سفیان علی قصبہ برہان کا رہائشی تھا ۔ سفیان نے جماعت ہشتم کا امتحان اعزازی نمبرات سے پاس کیا اور آج جماعت نہم میں اس کا پہلا دن تھا ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول کا ماحول دیکھنے کے لیے بہت بےتاب تھا ۔ اسکول میں پہلا قدم رکھتے ہی ہر شے کو بڑی باریکی سے دیکھتا ہے ۔ گیٹ کے ساتھ موجود دیوار اشتہارات سے مزین ہوتی ہے جو تعلیمی درسگاہ کی بجائے کسی کارخانے کا منظر پیش کرتی ہے ۔ جب کلاس روم میں پہنچتا ہے وہاں بھی طلبہ کی جانب سے کچھ غیر مناسب جملے اور بےوزن اشعار دیواروں پر دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ آخر ہم شعور رکھنے والے کب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے ۔ واش روم کی جانب رخ کرتا ہے تو وہاں دیواریں مختلف قسم کی تصویر اور جملوں سے بھری پڑی ہیں اور ایسے جملے جو کسی بھی تہذیب یا تعلیمی نظام کی عکاس نہیں ۔ ایسی حرکتیں کبھی بھی ایک صاحب علم نہیں کر سکتا اور خاص طور پر طالب علم ۔
واش روم سے باہر نکلتے ہی اس کے چہرے پر عجب تاثرات دیکھ کر اس کے ہم جماعتی طالب علم آفاق آصف نے اسے اپنے پاس بلایا اور اس کی پریشانی اور بےچینی کی وجہ دریافت کی ۔ سفیان نے آفاق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :
” بھائی ! یہاں ہم کس مقصد کے لیے آتے ہیں ؟“
آفاق نے فوراً جواب دیا :
” علم حاصل کرنے کے لیے مگر اس سوال کا مقصد سمجھا نہیں ؟“
سفیان نے کہا :
” ہم یہاں حصول علم کے لیے تو آتے ہیں مگر شعور کے لیے کیوں نہیں ؟ یہ دیواریں دیکھ رہے ہو اور خاص طور پر اس ادارے میں موجود واش روم کی بدقسمت دیواریں ۔۔۔۔ کیا کبھی یہ سوچھا ہے کہ ہماری بھائیوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی اس واش روم کا استعمال کرنا ہے جب وہ یہ سب کچھ پڑھتے اور دیکھتے ہوں گے تو ان کے ذہن میں کیا خیال آتا ہو گا ؟ “
آفاق ایک پل کے لیے خاموش ہوا اور پھر ہلکی آواز میں بولا :
” یہاں سب علم کے لیے نہیں کچھ تفریح کے لیے آتے ہیں ۔ شعور تب آئے گا جب ہم اپنی ترجیحات بدلیں گے ۔ ہم میں سے آدھے بچے ان جملوں اور تصاویر کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور باقی دوستوں سے اس کا تذکرہ بھی کرتے ہیں اور پھر یہ سلسلہ اس قدر بڑھتا ہے کہ حوصلہ شکنی کی بجائے ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔“
سفیان نے آصف کی بات کی تاکید کی اور اضافہ کرتے ہوئے بولا :
” کہ قلم وہ مقدس شے ہے جس سے کارخیر کا کام لیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دیواریں اتنی بدقسمت ہیں جو ایسے بچوں کی ہوس کی تسکین کا نشانہ بن جاتی ہیں ۔“
آصف : ” یہ سب تو ٹھیک ہے مگر اس کا حل کیسے ممکن ہے ؟ “
سفیان : ” تعلیم وتربیت صرف اساتذہ کے ذمہ داری نہیں کچھ ذمہ داریاں والدین کی بھی ہیں ۔ ہمیں گھروں اور اپنے معاشرے میں اپنی بہنوں ، بھائیوں اور دوستوں کو سمجھانا ہو گا کہ ایسی چیزیں کبھی بھی مثبت سرگرمی کو فروغ نہیں دیتی ہیں اور پرنسپل حضرات کو بھی اس حوالے سے سخت اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ یہ دیواریں جو تعلیمی درسگاہوں کی معلوم ہوتی ہیں وہ پھر کسی کوٹھے کا منظر پیش کریں گی ۔“
آصف : ”اللہ نہ کرے کبھی ایسا ہو اور ان شاء اللہ ہم مل کر بچوں میں یہ شعور اجاگر کریں گے ۔ ان دیواروں کو صاف ستھرا رکھنے کی تلقین کریں گے جو ممکن ہوا اقدامات کریں گے ۔“
سفیان : ” ان شاء اللہ ۔“
747