موجودہ دور میں جب ہم نئی نسل کی دین سے دوری کی وجہ جدید ٹیکنالوجی اور ایجادات کو قرار دیتے ہیں تو درحقیقت ہم خود کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں......
اس میں کوئی شک نہیں کہ دین مکمل ہو گیا ہے اس میں مزید کمی بیشی نہیں کی جا سکتی. لیکن آج کی نوجوان نسل کو دین سے نہیں بلکہ جو ہمیں دین سکھاتے ہیں ان کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں........
پہلے زمانے میں جو حکیم تھے وہ اپنے پیشے میں مزید جدت لا کر ڈاکٹر اور اس کے بعد سپیشلسٹ بن گئے. حجام باربر بن گئے اپنے سیلون بنا لئے. موچی شومیکر اور درزی ڈریس ڈیزائنر بن گئے اپنے برانڈ لانچ کر دئیے........
غرض ہر شعبے میں جدت آئی اور وہ وقت کے ساتھ ساتھ عوام کی پسند نا پسند یا سوچ کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے اندر جدت پیدا کرتے رہے اور اسی وجہ سے آج نوجوانوں کی خواہش صرف برانڈ زیب تن کرنا ہے.........
لیکن واحد ہمارا دین کا شعبہ ہے جس میں ہم اصلاحات کرنے کے بجائے ابھی تک صدیوں پرانے طریقے پر چل رہے ہیں. ٹھیک ہے ہم دین میں کمی بیشی نہیں کر سکتے ہیں لیکن کم از کم اصلاحات تو کر سکتے ہیں.......
مارکیٹ کا اصول ہے جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے... اس کی ایک مثال بھارت سے لے لیں وہ رقص اور یوگا کی انسانی ذہنی اور جسمانی صحت کے حوالے سے اتنی پبلسٹی کرتے ہیں کہ آج کئی یورپی ممالک میں ان کے آشرم ہیں اور دوسرے مذاہب کے لوگ وہاں بخوشی پیسے دے کر یوگا اور ڈانس کلاس لیتے ہیں.........
جبکہ دنیا کے سامنے اسلام اور مسلمانوں کا تصور ایک دہشت.. گرد، شدت پسند قوم کے طور پر بنا ہوا ہے.. ہمارا جو بھی نوجوان یورپ جانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے اپنی اسلامی شناخت یعنی داڑھی چھپاتا (کٹواٹا) ہے....
وہ اسی وجہ سے علماء سے دور جا رہا ہے تاکہ اس پر شدت پسندی کا ٹھپہ نہ لگے...المیہ تو یہ ہے کہ پہلے رشتہ کرنے سے پہلے لڑکے کے بارے میں معلومات کی جاتی تھی کہ نشہ پانی تو نہیں کرتا جبکہ اب کئی جگہ داڑھی پر یا مسجد میں زیادہ وقت گزارنے پر اعتراض ہوتا ہے.......
بقول جاوید چوہدری ہم لوگ اپنے ذہین بچوں کو تو ڈاکٹر، انجینئر، سول افسر یا بزنس مین بنانا چاہتے ہیں جبکہ جو بچہ ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہو اسے حافظ اور عالم بناتے ہیں اور بعد میں یہی بچہ منبر رسول پر بیٹھ کر نفرتوں کے بیج بوتا ہے......
موجودہ دور میں جب کے الحاد کے حامی مختلف مذاہب کو چیلنج کر رہے ہیں ہمارے دقیانوسی سوچ اور علم کے حامل علماء ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے اگر ہم نے الحادی نظریات کا رد کرنا ہے تو وہ روایات سے نہیں بلکہ علم اور منطق سے ہو گا..........
اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب آپ اپنے بہترین ذہنوں کو دینی اور دنیاوی علم سے مزین کر کے میدان عمل میں لائیں گے.. جب ہمارے مدارس میں بھی دینی کے ساتھ جدید دنیاوی تعلیم دی جائے گی اور یہ جدید دینی اور دنیاوی تعلیم کے حامل علماء اقوام عالم میں اسلام کے بارے میں پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے.....
اور دیگر اقوام کو یہ باور کرائیں گے کہ دنیا کو مسلمانوں سے نہیں آپسی نفرت سے خطرہ ہے اور جس وقت ہم یہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہمارے نوجوانوں اور علماء کے درمیان موجود خلیج خود بخود ختم ہو جائے گی...