سنِ طفلی فریب کار ماحول اور غبار آلود فضا میں گزرتی ہے ۔ اس سے تھوڑا آگے بڑھتے ہیں تو ایک صحرا اس سے بھی خوف ناک نظر آتا ہے ۔ جس کو دیکھ کر دل میں ہزاروں خواہشات جنم لیتی ہے ۔
اس وحشت خیز میدان میں پہنچنے تک ایک بچہ تمام بری صفات سیکھ چکا ہوتا ہے اور سماج کے رحم و کرم پہ پلنے والا یہ بچہ تمام خوشنما چیزوں کی طرف لپکتا گندگی وغلاظت جو مختلف جہتوں میں میسر ہے اپنے وجود میں منتقل کردیتا ہے اور یہی نہیں رُکتا بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے اور باغِ جوانی قدم رکھتا ہے ۔
سن جوانی میں خود کو فریب کار دنیا کے حوالے کر دیتا ہے ۔ اس عمر میں اِنہیں نا صیح سے لذتِ زیست میسر ہوتی ہے اور نا ہی خودنماٸی کا اِنہیں خیال آتا ہے ۔ البتہ اس عمر میں حسن پرستی کمال کو پہنچ جاتی ہے اور ہوس کو عشق قرار دے کے چند دنوں کے لیے خود کو جھوٹا عاشق بنادیا ہے ۔ اور ایک خیالی معشوق کے چاہ میں کوہ بے سکوں کھودنے کی فنکاری کرتا ہے ۔ کبھی نیم شبعی کو بیدار ہو کر آٹھ آٹھ آنسو بہتا ہے اور کنبے کو باور کرانا چاہتا کہ واقعی وہ مثلِ قیس و فرہاد ٹھہرا ہے ۔
کل اپنے بچپن کے دوست سے ملاقات ہوٸی وہ بالکل لاغر ہو چکا ہے چہرے کی خوبصورتی زاٸل ہو چکی ہے میں نے اُس کی اِس حالات پہ ان سے شکوہ کیا تو وہ یوں گویا ہوۓ ۔
”مر گئ ، ہاں مر گئ انتقال جئ انتقال ہو گیا ۔ بچپن میں کھبی ہم بھی عاشق ٹھہرے سن بلوغت سے پہلے ممیز بھی نہیں تھے ، ہاں پانچویں جماعت کے طالب علم تھے ۔ ان دونوں کسی شاہینہ کو لیکر پرواز پر جانے کی خواہش دل میں پیدا ہوئی اور عاشقی میں قیس کو بھی گرد کر گے اور آدھی رات کے بعد معشوقہ کے لیے کوہ بے سکوں کھوتے رہے یعنی روتے رہے ۔ امی سے ہماری حالت دیکھی نہ گی اکثر چشم تر دیکھ کر پریشان ہوتی اور سقا بن کر گلو کو تر کر دیتی - ایک دن امی ہمیں حکیم کے متب لے گئ اور حکیم سے حال دل چھوڑ کر حال چشم بیاں کرنے لگی ، لاغر حکیم کو کیا معلوم ہونا تھا وہ خود جرعہ کش تھا جراح نہیں ، اس نے نسخہ لکھا اور دوا خانے سے دوا کی اجرت ادا کر کے ہم گھر کی طرف واپس اہی رہے تھے کہ وہ مل گئ ، یعنی ہماری معاشرتی زبان میں تمھاری بھابی کی امی یعنی ہماری ہونے والی ساس . انہوں نے امی کو سلام کہا ، حال اِحوال پوچھا جس پر امی نے میرے متعلق بتایا کہ حکیم کے پاس لے گئ تھیں ۔امی نے یہ نہیں بتایا کہ تمھاری نزاکت کی چاہ میں میرے لال نے دل شگاف کیا ہے اور خطبی کی طرح آدھی رات کو اُٹھ اُٹھ کر رویا کرتا ہے ۔ بہر حال وہ خاک نائے تو نہیں بنی پر خائن ضرور بنی اور محترمہ نے نزاکت کے رشتے کی بات کیں جو ان کے رشتہ دار کے ہاں تہ ہوئی تھیں جس کو سن کر میں نے خلطِ مُبحث کیں اور ،امی کو گھر لے آیا اور جبین کو ذانو میں چھپا کر خوب رویا اور کچھ خود سے کہا اور ایک شعر لکھ کر دل کو تغذیہ دیا اور ہم نے ان سے ہمیشہ کے لیے کُٹ کردی ان سے یک طرفہ دوستی ختم کر دی اور کاہش سوچ میں رہے ۔ اب تو بے آرزو زانوئے تلمذ تہ کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے دل سے نکل کر طویل المیعاد کہں قیام پزیر ہے خفقان دل سے رحلت کر چکی یعنی ۔۔۔۔۔۔۔ انتقال ۔۔۔۔۔ ہو چکا ہے ۔
مگر ان دونوں میری جوانی جاتی رہی اور پدرِنامدار کی چشم ضوفشان بھی ختم ہوگی ۔میں معاشرہ کا پیداور طاقِ نِسیان کا شکار ہوتا گیا حالات نے پھر سے مجھے ظالم سماج کے آغوش میں ٹھہرادی ۔ میں اتنا بے بس تھا جب نشہ چھڑھتا تو پہن اترا پھنکتا یہی نہیں بلکہ دن کے مختلف ساعتوں میں بارہا جنت اور دوزخ کی سیر کرتا بادہ نوشی اور تمام اسبابِ نشے میں مبتلا ہو چکا تھا مگر کبھی سیر نہیں ہوسکا۔ ایک ہوس جسے میں نے عشق قرار دیا تھا نے مجھے گداٸی کرنے پر مجبور کیا ہر مقدس اور نامقدس جگہ کی چیزوں سے استفادہ کرنے پر اکسایا۔ جب میں کسی کام کا نہیں رہا تو مجھے خودنماٸی کا خیال آیا مگر آب بہت دیر ہوچکا ۔نا اب احباب ہے نا ساتھی ۔میں جہاں سے نکلا تھا اب اس سے بھی دو قدم پیچھے رہ چکا ہوں ۔ اب میں ہوں اور میری تنہاٸی “
270