238

عورت کی حکمرانی اسلام کی نظر میں

    عورت کو ووٹ دینا دو حیثیتوں سے ہوتا ہے پہلی یہ کہ عورت کو مجلس شوریٰ کا ممبر بنانے کے لیے ووٹ دیا جائے اور دوسری یہ کہ عورت کو حکمران یعنی وزیراعظم وغیرہ بننے کے لیے ووٹ دیا جائے ۔ ان دونوں کے احکامات میں فرق ہے ۔ خواتین کو مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ کا ممبر بنے کے لیے ووٹ دیا جا سکتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی حیثیت مجلس شوریٰ کی ہوتی ہے اور مجلس شوریٰ کے ممبران کا کام مشورہ دینا ہوتا ہے اگرچہ ہمارے ہاں مجلس شوریٰ کے ممبران جس بل وغیرہ پر دستخط کر دیں وہ منظور ہو جاتا ہے لیکن اس کے لیے ایک بڑی تعداد کے دستخطوں کی ضرورت ہوتی ہے جس میں زیادہ تر مرد ہوتے ہیںساتھ ہی وزیراعظم اور صدر کے دستخط بھی ضروری ہوتے ہیں۔ اگرچہ اسلامی مجلس شوریٰ اور ہماری پارلیمنٹ میں بہت فرق ہے اور یہ اس کی تعریف پر پورا نہیں اترتی لیکن چاروناچار موجودہ حالات میں ہمیں اسے ہی مجلس شوریٰ تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے خاتون کو اس کا ممبر بننے کے لیے ووٹ دینے کا جواز بھی بنتا ہے۔
     دین میں عورت سے مشورہ کرنے سے کہیں بھی منع نہیں کیا گیا بلکہ خواتین سے مشورہ کرنے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول اللہ ۖ نے صحابہ کرام  کو قربانی اور حلق کا حکم دیا تو شدت غم کی وجہ سے کسی نے ایسا نہ کیا تو رسول اللہ ۖرنجیدہ ہو کر خیمہ میں تشریف لے گئے اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو صورتحال سے آگاہ فرمایا تو انہوںنے مشورہ دیا کہ آپ ۖ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دینے کی بجائے خود ان کے سامنے یہ عمل کیجیے رسول اللہ ۖ نے ان کے مشورہ پر عمل کیا تو سب نے قربانی اور حلق کر کے احرام کھول دیے۔(صحیح بخاری ، حدیث 2731)
    اسی طرح خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کے ادوار میں بھی خواتین سے رائے طلب کی جاتی تھی اور ان کے مشوروں پر عمل بھی کیا جاتا تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد جانشین کے انتخاب کے لئے چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے استصواب عام کے ذریعے مسلسل تین دن گھر گھر جا کر لوگوں کی آراء معلوم کیں ، ان آراء کی روشنی میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنائے جانے کے حق میں فیصلہ دیا، اس رائے دہی میں خواتین نے بھی حصہ لیا۔     حضرت عمر رضی اللہ عنہ قانون سازی کے معاملات میں بھی خواتین کو شریک کرتے تھے۔ ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں لوگوں کے مسائل معلوم کرنے کے لئے گشت کر رہے تھے کہ ایک گھرسے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کے اشعار سنے ، جس میں وہ اپنے شوہر کی جدائی کا ذکر کر رہی تھی ۔ جس کا شوہر جہاد پر جانے کی وجہ سے کافی عرصہ سے گھر سے دور تھا۔ اس معاملہ نے آپ کو پریشان کردیا اور آپ نے واپس آتے ہی اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے معلوم کیا کہ خاتون شوہر سے کتنا عرصہ دور رہ سکتی ہے تو انہوںنے بتایا کہ چار ماہ تک۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے مشورہ پر مجاہدین کے گھر سے دور رہنے کی زیادہ سے زیادہ مدت چار ماہ مقرر فرمائی۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ مجلس شوریٰ میں خواتین کو بھی شریک فرماتے تھے اور ان کی آراء پر فیصلے بھی فرمایا کرتے تھے ۔ ایک موقع پر جب آپ نے مجلس شوریٰ سے عورتوں کے مہر کی مقدار متعین کرنے پر رائے لی تو مجلس شوریٰ میں موجود ایک عورت نے کہا آپ کو اس کا حق اور اختیار نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ترجمہ:''اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تب بھی اس میں سے کچھ واپس مت لو۔ کیا تم ظلم و دہشت کے ذریعے اور کھلا گناہ کرکے وہ مال (واپس) لوگے' '(النسائ:20) ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تجویز واپس لے لی اور فرمایا:امرأة خاصمت عمر فخصمتہ.''ایک عورت نے عمر سے بحث کی اور وہ اُس پر غالب آگئی۔''
    ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کو مجلس شوریٰ میں نمائندگی دی جا سکتی ہے اور ان سے نہ صرف یہ کہ مشورہ طلب کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کے مشورے پر عمل بھی کیا جاسکتا ہے اور اس کے مطابق قانون سازی بھی ہو سکتی ہے۔ لہٰذا خواتین کو ممبر قومی یا صوبائی اسمبلی بننے کے لیے ووٹ دینا جائز ہے اور اگر کسی اہل اور دیندار خاتون کے مقابلے میں نااہل اور بے دین شخص ہو تو اس صورت میں خاتون کو ووٹ دینا واجب ہے۔ اگر مرد و خاتون دونوں اہلیت و دینداری میں برابر ہوں تو اس صور ت میں مرد کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ یہ کام اصل میں مردوں کا ہے۔ 
    مذکورہ بالا گفتگو اس بارے میں تھی کہ عورت کو مجلس شوریٰ یا پارلیمنٹ کا رکن بنانے کے لیے ووٹ دینا کیسا ہے ؟ اب ہم بات کرتے ہیں خاتون کو حکمران یعنی وزیراعظم ، وزیراعلیٰ یا صدر بنانا یا اس کے لیے ووٹ دینا کیسا ہے؟اس حوالے سے مولانا زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہ کا مضمون (ماہنامہ الشریعہ جنوری 1990، ص 12)پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے جس میں انہوں نے تفصیل سے اس مسئلہ پر گفتگو فرمائی ہے۔ یہاں اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر مرد اور عورت کے درمیان حقوق و فرائض کی اس فطری تقسیم کو واضح کیا ہے۔ ان سب آیات کریمہ کو اس موقف کے حق میںمنطقی استدلال کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ہم ان میں سے دو آیات کریمہ کا حوالہ دیں گے۔اسلام میں حکمرانی کا نظام خلافت کا نظام ہے اور خلافت انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعے ملتی ہے یعنی خلیفہ نبی کا نائب ہوتا ہے جیسا کہ رسول اللہ ۖ نے ارشاد فرمایا:''بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت کا فریضہ انبیاء کرام علیہم السلام سرانجام دیتے تھے، جب ایک نبی  دنیا سے چلے جاتے تو دوسرے نبی  ان کی جگہ لے لیتے۔ لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔''یعنی خلافت و حکومت دراصل انبیاء کرام کی نیابت کا نام ہے اور اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں صراحت کر دی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی پیغمبر بھیجے گئے وہ سب مرد تھے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ''اور ہم نے آپۖ سے قبل رسول بنا کر نہیں بھیجا مگر صرف مردوں کو جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے'' (الانبیائ: 25)۔جب انبیاء کرام علیہم السلام تمام کے تمام مرد تھے اور اللہ تعالیٰ نے کسی عورت کو نبی نہیں بنایا تو انبیاء کرام علیہم السلام کے خلفاء جن کا کام نبیوں کے کام کو آگے بڑھانا اور انہی کے طریقے کے مطابق اللہ تعالیٰ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کے احکامات نافذ کرنا ہے تو وہ عورت کیسے ہو سکتے ہیں؟اس کے علاوہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:''مرد حکمران ہیں عورتوں پر، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے'' (النسائ:34)۔یہ آیت کریمہ اس بارے میں صریح ہے کہ جہاں مردوں اور عورتوں کا مشترکہ معاملہ ہوگا وہاں حکمرانی مردوں ہی کے حصہ میں آئے گی اور یہی وہ فضیلت ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر عطا فرمائی ہے۔حافظ ابن کثیر اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:''اور اسی وجہ سے نبوت مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اور اسی طرح حکومت اور قضا کا منصب بھی انہی کے لیے خاص ہے''(تفسیر ابن کثیر، جلد:١،ص:194)۔
    جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت سے ارشادات میں اس امر کی صراحت کی ہے کہ عورت کی حکمرانی نہ صرف عدم فلاح اور ہلاکت کا موجب ہے بلکہ مردوں کے لیے موت سے بدتر ہے۔ ان میں سے چند احادیث پیش کی جاتی ہیں۔ امام بخاری کتاب المغازی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی خبر دی گئی کہ فارس کے لوگوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو آنحضرتۖ نے فرمایا:''وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا حکمران عورت کو بنا لیا۔''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''جب تمہارے حکمران تم میں سے اچھے لوگ ہوں، تمہارے مالدار سخی ہوں اور تمہارے معاملات باہمی مشورہ سے طے پائیں تو تمہارے لیے زمین کی پشت اس کے پیٹ سے بہتر ہے۔ اور جب تمہارے حکمران تم میں سے برے لوگ ہوں، تمہارے مال دار بخیل ہوں اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہو جائیں تو تمہارے لیے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے بہتر ہے'' (ترمذی)۔ نبی  اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : '' مردجب عورتوں کی اطاعت قبول کریں گے تو ہلاکت میں پڑیں گے۔''ایک اور روایت میں ہے :''وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جن کی رائے کی مالک عورت ہو''(مجمع الزوائد ،جلد5،ص :902)۔مسند احمد میں ہے:''وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس کی حکمران عورت ہو''(مسند احمد ،جلد:5،ص :34)۔    
    الغرض عورت کی حکمرانی کے بارے میں علماء کا موقف قرآن و سنت اور اجماعِ امت کی روشنی میں اس قدر واضح اور مبرہن ہو کر سامنے آ چکا ہے کہ اب اس میں مزید کلام کی گنجائش نظر نہیں آتی اور نہ ہی اہلِ علم و دانش اور اصحابِ فہم و فراست کے لیے اس مسئلہ میں کسی قسم کا کوئی ابہام باقی رہ گیا ہے کہ قرآن و سنت کے صریح احکام کی رو سے کسی مسلم ریاست میں خاتون کے حکمران بننے کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے۔ خواتین کو رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے ووٹ دینے کی کسی درجہ میں گنجائش ہے کیونکہ وہ مجلس شوریٰ ہے اور عورتوں کو مشوروں میں شریک کیا جا سکتا ہے لیکن خواتین کو وزیراعظم ، وزیراعلیٰ یا صدر وغیرہ بننے کے لیے ووٹ دینا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے شریعت میں منع کیا گیا ہے اور یہ بات قوم کی تباہی اور ناکامی کا باعث بنے گی۔
 

بشکریہ اردو کالمز