447

"امریکا,چین ٹیکنالوجی اور کورونا وائرس"

   امریکا اور چین کے مابین ٹیکنالوجی اور دنیا کے وائرلیس انفراسٹرکچر پر کنٹرول کی لڑائی جاری ہے لہذا امریکا جو اس وقت سپر پاور ہے کسی کو کیونکر اپنے مساوی کے طور پر برداشت کر سکتا ہے....
امریکا کا چین کے خلاف بغض بھی بے جا نہیں ہے کیونکہ ایسی تمام معدنیات جو ڈیجیٹل معیشت کے لئے نہایت ضروری ہیں اور جوکہ دنیا کے چند ممالک ہی میں پائی جاتی ہیں پر چین کو مکمل دسترس حاصل ہے...
یہ دسترس کس طرح حاصل ہوئی یہ ایک علیحدہ بحث ہے...
اور یہ ایسی معدنیات ہیں جس کے بغیر کوئی بھی نیا فون,سیٹلائیٹ,گاڑی اور مخصوص ڈیجیٹل چیزیں نہیں بن سکتیں...
اور تو اور چین نے اپنے تیرہویں پانچ سالہ منصوبے (2016/2020)کو دھاتوں کی صنعت کی فیصلہ کن جنگ کا دور کہا ہے....
جس منصوبے کا حصہ Made in China 2025 بھی ہے جس کا مقصد دفاعی,سائنسی,ٹیکنالوجی کی صنعت کی بڑھوتری ہے...
لہذا اس سب کے باوجود بھلا کوئی سپر پاور اپنا موجودہ مقام کھونے کے لئے آخر کس قدر سکوت میں رہ سکتا ہے....؟
لہذا اس بات میں کسی بھی قسم کا کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس میں ورلڈ سپر پاور کا ہاتھ ہے اور اس پروپیگنڈے کے پیچھے امریکا و چین کا ٹیکنالوجی میں بڑھتی ہوئی ارتقائی دوڑ ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں, امریکا نے ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں....
چینی معاشی استحکام کو غیر مستحکم کرنا اور اپنے لئے سرمایا کاری کی ایک نئی راہ ہموار کرنا لیکن  چین نے بھی اس وائرس کا بڑی خوش اسلوبی سے مقابلہ کیا ہے اور کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ متاثرہ ممالک کی مدد میں بھی پیش پیش ہے,
اور اس وقت امریکا کا طرز عمل کچھ یوں ہے...

"پہلے اُس نے اک وبا چاروں طرف تقسیم کی
پھر   کَہا اِکسیر  جس کو  چاہیے  مجھ  سے  ملے"
  
لیکن امریکا کی اس وبا سے نمٹنے کی صورتحال چین سے قدرے مختلف ہے کیونکہ چین جس انداز سے کورونا کا مقابلہ کر رہا ہے وہ قابل ستائش ہے,لہذا امریکا اب ایک تنگ گھاٹی میں گر پڑا ہے جس سے نکلنے کے لئے وہ زوروں کی لگا رہا ہے بہر حال یہ بعد کی بات ہے کہ امریکا اس مشکل وقت سے کب نکلے گا مگر موجودہ صورتحال جو بتا رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے امریکا کی معیشت کو لازما دھچکا لگنے والا ہے کیونکہ امریکا نے اگر لاک ڈاؤن برقرار رکھا جس سے فی الوقت تحقیق کے مطابق  سات کروڑ افراد متاثر ہو رہے ہیں تو لازما یہ اس کے لئے کوئی خیر کی علامت ثابت نہیں ہوگا.
اور مزید یہ کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے لگ بھگ 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے کم از کم 35 ہلاکتیں ریاست نیو یارک میں ہوئی ہیں۔

اس سے قبل کیلی فورنیا کے حکام جمعے کو ہی ریاست بھر میں لاک ڈاؤن کر چکے ہیں۔ کیلی فورنیا کی آبادی تقریباً چار کروڑ ہے جب کہ الینوائے میں ایک کروڑ 26 لاکھ کے قریب افراد رہتے ہیں۔ نیویارک کی آبادی ایک کروڑ 90 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یوں ان تین ریاستوں میں لاک ڈاؤن کے بعد امریکہ کے سات کروڑ کے قریب شہری گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

البتہ وہ اشیائے خور و نوش کی خریداری یا دیگر ضروری کاموں کے لیے باہر نکل سکتے ہیں۔

امریکہ میں یہ حفاظتی اقدامات اٹلی اور اسپین کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کیے جا رہے ہیں جہاں اب کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے اسپتالوں میں جگہ بنانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

اٹلی میں کرونا وائرس سے پاچ ہزار سے ہلاکتوں کے بعد تعداد چین میں ہونے والی ہلاکتوں سے بی آگے نکل گئی ہے جب کہ دنیا بھر میں 19000 ہزار سے زائد افراد اس وبا کا شکار ہو کر لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

امریکہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 58793 ہزار 793  تک پہنچ گئی ہے۔
خلاصہ یہ کہ اقدامات اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے چین کی پش قدمی امریکا کے لئے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے.

بشکریہ اردو کالمز