309

ہجرت کی کہانی ۔۔۔۔ نانا جان کی زبانی

” ہجرت“ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ترک وطن ، کسی علاقے ، شہر یا ملک کو چھوڑ دینا وغیرہ کے ہیں ۔ انگریزی زبان میں اس کے لیے لفظ "Immigration"  یا " Migration "وغیرہ جیسے الفاظ کا استعمال ملتا ہے ۔ ہجرت کہنے ، سننے اور دیکھنے میں عام سی اصطلاح ہے مگر یہ ایک ایسا کرب ہے جس میں آپ ایک خاص مقصد کے لیے اپنے خواب ، رشتہ دار ، مال و دولت ، آبائی زمینیں ،دوست احباب ، خوشیاں سب کچھ ترک کر دیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا درد اور ایسی کیفیت ہے جیسے کسی سرسبز درخت کو اکھاڑ کر کسی دوسری بنجر زمین میں لگا دیا جائے ۔
 اس وقت دنیا میں بہت سے گھرانے ایسے ہیں جو اس کرب سے گزرے جو اپنا سب کچھ ایک تحریک کے لیے چھوڑ آئے ہیں ۔ ان گھرانوں میں سے مہاجرین جموں و کشمیر 1989ء ۔1990ء بھی شامل ہیں ۔ راقم کا ددھیال اور ننھیال دونوں تحریک آزادی کشمیر کی خاطر مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے بیس کیمپ آزادکشمیر میں قیام پذیر ہیں ۔ دادا کی کہانی اس سے قبل بیان ہو چکی ہے ۔ 
ایک درد دل رکھنے والی انسان دوست شخصیت، جس کے ہر عمل اور قول میں مجھے پیار، شفقت اور اپنائیت کی مہک محسوس ہوتی ہے  وہ شخصیت میرے نانا جان  کی ہے ۔ آپ کا اصل نام قمر الدین ہے ۔ آپ سن 1943ء میں بھارت کے زیر انتظام مقبوضہ کشمیر کی زرخیز وادیوں میں سے ایک وادی سوجیاں ، رقبہ لڑی (ضلع پونچھ ، تحصیل حویلی ، ڈاکخانہ منڈی )میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کا نام محمد عبداللہ اور والدہ کا نام سیدہ بیگم ہے ۔ آپ کے آباؤاجداد کا تعلق چنڈک پونچھ سے تھا ۔ آپ کی قوم تانترے ہے ۔ آپ کا بچپن لڑی گاؤں میں گزرا ۔ گورنمنٹ ہائی سکول ساوجیاں سے جماعت ششم تک تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے  ۔ مقبوضہ کشمیر میں کھیتی باڑی کے پیشے سے آپ کے آباؤاجداد منسلک رہے اور آپ نے بھی اسی پیشے کو اختیار کیا۔ اس وقت وہاں کپاس ، گندم ، موٹھی ،گنہار کی سبزی، وغیرہ وافر مقدار میں کاشت کی جاتی تھیں ۔ 12 کنال آپ کے پاس کل رقبہ تھا جس میں سے آٹھ کنال زیر کاشت تھا ۔ گھاس کی کٹائی کا بھی خاص اہتمام کیا جاتا رہا ۔ ذریعہ آمدن مال مویشی اور ساتھ محنت مزدوری تھا ۔ مزدوری کے لیے جموں، امرت سر اور دیگر پنجاب کے علاقوں میں برسر روزگار رہے ۔ اس وقت ہندوؤں اور سکھوں کے علاقوں میں بھی کام کیا مگر لوگوں کے دل اس قدر ایک دوسرے کی نفرت سے اتنے میلے نہیں تھے جتنے آج کل ہیں ۔ آپ  1965ء کی جنگ کے عینی شاہد بھی ہیں جب یہاں سے مجاہدین پونچھ مقبوضہ کشمیر میں اپنا تسلط جمانے میں وقتی طور پر کامیاب ہو گئے تھے ۔ اس جنگ کے دوران میں مقبوضہ کشمیر کے سکھ اور ہندو برادری پر ایک نام کا خوف تھا وہ نام مجاہد کمانڈر حنان صاحب کا تھا۔ ان کا نام سن کر ہندو اور سکھ وہاں سے بھاگتے تھے ۔ دو ماہ تک مجاہدین کا وہاں قبضہ رہا پھر دوبارہ پیچھے پیش قدمی کرنی پڑی۔
1990ء میں تحریک آزادی کشمیر نے زور پکڑا، مجاہدین کی آمدورفت کا سلسلہ بڑھا تو مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں بھارتی افواج نے بھی کشمیری گھرانوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ آئے روز تفتیش کے لیے بلاتے اور تشدد کا نشانہ بناتے ۔ میرے نانا کے بھائی اور بھتیجے پاکستانی فوج میں اس وقت ملازم تھے اور کسی نے بھارتی افواج کو یہ آگاہ کیا کہ آپ بھی ان کے ساتھ ملوث ہیں ۔ الزام تراشی شروع ہوئی جس وجہ سے بھارتی افواج نے آئے روز تنگ کرنا شروع کر دیا ، گرفتاریاں ہوئیں، تشدد کرتے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ۔ جب ظلم حد سے بڑھنے لگا تو آپ نے رات کی تاریکی میں لڑی گاؤں سے ہجرت شروع کی ۔ آپ کے گھر سے سرحد چار سے پانچ کلومیٹر کی مسافت پر موجود تھی ۔ راستہ جنگلی پہاڑیوں پر مشتمل تھا، بغیر کسی ساز و سامان کے ، بغیر کسی امداد کے اس وقت بیس کیمپ آزادکشمیر میں ہجرت کی جہاں صرف لوگوں سے کلمہ توحید کا رشتہ تھا۔ کوپرا پہاڑی پر پاک ارمی کی پوسٹ پر آپ کو روکا گیا ۔ آپ سے تفتیش ہوئی اور پھر کچھ پاک آرمی  نے ضروری سامان مہیا کیا ، کھانا اور چائے وغیرہ کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ کہوٹہ میں تحصیل دار کے سپرد کیا گیا بعدازاں کہوٹہ تھانہ میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد آپ پلنگی میں چودھری لعل دین نامی شخص کے گھر مقیم رہے ۔ یقیناً اس مشکل وقت میں مقامی لوگوں نے جو تعاون کیا اور بھائی چارہ کی فضا قائم کی وہ تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا ۔ نو سے دس ماہ ان کے گھر میں مقیم رہے اس کے بعد سمنی باغ میں اپنے حقیقی بھائی شمس الدین سے ملاقات ہوئی اور ان کے مہمان بنے ۔ ان کے بھائی 1947ء میں ہجرت کر کے یہاں آئے اور یہاں فوج میں ملازمت اختیار کی ۔ان کے بیٹے بھی فوج میں ملازم  رہے ۔ یہاں نو ماہ تک مقیم رہے اس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم عبدالقیوم خان نے ڈی سی باغ کو ہدایات جاری کیں کہ کچھ مہاجرین گھرانے دھیرکوٹ بھیج دیں جہاں انہیں رہنے کے لیے جگہ مہیا کی جائے گی ۔ نانا جان  بھی انہی گھرانوں میں شامل تھے ۔ آپ اس وقت ایس پی آفتاب صاحب کے گھر مقیم رہے ۔ وہاں چھ سال تک اپنی زندگی کے وہ ایام گزارے جو آج تک ان کے لیے یادگار ہیں ۔بہت اچھے سلوک کے ساتھ  سب پیش آتے ، خوشی اور غم یں شریک ہوتے رہے۔ اج بھی ان کو دعاؤں میں یاد رکھتے ہیں ۔ اس کے بعد باغ میں مہاجر کالونی کے قیام کا فیصلہ ہوا حکومت کی طرف سے تیس چھت کی چادریں فراہم کی گئیں باقی محنت مزدوری کر کے گھر کی تعمیر مکمل کی ۔ آج الحمد لله خوشحال زندگی گزار رہے ہیں ۔ 
آپ کی دو بیٹیاں اور ایک حقیقی بھائی آج بھی مقبوضہ کشمیر میں مقیم ہیں ۔ کوئی وقت ایسا نہیں گزرتا جب ان کی یاد سے دل غافل ہو ۔ یاد ماضی ہمیشہ ان ماجرین گھرانوں کا ایک روگ ثابت ہوا ہے  ۔ نانا جان کی ہجرت کے بعد ان سب کو وہاں  بھارتی افواج نے تنگ کرنا شروع کیا ، تفتیش ہوئی، گرفتاریاں کیں اور جب انھوں نے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کب اور کہاں گئے اس کے بعد سکون سے رہنے کا موقع ملا ۔ 
وقت تیزی سے گزر جاتا ہے مگر یادیں ہمیشہ تر و تازہ رہتی ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مہاجرین جموں و کشمیر 1990ء کے گھرانوں کا بھی ویزہ بحال کیا جائے جس کے ذریعے یہ ان پیاروں سے مل سکیں جو مقبوضہ کشمیر میں مقیم ہیں ۔ اپنوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے ، ان سے ہم کلام ہونے اور ان کے میٹھے الفاظ سننے کی جو خوشی ہوتی ہے  یقینا ان جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا نامکن ہے ۔ اللہ پاک اس کشمیر کو بھی جلد آزادی نصیب کرے تاکہ ہم بھی اپنے پیاروں کی خوشیاں اور غم کے لمحات  میں شامل ہو سکیں ۔

بشکریہ اردو کالمز