں جہاں عوام قطاروں میں کھڑے ہو کر گھنٹوں انتظار کرتے ہیں ، دھکم پیل سہتے ہیں اور ملازمین کے تلخ رویوں کو برداشت کرتے ہیں اور پھر چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے کئی کئی دن بلکہ مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے اس کے بعد جا کر ان کے کام مکمل ہوتے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ جس کی میں نے مثال دی یہاں پر بھی پہلے ایسا ہی ہوتا تھا مگر انہوں نے اس نظام کو ختم کیا اور اب ایک بہترین نظام ان کے پاس موجود ہے جس میں عوام کے لیے آسانیاں اور سہولتیں ہیں۔ یہ نظام ملکی ترقی کے لیے بھی ضروری ہوتے ہیں اس سے عوام کا پیسہ بھی بچتا ہے ، عوام کے وقت کا بھی کا ضیاع بھی نہیں ہوتا ، اسی طرح اداروں کو بہت زیادہ ملازمین نہیں رکھنے پڑتے بلکہ خودکار طریقے سے جب کام ہوتا ہے تو ملازمین کی تعداد بھی نہایت کم ہو جاتی ہے جو ملکی خزانے پر بوجھ نہیں بنتے۔ایسے نظام تمام اداروں میں نافذ کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدگی سے اس پر غور کرنا چاہیے۔
371