551

بھٹو اور خان میں  مماثلت| قسط نمبر 3

آج سے تقریباً ایک سال پہلے جب میری بی_ایس پولیٹیکل سائنس  کی ڈگری آخری مراحل میں تھی تو ہم نے ایک مضمون "پاکستان کی خارجہ پالیسی" پڑھا جس میں جب ہم نے بھٹو صاحب کے دورِ اقتدار کا جائزہ لینا شروع کیا تو ہمیں بہت سی باتیں بھٹو اور خان میں مشترک نظر آئیں اور یوں میں نے ریسپیکٹڈ میم ڈاکٹر آسیہ سیف علوی صاحبہ کے مشورے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بھٹو اور خان صاحب میں مماثلتوں پر مبنی کالمز کا ایک سلسلہ شروع کیا اور محض دو اقساط میں مماثلتوں کے اس طویل سلسلے کو سمیٹ دیا جس میں ہر غیر معمولی مماثلت درج تھی۔

 

لیکن کسے خبر تھی کہ بھٹو کی طرح خان کی مغرب کو مزاحمت بھی انہیں دھمکی آمیز خط کے دہانے تک لے جائے گی اور ہم مماثلتوں کا سمیٹا ہوا سلسلہ ایک بار پھر سے پھیلایں گے۔

تو ہم اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے خط اور اس کو لہرانے کے پِس منظر کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

"مثال اُسی کی دی جاتی ہے جو مثال بنا ہو"

 

بھٹو صاحب نے 1977ء کو راجہ بازار میں اسی طرح کا ایک خط عوام کے سامنے لہرایا تھا جو 27 مارچ کے جلسہ میں خان صاحب نے لہرایا ہے اور خان نے کہا ہے کہ مجھے لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔ 

خط کے جواب میں بھٹو صاحب نے موقف اپنایا تھا کہ میں اپنے ملک اور اس کی عوام کی خاطر اس بلیک میلنگ اور دھمکی کو نہیں مانوں گا۔ اور آج اس خط پر خان صاحب کا موقف بھی مختلف نہیں ہے۔ وہ بھی کہ رہے ہیں کہ میں مغرب کے سامنے نہیں جھکوں گا چاہے میری جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔

 

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں 1947ء سے لے کر اب تک بہت سے حکمرانوں نے اس ملکِ خداداد کی بھاگ ڈور  سمبھالی لیکن دھمکی آمیز خطوط صرف بھٹو اور خان صاحب کا ہی مقدر کیوں بنے؟ 

 

دراصل امریکہ نے اس خط کو پانے والے کے لئے ایک دائرہ کار ترتیب دیا ہوا ہے جو پُر خطر مزاحمتی اقدامات پر مبنی ہے 

سب سے پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ بھٹو اس دائرہ کار پر پورا اترنے میں سرخرو کیسے ہوئے؟

 

بھٹو صاحب نے ہینری کیسنجر کی دھمکی کے باوجود ایٹمی پروگرام جاری رکھا۔ ویتنام میں امریکہ کی حمایت نہ کی اور اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کا ساتھ دیا۔ اسکے علاوہ بھٹو نے اسلامی ممالک کے اہم رہنماوں کو اکھٹا کیا اور کانفرنس کی۔ اس کانفرنس میں قراردادیں منظور ہوئیں کہ مسلم دنیا کی اپنی کرنسی ہو، اپنی پارلیمنٹ ہو اور  تیل کی قیمتیں مسلم ممالک خود طے کریں گے۔ 

 

خان صاحب کو امریکہ نے اس خط کے لئے موزوں بندہ قرار کیوں دیا گیا؟

 

بھٹو صاحب کی طرح خان صاحب نے بھی حالیہ دنوں میں اسلامی ممالک کو اکٹھا کر کے یکجا ہونے کی تلقین کی ہے اور چائنہ کے وزیر خارجہ کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا جو کہ امریکہ کے لئے باعثِ تشویش ہے۔

امریکہ کا تشویش کا اظہار کرنے کے باوجود روس کا دورہ کیا وہ بھی ایسے حالات میں جب روس نیٹو کو اپنی سر زمین کے قریب آنے سے باز رکھنے کی فوجی مہم میں مگن تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یورپی یونین کے خط کا دو ٹوک جواب کہ" ہم کوئی غلام ہیں آپکے"

 

باقی حکمرانوں کو اس طرز کے خطوط اس لئے نہیں بھیجے گئے کیوں وہ مغرب کے وفادار و تابعدار و سہولت کار رہے۔ یہ سہولت کار کبھی پی۔این۔اے کا روپ دھار لیتے ہیں تو کبھی پی۔ڈی۔ایم کا لیکن کسی بھی صورت مغرب کے خلاف مزاحمت کے پُر خطر راستے کا چناؤ نہیں کرتے۔

 

اور افسوس کہ ہماری یہی بے شعوری دشمن کے لئے اس کی فوج کا کردار ادا کر رہی ہے اور ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے

خان صاحب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد ہو یا پھر بھٹو صاحب کا تختہ الٹنے کی تحریک یہ محض میلوں دور بیٹھے گوروں کی جنگ ہے جس میں جنگجو ہمارے ہی لوگ ہیں۔ 

 

یہ سہولت کار جمہوریت کو مضبوط کرنے کے نام پر کاروبارِ جمہورت کر رہے ہیں جو کہ نہ تو اس ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ہی اس ملک کی عوام کے مفاد میں۔ 

 

خیر! خط تو اپنی تاریخ دوہرا چکا ہے لیکن کیا خان صاحب کو اقتدار سے نکالنا مغرب اور ان کے سہولت کاروں کے لئے کافی ہو گا یا پھر وہ انتہیائی قدم اٹھا کر بھٹو کی طرح خان کو بھی ہمیشہ کے لئے زندہ رکھنے کی سنگین غلطی دوہرائیں گے؟

 

یاد رہے اب حالات مختلف ہیں اور مختلف حالات کے نتائج بھی مختلف ہی نکلتے ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز