403

لانگ مارچ... کون جیتا کون ہارا......

فرض کریں...

ایک بحری جہاز میں کسی حادثے کی وجہ سے پانی بھرنا شروع ہو گیا... اور وہ آہستہ آہستہ ڈوبنا شروع ہو گیا...............

ایسے میں جہاز پر موجود تجربہ کار لوگوں کے مشورے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ جہاز کا حادثہ کپتان کی نا تجربہ کاری کی وجہ سے ہوا ہے لہذا کپتان تبدیل کیا جائے....

چنانچہ ہنگامی بنیادوں پر تجربہ کار لوگوں پر مشتمل ایک ٹیم کے سپرد جہاز کو منزل مقصود پر پہنچانے کی ذمہ داری کی گئی ...

لیکن ٹیم کی آپس میں سوچ اور ترجیحات میں فرق اور اختلاف رائے یا منافقت کی وجہ سے جہاز کے ڈوبنے کا عمل اور تیز ہو گیا.. اور پھر جہاز پر رائے عامہ تبدیل ہونا شروع ہوئی کہ پرانا کپتان ہی ٹھیک تھا...

اور ایسے میں لوگ واضح طور پر دو گروپوں میں بٹ گئے... اور تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا....تصادم یا سمجھ دار لوگوں کی وجہ سے جہاز پر دونوں میں سے ایک ٹیم کے حق میں اکثریت یا ڈنڈے کے زور پر فیصلہ ہوا....

لیکن اس سارے عمل کے دوران جہاز میں اتنا پانی بھر گیا کہ اسے بچانے کی کوئی صورت نہ رہی... اور جیتنے والی ٹیم کے پاس ایسے میں واحد حل یہی تھا.. کہ مسافر لائف جیکٹ پہن کر یا اس کے بغیر پانی میں کود کر اپنی جان بچائیں اور جہاز کو سپرد خدا کر دیں...... 

آج 25 مئی لانگ مارچ کی تاریخ ہے.......

پی ٹی آئی اسے کامیاب کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور رہی ہے.....

جبکہ حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اسے ناکام بنا کر حکومتی رٹ قائم کی جائے.......

بظاہر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی پر جو اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور اے ٹی ایم مشینوں کے تعاون کا الزام تھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ وہ ان کی مدد کے بغیر ایک گلی محلے کی جماعت جیسی ہے........

پی ٹی آئی نے اپنے مضبوط اور مقبول بیانیے کے ذریعے اس تاثر کو دور کیا..اور ان کی حمایت کے بغیر وہ ایک معقول سیاسی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی جس کا ثبوت اس کے حال ہی میں ہونے والے جلسے جلوس ہیں.....

اس کے علاوہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کو بھی صوبائی اور وفاقی سطح پر معقول عوامی حمایت اور ماضی میں مکمل عوامی حمایت حاصل تھی.....

دونوں جماعتیں جلد یا بدیر الیکشن میں ہی اپنی نجات دیکھ رہی ہیں... بظاہر جلد الیکشن نہ ہونے کی صورت میں جتنا نقصان پی ٹی آئی کو ہے اس سے زیادہ سخت معاشی فیصلے لینے کی وجہ سے پی ڈی ایم کو نقصان ہے......

آئی ایم ایف سے مذاکرات اور اس کے نتیجے میں ہونے والے سخت فیصلے ایک مکمل عوامی حمایت یافتہ حکومت ہی لے سکتی ہے.....

جو کہ اپنے ابتدائی وقت میں سخت معاشی فیصلے لے کر اپنی حکومت کے آخری دنوں میں اس کے ثمرات عوام تک پہنچا کر عوامی حمایت کو اپنے حق میں دوبارہ ہموار کر سکے......

ایسے میں عقلمندی کا تقاضہ یہ ہی ہے کہ آپس میں باہمی مذاکرات کر کے تمام جماعتوں میں موجود غیر جانبدار اور مخلص لوگوں پر مشتمل نگران حکومت بنا کر اس کے زیر نگرانی جلد سے جلد الیکشن کرا کے ملک کو بچانے کی کوشش کی جائے.......

ورنہ لانگ مارچ تو کامیاب  ہو نہ ہو.. لیکن جمہوریت ضرور ناکام ہو جائے گی..ملک اور عوام کو خدا کے سپرد کر کے اشرافیہ نے بیرون ملک فرار ہو جانا ہے..... اور چوکیدار نے یہی کہنا ہے کہ 

جاگتے رہنا

میرے پہ نہ رہنا

بشکریہ اردو کالمز