335

انقلاب آئے گا

تحریر نصرتعباس_داسو

میں اکثر یہ سوچا کرتا تھا کہ برصغیر پاک و ہند ترقی کی طرف کب بڑھے گا ؟ آخر کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اس خطے میں ترقی نہیں ہو پارہی ؟ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی انقلاب کیوں نہیں آیا؟  فکری نشونما تو دور کی بات معاشی شرع نمود میں اضافہ کیوں نہیں ہورہا ؟ آخر یہاں بسنے والے لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ کہاں سے ائے ہیں اور ان کے کیا اہداف ہے ؟ 
میں کبھی یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہوں کہیں یہ لوگ باہر سے ہجرت کر کے تو نہیں آئے ۔ کیونکہ منافقت سماج میں عام ہے اور انا پرستی، خود غرضی اور برتری کے لیے ہی معاشرے میں فسادات ہورہے ہیں ۔ یہ بات مجھے مجبور کررہی ہے کہ میں اس علاقے میں بسنے والوں کی تاریخ پڑھوں کیونکہ اس سر زمین پہ بسنے والا ہر شہری علاقئیت اور لسانیت کا لباس زیب تن کرکے اپنی قومیت کی توضیح میں لگا ہوا ہے ،کہیں سندھی ، کہیں پشتوں ، کہیں پنجابی اور کہیں بلوچ کے نام پہ تحریکیں ہی تحریکیں ہیں ۔
اس خطے میں بسنے والی اقوام کی تاریخ بہت بیانک ہے 
معذرت سے ۔ 
اس بد نصیب دھرتی پہ سب سے پہلے پندرہ سو سال قبل مسیح میں آریوں نے حملہ کیا اور قابض ہو گئے جو کہ وسطی ایشاء یا یورپ سے نقل مکانی کرکے ائے تھے ۔
اس دھرتی پہ اسکندر اعظم نے بھی حملہ کیا اور مال اسباب کو جاگیر ولد سمجھہ کے لوٹا ! 
عرب کہاں پیچھے رہنے والے عربوں نے محمد بن قاسم کی سرداری میں زرخیز زمین پہ حملہ اور سندھ فتح کیا !
سندھ اور پنجاب کے سرسبز اور شاداب کھتیوں کو افغان کے جنگجو کہاں چھوڑ والے تھے انہوں نا صرف حملہ کیا بلکہ محمود غزنوی کی سرداری میں  ایک زبردست حکومت بنا ڈالی جو سلطنت مغلیہ کہلاتی ہے ۔ اور سلطنت بہادر شاہ ظفر کے زوال تک جاری رہی ۔
ان دنوں ترکی میں سلطنت عثمانیہ نے عالمی خلافت کا نعرہ بلند کیا ہوا تھا تو یہاں کے بھکاریوں نے اپنے مفادادت کے لیے ان کے ساتھ بنام مذہب رشتہ جوڑا، روکیں!  یہی نہیں فارس کی سلطنت بھی عروج پر تھی تو تحائف کا تبادلہ ہوا اور دوستیاں بڑھنے لگی ۔ اور تو اور ترکی اور فارس کی حسینائیں رونق دربار بن گئی اور مغلیہ سلطنت رنگینوں میں ڑوب گئی اور ترکی اور فارس کے لوگ اس زرخیز زمین پہ کاشکاری کے لیے آبسے ۔ اود ایک مکس اچار یعنی اردو زبان وجود میں آئی یعنی لشکریوں کی زبان ۔ 
بات یہاں رکھی نہیں بلکہ مغلیہ سلطنت زوال پزیر ہوئی تو ایکسٹ انڈیا کمپنی ایک مبلغ کی حیثیت سے اس دھرتی میں کود پڑھی اور industrialization کے نام پہ غریبوں کا حق مارتی رہی ۔ روزی روٹی بند کردی تو تب کہیں جاکر  غریبوں کو اپنی مفادادت کے خاطر تحریک تقسیم ہند میں حصہ لینے کا خیال آیا !
بیسوی صدی تک برصغیر میں دیگر برے اعظموں کے لوگ آبسے مثلا یونان ،  ترکی ، افغانی ، عرب ، عجم ،انگریز اور تاجک۔
 یہ تمام لوگ  ہندوستان میں غنڈہ بن کے آئے تھے ہر ایک کے زاتی مفادادت تھے اور ہیں اس برصغیر میں بسنے والی تمام قومیتیں مہاجر ہیں ۔
جئی م راجپوتوں کے علاوہ کوئی بھی قوم اس دھرتی سے تعلق نہیں رکھتا ۔ ہزاروں سال اس دس پہ لوٹرے ، بدمعاش اور کمینوں کی حکومت رہی ہے ! 
 سینے پہ ہاتھ رکھیں !دل پہ پھتر رکھیں ۔ غور سے میری یہ بات سنے !
اس دور میں بھی اگر پاک و ہند میں کوئی قومیت یا لسانیت کے نام پہ ووٹ لیتا ہے تو وہ بدمعاش ، عیاش پرست ، شہوت پرست ، جھوٹے ،مکار اور لوٹیروں کی اولادیں ہیں ۔
یہ دلیل کامل ہے کہ یہاں فکری انقلاب نہیں اسکتا ؟ اپ ان گروہوں کو ایک منظم قوم نہیں بنا سکتے ؟ 
عزیز قارئیں ! فکری انقلاب تربیت سے اور قائد کے زریعہ ممکن ہیں ! یہاں نا فکری تربیت ممکن ہے نا یہاں کے لوگ طوق لسانیت کو اتار پھنکنے  کے لیے تیار ، یہاں ایک ہی حل ہے برطانیہ یا امریکہ کی طرح  معاشی تبدیلی ، وہ کیسے وہ ایک سخت قانوں کے زریعہ اگر سخت قانوں بنائیں گے تو لوگ قانون سے ڑر کے غلطی کرنے سے کترائین گے وگرنہ انقلاب مذہب پرستوں سے نہیں آتا ۔ یہاں لوگ علاقائی و لسانی بتوں کی پرستش کرتے ہیں ۔

بشکریہ اردو کالمز