410

"دعا قبول نہیں ہوتی کیوں۔۔۔۔۔؟"                                            

حضرت ابراھیم بن ادھم کے پاس کچھ لوگ آئے اور ان سے سوال کیا: اے ہمارے امام! کیا بات ہے کہ ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتی،انہوں نے جواب دیا:
   تم اللہ تعالی کو پہچانتے ہو لیکن اس کے احکام پر عمل نہیں کرتے,
تم رسول صلی اللہ علیہ و سلم  کی محبت کے دعوے کرتے ہو لیکن اس کی سنتوں کو تم نے ترک کردیا ہے,
تم شیطان کو دشمن قرار دیتے ہو لیکن اس کی پیروی کرتے ہو,
تم جنت کے بارے میں جانتے ہو،لیکن اس کے حصول کی کوشش نہیں کرتے,
تم جہنم کی ہولناکیوں کو جانتے ہو،لیکن اپنے آپ کو اسی کی طرف دھکیل رہے ہو,
تم کہتے ہو کہ موت کا آنا یقینی ہے،لیکن اس کے لئے تیاری نہیں کرتے,
تم اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہو،لیکن اس کا شکر ادا نہیں کرتے,
پھر تمہاری دعا کیسے قبول ہو.....؟
ذرہ توجہ فرمائیں یہ صورتحال قدیم عہد کی ہے جب لوگ بنسبت ہمارے ایمان و امانت میں کہیں گنا زیادہ تھے ان کی صداقت کی مثالیں دی جاتی تھیں لیکن باوجود اس کے ان کو دعا کی عدم قبولیت کی شکایت تھی لہذا وہ اپنی شکایت لیئے اپنے دور کے ایک بزرگ کے پاس جمع ہوتے ہیں.
کہتے ہیں دعا قبول نہیں ہوتی,کیا کریں...؟
بزرگ فرماتے ہیں:
اے لوگو....!
دعا کی قبولیت کے کچھ شرائط ہیں اگر وہ پورے ہونگے تو دعا بھی قبول ہوگی اور اگر وہ پورے نہیں تو دعا کی قبولیت کی بھی کوئی سبیل نہیں.....
احکام خداوندی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر عمل,شیطان کو دشمن جانتے ہوئے اس سے دوری,اللہ میاں کا شکر,موت سے عبرت حاصل کرنا,جنت کے حصول کی کوشش اور جہنم سے بچاؤ کا سامان کرنا,
اب خود ہی اپنے نفس کو حکم مقرر کرلو وہ تمہیں خود بتائے گا کہ یہ چیزیں تمہارے اندر ہیں یا نہیں لہذا اگر نہیں ہیں تو اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوکر گڑگڑاؤ,توبہ کرو پھر تم خود بخود اس کا نتیجہ دعاؤں کی قبولیت کی صورت میں اپنے سامنے پاؤگے,کیونکہ میرے رب کی رحمت بہت وسیع ہے,
لہذا اس دور کے لوگوں کو تو خصوصاً اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ اللہ کے در پے دستک دیں,منکرات سے اجتناب کریں,اخلاص,صداقت و دیانت کے دامن کو پکڑے رکھیں تاکہ دعا بھی قبول ہو اور ایمان بھی مضبوط ہو,لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب ہم ایمان کا دامن ترک کر بیٹھتے ہیں اور اللہ میاں سے صرف نظر کر کہ پیروں اور مزاروں کی اتباع میں اتنے آگے نکل جاتے ہیں کہ ہم بذات ان سے دعا مانگنے لگتے ہیں اگر ان سے نہیں تو ان کو وسیلہ ضرور بناتے ہیں,
چناچہ اللہ میاں فرماتے ہیں :

و اذا سألك عبادي عني فإني قريب،أجيب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوا لي و ليؤمنوا بي لعلهم يرشدون 
(البقرة 186)
 ترجمہ:
 "جب آپ سے میرے متعلق میرے بندے پوچھیں تو انہیں بتادیں کہ میں ان سے قریب ہوں,پکارنے والا جب مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں پھر مجھ ہی کو مانیں اور مجھ ہی پر ایمان لائیں شاید ہدایت پا سکیں"
  
 لہذا ہمیں اس آیت کریمہ میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہمیں اللہ میاں ہی سے دعا مانگنی چاہیے کیونکہ وہ ہمارے نہایت قریب ہے اور اس ہی پر ایمان رکھنا چاہیے کیونکہ اس ہی میں ہماری ہدایت مرموز ہے,
 اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین)

بشکریہ اردو کالمز