ایک وقت تک ہم اس خوش فہمی کا شکار رہے کہ افغان جنگ امریکہ نے ہماری مدد سے جیتی ہے اور اس وجہ سے روس ٹوٹ گیا....
اور ہم سمجھتے ہیں کہ اب بھی امریکہ روس کو کوئی سبق سکھانے کے لئے اور افغانستان میں کوئی ڈیل کرنے کے لئے ہمارا محتاج ہے......
اگر ہم جہا.. د کے نام پر مدارس کے بچوں اور بڑوں کی کھیپ انہیں فراہم نہ کریں تو وہ ناکام ہیں....
جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے. ہاں افغان جنگ انہوں نے ہماری مدد سے لڑی لیکن یہ مدد برابری کی بنیاد پر نہ تھی بلکہ ہم کرائے کے لڑاکا تھے..
یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ جنگ جدید ہتھیاروں کی مدد سے جیتتے ہیں لیکن آخر میں فاتح کے طور پر ہتھیار کا نہیں بلکہ اسے درست وقت پر درست طریقے سے درست نشانے پر چلانے والے کا نام ہوتا ہے....
اگر ہتھیار چلانے والا ناتجربہ کار ہے تو اچھے سے اچھا ہتھیار بھی ناکام ہے....
اور افغان جنگ میں ہم ایک اچھے ہتھیار اور امریکہ ایک پروفیشنل فوجی یا ہینڈلر کے طور پر تھا.. تو پھر روس کے مقابلے میں جیتا کون یہ فیصلہ آپ بہتر کر سکتے ہیں......
اب ہماری یہی خوش فہمی دور کرنے کے لئے امریکہ تجرباتی طور پر یوکرائن میں روس کے مقابلے میں خود شامل ہوئے بغیر جنگ کر رہا ہے...
یعنی مالی، ٹیکنیکل اور عسکری مدد امریکہ کی جبکہ جسمانی طور پر یوکرائن کے فوجی لڑ رہے ہیں......
اور مجا.. ہدین کی جگہ اب کے کرائے کے فوجی یعنی پرائیویٹ جنگجو گروپ اور تھوڑے بہت افغان کرائے کے جنگ..جو استعمال ہو رہے ہیں...
بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ یوکرائنی فوج تاریخی مزاہمت کر رہی ہے جبکہ وہ امریکہ کی ٹیکنیکل اور فوجی ساز وسامان کی مدد کے بغیر شاید ایک ہفتہ بھی نہ نکال سکتے..
اور امریکہ افغانستان کے بعد اب یوکرائن میں بھی روس کو شکست دے رہا ہے اور اس کی معیشت کا دیوالیہ نکال رہا ہے اور اس کے عسکری سازوسامان کی جنگ ہنسائی کروا رہا ہے.....
یعنی پیوٹن کے دور میں روس نے سپرپاور بننے کے لئے جتنی کوشش بھی کی وہ امریکہ نے ہماری اور سٹوڈنٹ کی مدد کے بغیر اپنے جدید اسلحے، پرائیویٹ جنگ.. جو تنظیموں اور منفی پراپیگنڈا کے ذریعے خاک میں ملا دی....
میدان جنگ کو اپنے ملک سے دور اور روس کے اندر تک لے گیا جنگ کے دوران روس کے مختلف علاقوں پر ہونے والے کامیاب حملے اس کی مثال ہیں...
اس سارے معاملے میں ہمارے لئے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پہلے ہماری معیشت کو روس اور چائنہ مخالفت کی وجہ سے امریکہ اور اس کے حامی مجبوری میں سہارا دیتے تھے....
روس کا مسئلہ تقریباً حل ہو گیا اس کے بعد چائنہ کی باری ہے.....
جیسے ہمارے متبادل کے طور پر امریکہ نے ایک کامیاب حکمت عملی بنائی اور ہم پر انحصار کم کر دیا. کیا ہم نے بھی سوچا ہے کہ اگر مغرب نے ہم سے آنکھیں پھیر لی تو ہم اپنی معیشت کو کیسے سہارا دیں گے.....
اگر آپ پاک چائنہ دوستی کی بات کرتے ہیں تو انہوں نے پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں اور دوسرے ممالک میں زیادہ سرمایہ کاری کر کے ہمیں جواب دے دیا ہے جبکہ عرب ممالک امریکہ مخالفت میں کبھی بھی ہمیں سپورٹ نہیں کریں گے.....
جاگو اس سے پہلے کہ ہمارے نصیب سو جائیں.....
نوٹ:- روس امریکہ سرد جنگ کے دوران ہماری مدد سے روس کے ٹکڑے ہو گئے.. اس کا سپر پاور کا سٹیٹس چھن گیا. جبکہ امریکہ نے جو افغان جنگ کی اور وہاں سے وہ واپس بھاگا.. ہار جیت سے قطع نظر بہرحال وہ اب بھی سپر پاور ہے... یعنی ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے امریکہ کو افغانستان سے بھگانے یا ناکام کرنے میں مدد کی لیکن اس کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کر سکے.. اپنی وحدت کو برقرار رکھنا ہی امریکہ کی سب سے بڑی کامیابی ہے.....