312

ہمارے شفیق حکمران

 

 

پاکستانی عوام کے سامنے شروع سے ہی متفرق نعرے لگائے جا رہے ہیں اور ہمارے حکمران قلب میں عوام کی خدمت کا عزم لیے سٙر توڑ کوششیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ جیسا کہ جب بھٹو دورِ اقتدار میں آئے تو وہ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے پر عوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف کرنے میں سرخرو ہو گئے۔ لوگوں کی بنیادی ضروریات کا ذکر کرنا بالکل ایسے ہی تھا جیسے لوگوں کی شہ رگ کو بنیاد سے پکڑ لیا جائے۔ بھٹو نے پاکستانی عوام کو کئی سال تک اس نعرے کے ذریعے ایک خوشحال اور پرسکون تصوراتی دنیا میں رہائش پذیر رکھا۔

 

جب ضیاء نے بھٹو سے اقتدار چھینا تو ضیا بھی ظاہر ہے پاکستان کے انہیں چند حکمرانوں میں سے ایک تھے جن کا دل عوام کے لیے دھڑکتا تھا تو ضیاء نے اقتدار میں آتے ہی عوام کی حالت کو جانچا اور اسے جب بتایا گیا کہ عوام کی بنیادی ضروریات تو بھٹو پہلے سے ہی پوری کر چکا ہے تو ضیاء کو ایک لمحہ کے لیے اطمینان تو ملا لیکن ضیا کا دل پھر سے عوام کی خدمت میں کچھ نہ کچھ کرنے کے لیے دھڑکنے لگا اور نتیجتاً ضیاء نے لوگوں کے دلوں کو اسلام کی روشنی سے منور کرنے کے لیے ملک میں اسلامائزیشن کا پرچار کیا جس پر نہ صرف پاکستان کے اسلامی بھائیوں نے بلکہ دنیا کے تقریبا ہر خطے سے مسلمانوں نے لبیک کہا اور یوں ضیاء کے قلب کو اطمینان ملا اور اس کی عوام کی خدمت کرنے کی پیاس کی شدت میں بھی کمی ائی۔ ضیا مسلمانوں کی زندگیوں کو اسلام سے منور کرنے کے گیارہ سال بعد خدا کو اپنی دینی خدمات کے قصے سنانے کے لیے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ 

 

جب 2018ء میں پاکستان کے روایتی ہمدرد پہلی بار اقتدار سے باہر ہو گئے اور ایک نیا مسیحا عمران خان کی شکل میں اقتدار میں آیا تو اس نے بھی لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور و فکر کرنے کے بعد اس خوشحال اور مومن عوام کو کرپشن کی لعنت سے بھی چھٹکارا دلوانے کا بیڑا اٹھا لیا۔ وہ تو اس کی مخالفین نے خان کو اقتدار سے ہٹا دیا ورنہ کرپشن تو ملک میں ختم ہونے کی نہج پر تھی اور یوں خان نے ہجرِ ہجوم میں پہلے بنی گالہ اور پھر زمان پارک کو اپنا وصل کاٹنے کے مسکن کے طور پر چنا۔

 

اب بات کرتے ہیں موجودہ دور کے پاکستان کے محسنوں کی جو کہ بے شمار سیاسی جماعتوں کے شفیق ترین لوگوں کا مجموعہ ہیں۔ پی ڈی ایم کی غیرت نے یہ گوارا نہ کیا کہ ہمارے زندہ و جاوید ہونے کے باوجود اس ملک کی عوام مہنگائی کی چکی تلے پِس رہی ہے تو حکمرانوں کا یہ طبقہ آتے ساتھ ہی مہنگائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کے کھڑے ہو گیا اور جب اچھے نتائج حاصل ہونے میں تاخیر ہونے لگی تو شہباز شریف صاحب نے غمِ عوام میں ایک بار جذباتی ہو کر یہ تک کہہ ڈالا کہ میں اپنے کپڑے بیچ دوں گا لیکن اس عوام کو اس غم کی حالت میں نہیں دیکھوں گا جس کے بعد شہباز شریف صاحب نے پاکستان کے جانے مانے ڈیزائنرز سے اپنے نئے کپڑے بنوانے کے لیے رجوع کیا تاکہ پرانے کپڑوں کو بیچ کر عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جا سکے۔ اب جب کبھی بھی شہباز شریف صاحب سکرین پر آتے ہیں تو انہیں نئے کپڑوں میں ہی دیکھا جاتا ہے صد افسوس! کہ ہم ان پرانے فلاحی کپڑوں کا چاہتے ہوئے بھی دیدار نہیں کر سکتے۔

 

اب بنیادی ضروریات پوری ہو چکی ہیں، ملک میں مجاہدین کا بول بالا ہے، کرپشن اور مہنگائی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اسی اثنا میں اچانک سے نو مئی کا واقعہ ہو جاتا ہے ملک میں ہر طرف ہُو کا عالم ہے، ہر انکھ اشکبار ہے، جھنڈے کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کا سرنگوں ہے اور ہر طرف سے یہی صدا آ رہی ہے کہ "میں نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں"- بلا شبہ پیچھے بیان کیے گئے تمام اقدامات کی طرح یہ بھی ایک عوام دوست اور احسن اقدام ہے اور میں بھی ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے پی ٹی ائی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں اور نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں اور آپ سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس ملک دوست تحریک کا ضرور حصہ بنیں۔ اللہ اس ملک کا اور اس ملک کے شفیق حکمرانوں کا حامی و ناصر ہو۔

 

حکمران بیچارے تو جس نعرے کا جتنا منجن بیچ سکتے تھے انہوں نے بیچا اب ہمارا بھی بحیثیت قوم یہ فرض بنتا ہے کہ کم از کم آج سے یہ عہد کر لیں کہ ہم اپنے حقیقی حکمرانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور نو مئی کے واقعات کی بھرپور مذمت کریں کیوں کہ انہیں حقیقی حکمرانوں جیسے شفیق چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔

بشکریہ اردو کالمز