جب بھی ان دو شخصیات کا تذکرہ ہو تو سب سے پہلے جو بات پاکستانیوں یا بنگلہ دیشیوں یا سابقہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے باشندوں کے ذہن میں آتی ہے وہ "سقوطِ ڈھاکہ" ہے
عام طور پر تصور یہ کیا جاتا ہے کہ بھٹو اور مجیب متضاد خیالات کے مالک تھے لیکن جب میں نے تاریخِ مشرقی اور مغربی پاکستان کا تنقیدی جائزہ لیا تو مجھے علم ہوا کہ ان میں بہت ساری مماثلتیں موجود تھیں جو تضادات کا باعث بنی۔
بھٹو اور مجیب دونوں بہترین مقرر، خوش گفتار، نبض شناس اور عمدہ خطیب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کے بلائنڈ فالورز ان پر اندھا اعتماد کرتے اور ان کی پیروی و تقلید کرتے تھے مختصرً یہ کہنا بجا ہو گا کہ دونوں پانی میں آگ لگانے اور سیاسی ہواؤں کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے جو کہ انہوں نے سقوطِ ڈھاکہ کر کے ثابت بھی کر دکھایا۔
دونوں صاحبان نے ملک کو آئین کا بہترین تحفہ دیا اگرچہ حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے ان کے آئین میں ترامیم تو کی جاتی رہی ہیں لیکن کوئی بھی شخصیت ان کا متبادل آئین نہیں دے پائی۔
دونوں نے مخالفین کو دبانے کے لیے انتقام پر مبنی کاروایاں اور سخت گیر اقدامات کیے اور اس مقصد کے لئے بھٹو نے "فیڈرل سیکورٹی فورس" (Federal Security Force) جبکہ مجیب نیے "جتيا مُکتی باہنی" (Jatiya Mukti Bahini) کے نام سے منسوب نیشنل ڈیفنس فورس بنائی۔
بھٹو اور مجیب دونوں نے لینڈ ریفارمز، نیشنلائزیشن اور سوشلزم کا پرچار کیا۔
دونوں حکمرانوں کی پارٹیوں کا ووٹ بینک ان کی شخصیت کے گرد منڈلاتا تھا۔
ایک اور مماثلت یہ بھی ہے کہ دونوں حکمرانوں کو تو مار ہی دیا گیا لیکن ان کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی اُسی وقت یا بعد میں قتل کیا گیا ہے۔
دونوں سیاسی رہنماؤں کی پارٹی کے نام میں عوام کا لفظ موجود ہے اس کے علاوہ دونوں سیاسی رہنما نیشنل نہیں بلکہ ریجنل لیڈر تھے اور یہی وجہ تھی کہ 1970ء کے الیکشن میں مشرقی پاکستان کی "عوامی لیگ" مغربی پاکستان میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر پائی اور مغربی پاکستان کی "پاکستان پیپلز پارٹی" مشرقی پاکستان میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کر پائی۔
دونوں کو حکم لینے کی عادت نہ تھی تو بجائے اس کے کہ وہ کسی کمپرومائز کی طرف آتے انہوں نے تقسیم کی راہ کا انتخاب کیا۔
پولیٹیکل سائنس میں ایک جملہ ہے کہ پولیٹیکس اِز دی آرٹ آف کمپرومائز (Politics Is The Art of Compromise)
ضروری نہیں کہ آپ کمپرومائز ہمیشہ اپنے فائدے کو ہی ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے کریں کیونکہ جو شخص خود کو ایک لیڈر کے طور پر پیش کرتا ہے اسے اپنے مفادات پہ قومی اتحاد و مفادات کو فوقیت دینی چاہیے لیکن بدقسمتی سے ان دونوں حضرات کے اقدامات کا آغاز و اختتام ان کی اپنی خواہشات پر ہی تھا ۔
مثال کے طور پر ایک پٙل کے لئے ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ بھٹو کو کرسی سے بہت زیادہ الفت تھی اور وہ اسے چھوڑنے کے لیے کسی صورت بھی آمادہ نہ تھے لیکن کیا مجیب کا چھ نکاتی ایجنڈا مشرقی اور مغربی پاکستان کے باشندوں کے درمیان اتحاد کو پروان چڑھاتا؟
تو اس کا جواب ہے "ایبسولیوٹلی ناٹ" کیونکہ ایسے نکات جو ایک ہی ملک کے لئے دو الگ الگ کرنسیوں یا الگ الگ فوج کی بات کریں وہ اتحاد نہیں بلکہ علیحدگی کا پرچار کرنے کا منہ بولتا ثبوت ہوتے ہیں۔