گزشتہ دنوں پاکستان کی عدلیہ نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے چیٹ بوٹ جی پی ٹی فور (AI Chatbot GPT 4) کی مدد سے دیوانی مقدمے کا پہلا فیصلہ کر دیا ہے بلاشبہ مآتحت عدلیہ کے جج عامر منیر کی اس علمی کاوش کی اعلی عدلیہ اور حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی اور اس بارے میں قانون سازی سے متعلق ان کی تجاویز پر غور کیا جائے تو ہمارے کمزور عدالتی نظام کے کاندھوں پر لاکھوں زیر التواء مقدمات کا بوجھ نہ صرف کم ہو گا بلکہ انصاف میں تاخیر جیسے سنگین مسئلے سے بھی چھٹکارہ حاصل ہو سکتا ہے. دنیا کے ترقی یافتہ ممالک ک طرز پر پھالیہ کی سیشن عدالت کے جج عامر منیر نے ایک دیوانی مقدمے کے فیصلے سے قبل چیٹ بوٹ سے مدد لینے کا تجربہ کیا جس کا مقصد اس کی صلاحیت کو جانچنا تھا. ایڈیشنل سیشن جج پھالیہ منڈی بہاؤالدین محمد عامر منیر نے اراضی کی ملکیت کے مقدمے میں سول عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر چیٹ بوٹ جی پی ٹی 4 کی صلاحیت کے اس تجربے کو کامیاب قرار دے دیا. سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ فاضل جج نے اس مقدمے کا فیصلہ اپنے آزادانہ ذہن سے کیا جس کے تحت یہ اپیل مسترد کی گئی تھی بلکہ انبوں نے اس اپیل کو مسترد کرنے کی اپنی وجوہات بتانے کے بعد مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو آزمایا. فاضل جج نے چیٹ بوٹ کو اپنے فیصلے کا بتاتے ہوئے سوال پوچھا کہ پاکستان میں دیوانی مقدمے میں حکم امتناعی دینے کے لئے اصول کیا ہیں؟ جس پر چیٹ جی پی ٹی 4 نے عدالت کو اس وقت حیران کر دیا جب اس نے اپنے جواب میں بتایا کہ عدالت نے تین قانونی نکات کی بنیاد پر اس معاملے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فیصلے کے لئے مزید تین نکات کا جائزہ لینا چاہئے تھا. چیٹ بوٹ نے اپنے جواب میں کہا کہ حکم امتناعی جاری کرنے کے لئے عدالت کو مجموعی طور پر چھ نکات کی تصدیق کرنی چاہیے. مقدمہ بادی النظر میں قابل بحث ہو، سہولت کا توازن ہو, ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہو, مدعی کی نیک نیتی ہو، مفاد عامہ کا سوال ہو اور مساوی تحفظات پر بھی غور کرنا چاہئے. فاضل جج نے اپنے فیصلے میں چیٹ بوٹ کی تجاویز کو متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو مصنوعی ذہانت کے بتائے نکات نیک نیتی، مفاد عامہ اور مساوی تحفظات کو بھی دیکھنا ہوگا کیونکہ ہمارے دیوانی قانون نے بھی عدالتوں کی ان جہتوں پر غور و فکر کی رہنمائی کی ہے. اسی طرح چیٹ جی پی ٹی فور کے تین نکات بھی ہمارے قوانین اور سالوں میں تیار کی گئی نظیروں کے دائرے میں ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کوئی بھی تجویز ہمارے قوانین کے منافی نہیں بلکہ یہ معیاری فیصلے میں مددگار ہے۔ چیٹ بوٹ کی دیوانی اپیل میں دی گئیں تجاویز پاکستان کے ضابطہ دیوانی 1908 سے مکمل مطابقت رکھتی ہیں اور یہ تجاویز جج کو.معیاری فیصلہ کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں. خوش آئند بات یہ ہے کہ فاضل جج نے کھلے دل سے چیٹ بوٹ کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے ان نکات کا بھی جائزہ لے کر فیصلہ مکمل کیا. جس کی وضاحت عدالت نے اپنے فیصلے میں کچھ یوں لکھتے ہوئے کی کہ عدالتیں عمومی طور پر حکم امتناعی کی درخواست پر تین نکات وضع کرتی ہیں. جبکہ چیٹ جی پی ٹی 4 کے بتائے چھ میں سے تین نکات کا عدالت پہلے جائزہ لے چکی تھی. جن میں قابل بحث معاملہ، سہولت کا توازن اور ناقابل تلافی نقصان جیسے نکات شامل تھے. عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت عام طور پر ذہین انسانوں سے وابستہ کاموں کو انجام دینے کے لیے استعمال کی جاتی یے. یہ روبوٹ ججوں کا وقت ہے۔ ہمارا پڑوسی چین 2017 سے عدالتوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہا ہے۔ ایک روبوٹ جج کو مخصوص مقدمات جیسے تجارتی تنازعات، ای کامرس کی ذمہ داری کے دعوے، اور کاپی رائٹ کی خلاف ورزیوں کی سماعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آج تک، چین میں ایک روبوٹ جج کے ذریعے 30 لاکھ سے زیادہ مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں۔"مشرقی چین کے صوبہ بیجنگ کے دارالحکومت ہانگزو میں دعویٰ کرنے والا ایک وکیل چین کے قومی نشان کے نیچے سیاہ لباس پہنے ہوئے جج کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کر رہا ہے۔ تاہم، یہ جج ایک آن اسکرین اوتار ہوتا ہے جو گوشت اور خون کے بجائے پکسلز پر مشتمل ہے۔ ہانگژو انٹرنیٹ کورٹ، اور بیجنگ اور گوگنزو میں 118,764 مقدمات ہیں، جو 2017 اور دسمبر 2019 میں مصنوعی ذہانت کے متعارف ہونے کے بعد سے 88,401 تک پہنچ چکے ہیں۔ مشین سے چیٹ پروگراموں میں پوچھے گئے سوالات کے "عقلی" جوابات فراہم کرنے کے لیے قانونی ڈیٹا بیس استعمال کیے جا رہے ہیں۔ Openai.com ان میں سے سب سے حالیہ میں سے ایک ہے جس نے چیٹ بوٹ جی پی ٹی فور لانچ کیا ہے. یہ چیٹ بوٹ" بطور ایک کمپیوٹر پروگرام جو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کے سوالات کو سمجھنے اور انسانی گفتگو کی نقل کرتے ہوئے ان کے جوابات کو خود کار طریقے سے دیتا ہے۔ چیٹ بوٹ جتنی دیر تک کام کرتا ہے، اس کے جوابات اتنے ہی مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ لہذا ایک چیٹ بوٹ حال ہی میں مربوط الگورتھم پر مبنی علم کے ساتھ زیادہ تفصیلی اور درست جواب دے سکتا ہے. دنیا میں اس وقت بہت سی تنظیمیں اور صنعتیں مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہیں اور قانون بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ قانونی فرمیں پہلے سے ہی چیٹ بوٹس استعمال کر رہی ہیں حتیٰ کہ اپنے کلائنٹس کے لیے "معاہدے" تیار کرنے کے لیے۔ اس لئے کیوں نہ ہم، ججز بھی اس سے متعلقہ رہیں؟ کیوں نہ اس طاقتور انسانی دماغ کی صلاحیت کو AI "اسسٹنٹ" جیسے پرکھا جائے؟ جیسا کہ دیگر ممالک میں کیا گیا ہے، یقینی طور پر فیصلہ سازی کے کچھ حصے کو AI ٹولز اور روبوٹس کے ذریعے سنبھالنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس سے عدالتوں اور انسانی ججوں پر بوجھ کم ہوگا۔ یہ اب ہے؛ یہ مستقبل ہے. فائدہ اٹھانے والا سائلین اور معاشرہ ہے. عدالت نے اپنے فیصلے کی نقول لاہور ہائی کورٹ قانون اور انصاف کمیشن کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ مصنوعی ذہانت سے متعلق گفتگو پرقانون میں اصلاحات کی تجویز کے طور پر پر غور کیا جاسکے. جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں عدالتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے فیصلہ سازی کرنے کا ایک نیا موقع ہے،جو کہ بلاشبہ، پاکستانی نظام قانون کے ساتھ اس کی مطابقت سے مشروط ہے۔ "کورٹ روم ٹیکنالوجی" جیسے روبوٹ ججز، الیکٹرانک فائلنگ، انٹرایکٹو آن لائن قانونی مدد اور چیٹ بوٹس وغیرہ یہ سب مصنوعی ذہانت کے اگلے مراحل ہیں. ہمارے ہمسایہ چین اور انڈیا سمیت دنیا کے دیگر ممالک اپنی عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لئے ان مراحل کو بڑی تیزی سے طے کرتے ہوئے مثبت نتائج حاصل کر رہے ہیں. (جاری ہے)
347