279

الحاد بمقابلہ مذہب، کون کامیاب؟

آپ الحادی نظریات رکھتے ہیں. دنیا کے ایک حادثے کے نتیجے میں خودبخود بننے پر یقین اور بعد از موت حیات پر یقین نہیں رکھتے. اسی لئے من چاہی زندگی جینے کی خواہش اور پابندیوں کی وجہ سے کسی مذہب کی پیروی پر یقین نہیں رکھتے...................

آپ الحادی خیالات کے باوجود بائی نیچر ایک اچھے انسان ہیں. دنیا کو خوبصورت بنانے میں اور دنیا میں زندگی کو آرام دہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں خلق خدا کو آپ کی ذات سے کوئی شکایت نہیں. تو آپ دنیا میں کامیاب اور نامور ہیں. آپ کو دنیا میں اپنے اچھے کاموں کا صلہ مشہوری اور ستائش کی صورت میں مل گیا. اور اگر بعد از موت حیات نہ ہوئی تو مٹی میں مل گئے اور کہانی ختم..........

اگر آپ الحادی خیالات کے باوجود برے انسان ہیں اور دنیا اور نوع انسانی کے لئے آپ کی ذات سے صرف برائی اور نفرت اور تباہی ہے. تو آپ کو دنیا میں بھی دنیاوی قانون کے مطابق سزا ملے گی. خلق خدا بھی آپ کو برے الفاظ میں یاد کرے گی. لیکن اگر بعد از موت حیات نہ ہوئی تو آپ بھی مٹی میں مل جائیں گے اور کہانی ختم.........

بس فرق یہ ہے کہ اچھا الحادی دنیا میں نیک نام اور برا دنیا میں بدنام لیکن بعد از موت دونوں برابر.......

اور اگر بعد از موت حیات ہوئی تو دونوں قسم کے الحادی نظریات والوں کو آخرت کا عذاب یا سزا یعنی دونوں قسم کے الحادی آخرت میں ناکام ہو گئے..... 

اگر آپ مذہبی ہیں تو آپ کو مذہب کی حدود و قیود کے مطابق دنیا میں زندگی گزارنی ہے.. اگر آپ ایک اچھے مذہبی ہیں اور دنیا یا لوگوں کو آپ کی ذات سے کوئی خطرہ یا شکایت نہیں تو لوگوں کو آپ کے عقیدے سے بھی کوئی غرض نہیں.. آپ دنیا میں نیک نام، کامیاب اور بعد از موت حیات کی صورت میں خدا کی بیان کردہ نعمتوں کے حق دار ہوں گے...............

اگر آپ مذہبی ہیں اور مذہب کی بیان کردہ حدود و قیود سے انحراف کرتے ہیں اور دنیا کو برا بنانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں تو دنیاوی سزا، بدنامی اور بعد از موت حیات کی صورت میں خدا کے بیان کردہ عذاب کے حق دار ہوں گے......

اگر بعد از موت حیات نہ ہوئی تو اچھا مذہبی دنیا میں کامیاب آخرت میں کوئی ناکامی نہیں جبکہ برا مذہبی دنیا میں ناکام اور آخرت میں کوئی ناکامی نہیں...... 

یعنی بعد ازموت حیات کی صورت میں صرف اچھا مذہبی دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوا.. اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ کون کامیاب ہوا............

لیکن ذرا ٹھہرئیے اکثر دوست یہ سوال یقیناً کریں گے کہ دنیا میں تو لاتعداد مذاہب ہیں تو کون سا مذہب ٹھیک ہے جس کی پیروی کر کے ہم فلاح پا جائیں. نہیں تو ہم مذہبی ہونے کے باوجود ناکام ہو جائیں گے..............

تو جناب اس کا جواب ہے خدا نے یہ دنیا اس لئے نہیں بنائی کہ اس میں انسان ہی انسان کے حقوق غضب کرے اور انسان ہی سے بنی نوع انسانوں کو خطرہ ہو.. اگر ایک الحادی خیالات کے باوجود بنی نوع انسان کے لئے فائدہ مند شخص دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے.......

تو مذہب بھی یقیناً وہی ٹھیک ہو گا جس میں خدا بندوں پر اپنا حق تو معاف کر دیتا ہو. لیکن بندوں کے بندوں پر حق اس وقت تک معاف نہ کرے جب تک کہ مظلوم خود اپنا حق معاف نہ کر دے.....

اس لئے خدارا دین کو صرف عبادات کا مجموعہ نہ سمجھیں بلکہ حقوق العباد پر بھی توجہ کریں...............

بشکریہ اردو کالمز