(آخری قسط) تاخیری انصاف کی اگر آسان الفاظ میں تشریح کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ حصول انصاف کے لئے عدالت سے رجوع کرنے والے سائل کا مقدمہ، ٹرائل یا کارروائی بغیر کسی وجہ کے طویل تاخیر کا شکار ہو جائے. قانونی ماہرین اور دانشور اسے انصاف نہ دینے کے مترادف سمجھتے ہیں. اگر انصاف میں ہونے والی تاخیر کے کسی متاثرہ شخص, خاتون, بچے, بزرگ, اس سے جڑے خاندان, عزیز و اقارب, ارد گرد رہنے والے افراد اور پھر پورے معاشرے پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات درست لگتی ہے کہ انصاف صرف امیر یا بااثر ہی حاصل کر سکتا ہے جبکہ غریب اپنی زندگی اس کے خواب میں ہی گزار دیتا ہے. پاکستان کا ہر شہری بخوبی جانتا ہے کہ ہمارے یہاں کمزور نظام انصاف کے باعث سائلین سالہاسال انصاف کے لئے عدالتوں میں دھکے کھاتے رہتے ہیں. اس طرح انصاف میں تاخیر کا سب سے پہلا نشانہ بذات خود متاثرہ شخص ہی بن جاتا ہے کیونکہ تاخیر کے نتیجے میں جس کے ساتھ ظلم ہوا ہے یا جس نے دادرسی کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے چاہے اس کی نوعیت کچھ بھی ہو اسے اپنے مقدمے کی سماعت کے لیے نامعلوم مدت تک انتظار کرنا پڑے گا۔ یہ تاخیر متاثرین کو انصاف سے محروم کر سکتی ہے، کیونکہ طویل تاخیر سے شواہد اکٹھے کرنے، گواہوں کی تلاش، اور مخصوص تفصیلات کو درست طریقے سے یاد رکھنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تاخیر سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور اضطراب متاثرہ شخص کو جذباتی اور نفسیاتی نقصان میں مبتلا کر سکتا ہے۔ متاثرین کو انصاف ملنے کی امید پر اپنے مقدمات کے حل ہونے کا مسلسل انتظار اور تناؤ کی کیفیت شدید صدمے کا باعث بھی بن جاتی یے. جبکہ کچھ لوگوں کے لیے یہ تاخیر بے بسی اور مایوسی کے جذبات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس تاخیر کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ قانونی نظام پر عوام کا اعتماد بتدریج ختم ہوتا جاتا ہے۔ لوگ عدالتوں اور نظام انصاف پر سوال اٹھانا شروع کر دیتے ہیں. اسی طرح سرمایہ کاروں یا شہرت سے متعلق قانونی تنازعات کا سامنا کرنے والوں کے لئے انصاف میں تاخیر ان کی معاش اور ساکھ پر شدید اثر ڈال سکتی ہے۔ انصاف حاصل کرنے کے لئے مالی وسائل کا ہونا بنیادی شرط ہے اور اسی لئے اس میں تاخیر مالی بوجھ بن جاتی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے قانونی نمائندگی، دستاویز کی تیاری، اور عدالتی فیسوں میں اضافی اخراجات کے باعث قانونی کارروائیاں بھی مزید پیچیدہ اور مہنگی کر دی ہیں. ایسی صورتحال میں محدود مالی وسائل رکھنے والے انصاف تک رسائی کی بجائے بے انصافی سہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں. ملک بھر کی عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافے کی بنیادی وجہ بھی انصاف میں ہونے والی تاخیر ہی ہے. انصاف کو یقینی بنانے، عوامی اعتماد اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے قانونی معاملات کا بروقت حل ضروری ہے۔ ان حالات میں ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی مصنوعی نظام جو بہت درست طریقے سے (95 فیصد درست امکانات کے ساتھ) عدالتی فیصلوں کے نتائج کی پیش گوئی کر سکتا ہے تو ہمیں ان پیش گوئیوں کو لازمی رہنما اصول سمجھنے کے بارے میں غور کرنے کا آغاز کردینا چاہئے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں مقدمات کے اتنے سارے ڈھیر پڑے ہیں جو انسانی محنت اور کوششوں سے نمٹانا ممکن نہیں ہے۔بھارت, پاکستان, برازیل سمیت جن ممالک میں عدالتوں میں پرانے مقدمات کا ایک ڈھیر (بیک لاگ) پڑا ہوا ہے انھیں وکلا اور ججز مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیزی سے نمٹا سکتے ہیں. اگر ہم پاکستان کے حالات کا بغور جائزہ لیں تو شاید دنیا کے کسی بھی ملک کی نسبت ہمیں روبوٹک ججوں اور وکلاء کی سب سے زیادہ ضرورت ہے. مصنوعی ذہانت کی مدد سے نہ صرف عدلیہ پر اٹھنے والے اربوں روپے کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ کرپشن کے عفریت پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ روبوٹک جج سے مراد AI سے چلنے والا نظام ہے جو عدالتی کام انجام دے سکتا ہے، روبوٹک ججوں کے اہم ممکنہ فوائد میں سے ایک ان کا مسلسل بغیر کسی چائے کے وقفے کے عدالتی کام کرنا ہے. ہمارے ہاں سب جانتے ہیں کہ اعلی اور ماتحت عدلیہ میں سردیوں اور گرمیوں کی تعطیلات ہوتی ہیں. چھٹیوں کی یہ روایت بھی دنیا بھر میں بچوں کے سکولوں کے علاوہ صرف پاکستانی عدلیہ میں ہی پائی جاتی ہے. لاکھوں زیر التواء مقدمات کے بوجھ تلے دبے بشری ججز اپنے لئے یہ تعطیلات ناگزیر سمجھتے ہیں. لیکن روبوٹ ججز ان بشری تقاضوں سے آزاد ہیں. انھوں نے بلاتعطل اور غیر جانبداری سے اپنا کام کرنا ہے. اے آئی سسٹمز کی طرف سے فراہم کردہ رفتار اور درستگی قانونی تنازعات میں تاخیر کی بجائے انھیں تیزی سے حل کرنے میں مدد کر سکتی ہے جیسے کہ قوانین کی تشریح کرنا، شواہد کا اندازہ لگانا، اور قانونی فیصلے کرنا۔ جس سے بلاشبہ مقدمات کا بوجھ کم ہو گا. روبوٹک ججز قانون کا مستقل اطلاق فراہم کریں گے، کیونکہ وہ ذاتی تعصب یا بیرونی عوامل سے متاثر نہیں ہوتے۔ اس طرح روبوٹک ججز کو نہ تو بااثر وکلاء دبائو میں لا سکیں گے اور نہ ہی انھیں کوئی سفارش متاثر کر سکے گی. روبوٹک جج ممکنہ طور پر معمول کے مقدمات کو سنبھال سکتے ہیں، انسانی ججوں کو ایسے پیچیدہ معاملات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے آزاد کر سکتے ہیں جن کے لیے انسانی فیصلے اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بشری ججز کی نسبت روبوٹ ججز تنخواہ وصول کرنے کی بجائے مفت خدمات سرانجام دیں گے. اسی طرح انھیں ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور دیگر مراعات کی ضرورت بھی نہیں ہو گی. روبوٹ ججز بڑے بڑے گھروں اور ملازمین کی فوج کی ضرورت کے بھی محتاج نہیں ہوں گے. دوسری طرف روبوٹک وکلاء بھی AI سسٹمز ہیں جو انسانی وکلاء کی مختلف قانونی کاموں میں مدد اور مدد کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ روبوٹک وکلاء قانونی تحقیق، کیس کے تجزیہ، معاہدے کا مسودہ تیار کرنے میں مدد کر سکتے ہیں، اور یہاں تک کہ سائلین کو قانونی مشورہ بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ روبوٹک وکلاء کا مقصد AI اور آٹومیشن کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر قانونی عمل کی کارکردگی اور درستگی کو بڑھانا ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ یہ تمام خدمات بلامعاوضہ انجام دیں گے. روبوٹک ججوں اور وکلاء کے ممکنہ فوائد میں انصاف تک بہتر رسائی، اخراجات میں کمی، مقدمات کا تیز تر حل اور قانون کا زیادہ مستقل اطلاق شامل ہیں. یقینی طور پر روبوٹ جج اور روبوٹ وکیل ہی اب آخری امید لگتے ہیں کہ ان کی بے لوث اور بشری تقاضوں سے عاری محنت ہی ہمارے قانونی و عدالتی نظام کی سمت درست کر سکے گی. عوام کا بھی شاید آن سکرین اوتار پر اعتماد قائم ہو جائے اور تمام افراد کو یکساں حقوق میسر ہو جائیں.
212