385

نئی نسل کی تباہی میں تاجروں کا کردار 

کسی بھی قوم کی ترقی میں نٸی نسل ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے ۔  نئی نسل کی قوت پرواز قومی ترقی کی عکاس ہوتی ہے ۔ بدقسمتی سے ہماری ریاست میں نئی نسل تباہی کی طرف تیزی سے گامزن ہے ۔ نئی نسل میں وہ تمام بری عادات موجود ہیں جو کسی قوم کی تنزلی کے لیے کافی ہیں ۔ منشیات کا استعمال ہو یا ڈکیتی کی واردات  ، گداگری ہو یا چائلڈ لیبر ، کالم گلوچ ہو یا لڑائی جھگڑے ، جان لیوا اوزار کا استعمال عام ہو یا سگریٹ نوشی کا بڑھتا رجحان ،  نئی نسل تیزی سے اس راہ پر گامزن ہے ۔
 نئی نسل کی تباہی میں تاجروں کے اس خاص گروہ کا اہم کردار ہے جو نوٹ بٹورنے کے لیے اس قوم کے مستقبل کو  داؤ پر لگا رہے ہیں ۔ کم عمر بچے بھی آج سڑکوں پر ، میدانوں میں ، بازاروں میں ، گلی کوچوں میں ، سگریٹ نوشی کرتے نظر آتے ہیں اور ہمارے تاجر کبھی یہ خیال نہیں کرتے کہ جو سگریٹ ہم ان معصوم بچوں کو فروخت کر رہے ہیں کل وہ اسی راہ پہ چلتے ہوئے منشیات کے عادی بنیں گے ۔ یہی سگریٹ نوشی کم عمری میں منشیات کی جانب بڑھتا ہوا پہلا قدم ہے ۔ نسوار کا استعمال بھی نوجوان نسل میں عام ہو رہا ہے ۔ ہمارے تعلیمی اداروں سے وابستہ نوجوان سگریٹ نوشی اور نسوار کا استعمال عام کر رہے ہیں اور ہمارے تاجر پیسے بٹورے میں مصروف عمل ہیں ۔
 سگریٹ نسوار کے بعد پتنگ بازی کی جانب رخ کیا جائے تو حال ہی میں کئی واقعات آپ کی نظروں سے ایسے گزرے ہیں جو اس پتنگ بازی کے شغل میلے کے سبب قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے ۔ آخر ہم ایسا موت کا سامان رکھتے ہی کیوں ہیں جس سے معاشرے میں سوائے بگاڑ کے کچھ فائدہ نہ ہو ؟ عید آتے ہی تاجر حضرات کھلونا بندوقوں اور پٹاخوں کی سیل لگا لیتے ہیں اور یہی پٹاخے اور کھلونا بندوقیں  سوائے  شور شرابے کے کچھ بھی نہیں لاتی ہیں البتہ اکثر اوقات ان چیزوں سے کوٸی  نقصان ضرور پہنچتا ہے ۔ بچوں میں ان کھلونوں کی وجہ سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جیسے کسی بچے کی آنکھ ضیاع ہو جاتی ہے ، کسی کے گھر میں پٹاخوں سے قیمتی سامان جل جاتا ہے ، نمازیوں کو نماز کی اداٸیگی میں مشکلات پیش آتی ہیں اور  دہشت گردی کے لیے ذہن سازی کرنے میں  ان پٹاخوں اورکھلونا بندوقوں کا اہم کردار ہے ۔ 
 ایک اندازے کے مطابق ملکی آمدن کا 90 فیصد حصہ تاجروں سے ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے ۔ ملک کی ترقی میں تاجروں کا اہم کردار ہے مگر خدارا اپنا محاسبہ کیجیے ۔ نئی نسل کی تباہی میں حصہ دار بننے کی بجائے نئے نسل کو سنوارے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ یقیناً ہمارا ایک قدم کسی گھرانے کی تاریکی کو ختم کر کے وہاں شمع روشن کر سکتا ہے ۔ آٸیں مل کر اس چمن کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ ”اب نہیں تو پھر کبھی نہیں“۔

بشکریہ اردو کالمز