جب سے دُنیا بنی تب سے ہی اولاد آدم مختلف بیماروں کا شکار ہوتی رہی ہے ۔ سابقہ زمانوں میں طاعون نامی وبا عام تھیں، جس سے ہزاروں لوگ ہلاک ہوتے تھے ، یہ وبائی مرض ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتا جاتا تھا اور یوں انسان کے انسان اس کا شکار ہو جاتے تھے کیونکہ اس وبا کا کوئی توڑ موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی دوائی موجود تھی کہ جس کے ذریعے سے اس پہ قابو حاصل کیا جاتا۔ اس موزی مرض پہ قابو حاصل کرنے کے لیے مُسلم حُکماء و سائنسدانوں نے کچھ طریقے تجویز کیں۔ جس سے کئی صدیوں تک دنیا اِستفادہ کرتی رہی۔ پر جب سے سائنس میں جدّت آگئی مشینز، مختلف کیمیائی اشیاء اور روزمرہ کی چیزیں بنی ہے جس سے دنیا پر مُثبت کے ساتھ منفی اثرات بھی مرتب ہونے لگے ہیں اور کئی درجن وباوں نے سر اٹھایا جس سے نمٹنے کے لیے نت نئے اور جدید طریقہ علاج مُتعارف ہوۓ ۔
جیسا کہ اینٹی باڈیز انجنیرنگ اس شُعبہ کا اِبتدائی کارنامہ ہے جس پر باقاعدہ کام کا آغاز 1714- 1517 کے درمیان ہوا۔ اس شُعبہ کو آج کل کی سائنسی اصطلاح میں امیونولوجی کہا جاتاہے۔ سب سے پہلے لیڈی مریم ووٹلی مونٹ گو اور ایما نوئل تیمونی نے چیکن پوکس کے ٹیکہ متعارف کرائے جس کی مثال اس پہلے موجود نہیں تھی۔ 1890ء میں اِیمل ووں بہرنگ نے اپنی ایک تحقیقی رپوٹ میں بتایا کہ جانوروں میں serum کی منتقلی سے متاثرہ شدہ جانوروں کا علاج ہوسکتا ہے جس کے بعد انسانوں کے لیے بھی یہ بات عام ہوئی اور 1901 میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ 1900ء میں جدید امیونولوجی کے باپ Ehrlich نے ایک تھیوری دی جوکہ side chine theory کے نام سے مشہور ہے نے کہا کہ چین ایسیپٹرس پیتھوجینز کا پابند ہے اس نے انوکھے نمونے متعارف کرائے اور اینٹی باڈیز کو مختلف برانچز میں تقسیم کیا اور بیرونی مواد سے منسلک antigen کا نظریہ پیش کیا جو کہ دور جدید میں بھی امیونولوجیسٹ کے ہاں قابل قبول ہے۔الیگزینڈر فلیمنگ نے 1928 کو پینسلن دریافت کی ۔ اس اینٹی بائیوٹک ایجنٹ کی سادہ دریافت اور استعمال نے لاکھوں جانیں بچائی ۔ اس کام پر فلیمنگ ، ہاورڈ فلوری اور ارنسٹ چین کے ساتھ مشترکہ طور فزیالوجی/میڈیسن میں 1945 کو نوبل انعام سے نوازا گیا ۔
1948ء میں ایٹرڈ فگریئس نے بتایا کہ plasma B کے خاص خلیے اینٹی باڈیز میں شامل ہے۔ 1957ء میں فربتک برنیٹ اور ڈیوڑ ٹائمک نے colonal selection theory تیار کیا۔ اس میں بتایا گیا کہ ایک lymphocytes ایک مخصوص antibody molecule بناتا ہے یہ نظریہ لین پاولنگ کے نظریہ سے متصادم تھا۔ 1957ء میں۔ جیرالڈ ایڈیل مین اور روڈنی پورٹر نے molecular structure of antibodies کو شائع کیا جس کے بعد دونوں کو مشترکہ طور پر نوبل پرائیز سے نوازا گیا۔ antibody fragment کا پہلا atomic resolution structure، 1973 میں شائع ہوا۔ سن 1975 میں جارجس کلیر اور کیر ملٹین نے monoclonal antibodies ایجاد کیں جس سے اینٹی باڈیز کی تحقیق اور دریافت کے جدید دور کا آغاز ہوا۔
دور جدید کا دوسرا طریقہ علاج vaccination ہے جس کو بیسوی صدی عیسوی میں عروج حاصل ہوئی ، ویسے تو ایڈورڈ ژننر کو اس سائنسی طریقہ علاج کا باپ مانا جاتا ہے پر حیرت انگیز طور یہ ایجاد ان کا نہیں ہے بلکہ چند تکینک انہوں نے متعارف کیں ہیں، مثلا ٹیکہ لگاناطریقہ ہے ۔ بہر کیف، بیسوی صدی کی ابتدا ہی سے سائنس نے ترقی کی نئے منازل طے کیں۔ اور صدی کے دوسرے ہی عشرے میں ہی ویکسینز پر کام کا آغاز ہو گیا اور 1914ء میں pertussis vaccineبنی، 1926میں diphtheria، اور 1938ء میں tetanus کی ویکسین متعارف ہوئی۔ پھر 1948ء کو انہیں مشترکہ کر کے DTP vaccine نام دیا گیا۔ 1955ء میں جوں سالک نے بندر کے خلیوں سے پولیو کی ویکسین تیار کیں اور راتوں رات ہیرو بن گئے، کیونکہ امریکہ میں والدین اپنے بچوں کو لیکر سخت پریشان تھے۔ اور یہاں تک کہ انہوں پولیو ویکیسن کے لیے عطیہ دینا شروع کیا تھا ۔ 1963ء میں measles کی ویکسین تیار کی گئی اور 1960کی دہاہی کے آخر تک ممپس اور روبیلا کی ویکسین دستیاب تھیں۔ 1971ء میں Dr۔ Maurice hilleman نے تینوں ویکسینز کو ملا کر MMR vaccine نام دیا۔ 1985 میں Haemophilia influenza اور hepatitis B کے ویکسینز بن چکی تھیں اور 1989 کو شیڈول تھیں پر ہیپیٹائٹس بی کی ویکسین غیر موثر ہونے کی وجہ سے ایک عشرے تک موقوف رہی اور 1991 میں ری شیڈول ہوئی اور جس کے استعمال سے 18سال سے کم عمر کے بچے اس مہلک مرض سے محفوظ رہے۔
انفلوئنزا ویکسین، جو 1940 کی دہائی سے دستیاب ہیں، اب زیادہ تر بالغوں کے لئے تجویز کی جاتی ہیں۔ ایم ایم آر اور چکن پاکس جیسی ویکسین ان بالغ افراد کے لیے تجویز کی جاتی ہیں جن کو یہ بیماری نہیں ہوئی ہے، اور ہیپاٹائٹس اے، ہیپاٹائٹس بی، نیوموکوکس، اور میننگوکوکس سمیت ویکسین بالغ افراد کے ذیلی گروپوں کے لیے تجویز کی جاتی ہیں۔ HPV ویکسین 2006 میں دستیاب ہوگئی۔ 2018 میں، لائسنس میں توسیع کی گئی تاکہ 45 سال تک کی عمر کے افراد کو شامل کیا جاسکے۔
پہلی شنگلس ویکسین، زوسٹاویکس، کو 2006 میں لائسنس ملا تھا۔ دوسرا شنگلز ویکسین، شنگریکس، جو 2017 میں لائسنس یافتہ ہوئی، زوسٹاویکس کے مقابلے میں زیادہ مضبوط مدافعتی ردعمل پیدا کرتا ہے۔ اس ویکسین کی دو خوراکیں، جو دو سے چھ ماہ تک جدا ہوتی ہیں، 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لئے تجویز کی جاتی ہیں۔
2020 کے آخر میں، پہلے COVID-19 ویکسین COVID-19 وبائی بیماری کے جواب میں استعمال کے لئے منظور کی گئیں۔ اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس پہ تجربے جاری ہے ۔
جب کوئی بھی ویکیسن و اینٹی باڈیز کسی بھی بیماری کو جڑ سے ختم نہیں کرسکتی ہے تو ویکسین اور اینٹی باڈیز پر خطیر رقم خرچ کی وجہ کیا ہے ؟
یہ بات زھن نشین کرنا ضروری ہے کہ ویکیسن ہمارے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے
ویکسین مدافعتی نظام کو مستقبل میں کسی خاص بیماری کے ذریعہ ہونے والے "حملوں " سے بچانے کے لئے کام کرتی ہیں۔ وائیرس اور بیکٹیریل پیتھوجینز، یا بیماری پیدا کرنے والے ایجنٹوں کے خلاف ویکسین کام کرتی ہے ۔ جب کوئی پیتھوجینز آپ کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو، آپ کا مدافعتی نظام اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے تاکہ اس سے لڑنے کی کوشش کریں۔ آپ کے مدافعتی ردعمل کی طاقت اور اس بات پر انحصار کرتے ہیں کہ اینٹی باڈیز کتنے مؤثر طریقے سے پیتھوجینز سے لڑسکتے ہیں، آپ بیمار ہوسکتے ہیں یا نہیں۔
کچھ ایئٹئ باڈیز جو تخلیق کی گئیں ہیں وہ آپ کے بیمار ہونے کے بعد بھی آپ کے جسم پر نگہبانی کرتے ہیں۔ اگر آپ کو مستقبل میں بھی اسی پیتھوجینز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو، اینٹی باڈیز اسے "پہچان" لیں گی اور اس کا مقابلہ کریں گی۔
مدافعتی نظام کو بیرونی وباوں سے بچانے کے لیے ویکسینز استعمال کرتے ہیں آپ کے مدافعتی نظام اینٹی باڈیز تیار کرتے ہیں اگر وہ موثر نہیں ہونگے تو بیرونی طاقت اپ کے جسم پر اثر انداز ہوگئی اور اس اینٹی فورس سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز تیار کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں، آپ بیمار ہوئے بغیر اس بیماری کے خلاف مستقبل میں استثنیٰ حاصل کر لیتے ہیں: اگر آپ کو دوبارہ پیتھوجینز کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو، آپ کا مدافعتی نظام اس کو پہچان لے گا اور اس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جائے گا۔
1995 میں چیکن پوکس کی ویکسین متعارف کروانے سے پہلے ایک سال میں تقریبا چار لاکھ کیسیز رہوٹ ہوئے تھے۔ 2004 تک، اس بیماری کے واقعات میں تقریبا 85 فیصد کی کمی واقع ہوئی۔ ویکسین انے سے پہلے ہر سال خسرو کے کیسیز، 000 800 تک رپورٹ ہوتے تھے ایک نیا لائسنس یافتہ خسرہ کی ویکسین بڑے پیمانے پر استعمال ہونے کے بعد۔ 1965 تک، امریکی میں خسرہ کے کیسوں میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی۔ 1968 میں تقریبا 22000 کیسیز رپورٹ ہوئے (صرف تین سالوں میں 97۔ 25٪ کی کمی۔
پر ابھی تک ویکیسن کےذریعہ سے کوئی بھی وائیرس ختم نہیں ہو سکا اور ممکن بھی نہیں ۔ کیونکہ اس کے پھلاو کو روکنے والا کوئی پیمانہ نہیں کہ اس کے زریعہ سے اس پہ قابو حاصل کیا جا سکے البتہ اس سے مدافعتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے ۔