زنجیر عدل۔۔۔! 818

زنجیر عدل۔۔۔!

کسی ملک یا معاشرے کی ترقی و خوشحالی اور بقا کیلئے انصاف ناگزیر ہے ۔انصاف کے بغیر معاشرہ تنزیلی کا شکار ہوجاتا ہے۔تاریخ ِعالم سے عیاں ہوتا ہے کہ قومیں عبادات نہ کرنے کی وجہ سے تباہ نہیں ہوئیں بلکہ عدم انصاف کے باعث برباد ہوئیں۔قومیں انصاف کے فقدان کے باعث ذلیل و خوار ہوجاتی ہیں۔اللہ رب العزت حقوق اللہ معاف کردے گا لیکن حقوق العباد معاف نہیں کرے گا۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کے لیے انصاف کتنا لازمی عنصر ہے۔انصاف صرف حکمرانوں یا قاضیوں کیلئے نہیں بلکہ ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق انصاف کریں۔سرمایہ دار ایک صد روپے کی چیز کو ایک ہزار روپے میںفروخت کرے تو یہ یقینا ظلم ہے اور انصاف کے بالکل خلاف ہے۔ اگر دکاندار پچاس روپے کی چیز ایک سو روپے میں بیچتا ہے تو یہ انصاف کے منافی ہے۔عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لینے والا ملازم کماحقہ فرائض سرانجام نہ دے ، وقت چائے پینے، موبائل فون اور گپ شپ یا غیر ضروری میٹنگ پر صرف کرے تو یہ یقیناانصاف کے اصولوں کے برعکس ہے ۔حکمران، قاضی اور دیگر سب پرلازم ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق انصاف کریں۔مغل شہنشاہ سلیم نورالدین جہانگیر نے زنجیر عدل لٹکائی تاکہ رعایا کو فوری انصاف تک رسائی ممکن ہوسکے۔ایک واقعہ معروف ہے کہ شہنشاہ سلیم نورالدین جہانگیر کی چہیتی ملکہ مہرانساء نورجہان محل کے بالکنی میںبیٹھی بیرونی مناظر سے لطف اندوز ہورہی تھی ، اس دوران دیکھا کہ ایک شخص ٹمنکی باندھ کر ملکہ کو دیکھنے میں مصروف ہے۔نورجہان اس کو گستاخی سمجھ کراس شخص پر ایک تیر چلایا جس سے وہ مرگیا۔ وہ شخص دھوبی تھا،اس کی بیوی کو علم ہوا تووہ کافی غمزدہ ہوئی، پریشانی کے اس عالم میں خاتون نے زنجیر عدل کھینچی۔شہنشاہ سلیم نورالدین جہانگیر نے اس کی فریاد سنی اور اس کو مکمل انصاف کا یقین دلایا۔بادشاہ نے ملکہ نورجہان کو دربار میں طلب کیا اور وہ ایک عام ملزم کی طرح پیش ہوئی ۔ملکہ نورجہان نے اعتراف جرم کرلیا کہ وہ شخص گستاخی کا مرتکب ہوا تو میں نے قتل کردیا۔بادشاہ نے دربار کے قاضی سے فتوی دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ شریعت میں قتل کی سزا قتل ہے۔ شہنشاہ سلیم نورالدین جہانگیر  نے قاضی کا فتویٰ سن کر فرمان جاری کیا کہ ملزمہ کو پھانسی پر چڑھایا جائے۔ متقول کی بیوہ دربار میں موجود تھی۔ وہ عدل و انصاف کا عملی مظاہرہ دیکھ کرمتاثر ہوئی۔ وہ بولی جہاں پناہ !مجھے انصاف مل گیا، میں اپنے شوہر کا خون معاف کرتی ہوں۔ملکہ نورجہان نے بیوہ کو خون بہا میں زردجواہر دیے۔سلیم نورالدین جہانگیر مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کا بیٹا تھا۔شہنشاہ اکبر کی اولاد نہیں تھی تو ایک بزرگ شیخ سیلم چشتی کی دعا سے30 اگست 1569ء میں فتح پور سیکری میں ان کا بیٹا پیدا ہوا تو بزرگ کے نام پر ہی بیٹے کا نام سیلم رکھاگیا۔بعدازاں شہنشاہ جلال الدین اکبر کے دو اور بیٹے مراد اور دانیال پیدا ہوئے۔ اکبر کے تینوں شہزادے کثرت شراب نوشی کرتے تھے۔شہزادہ مراد اور شہزاد دانیال بہت زیادہ شراب نوشی سے عالم شباب میں فوت گئے۔ شہزادہ سلیم (جہانگیر)تین نومبر 1605ء کوتخت نشین ہوا۔مغل شہنشاہ سلیم نورالدین جہانگیرنے متعدداصلاحات نافذ کیں جو کہ قابل تعریف ہیں۔کان ، ناک ، ہاتھ وغیرہ کاٹنے کی سزائیں منسوخ کیں،شراب اور دیگرنشہ آور اشیاء کا استعمال حکماًبند کیا،متعدد ناجائز ٹیکس ختم کیے،خاص خاص دنوں میں جانوروں کے ذبیحہ بند کردیا، فریادیوں کی داد رسی کیلئے اپنے محل سے ایک زنجیر لٹکا دی جسے زنجیر عدل کہا جاتا ہے۔کشمیر سے واپسی پر مغل شہنشاہ سلیم نورالدین جہانگیرنے 28اکتوبر1627ء کو راجوری میں وفات پائی، ان کو لاہور سے بہت محبت تھی ،اس لئے ان کو دریائے راوی کے کنارے شاہ درہ میں باغ دلکشا میں سپرد خاک کردیا۔سلیم نورالدین جہانگیر کی بیوی ملکہ نورجہان نے انکی قبر پر مقبرہ کی عمارت بنانے کا آغاز کیا اور شہنشاہ شاہ جہان نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مقبرہ جہانگیرمغلیہ ذوق ِتعمیر کا نادر اظہار اور عہد رفتہ کی عظیم یادگار ہے۔مقبرہ میں اندر داخل ہونے کا ایک ہی راستہ ہے، مزار کے چاروں طرف سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں ۔ مقبرہ کے چاروں کونوںپر مینار بنائے گئے ہیں۔قبر کا تعویذ سنگ مرمرکا بنایا ہے اور اس پر لاجورد، نیلم، عتیق،مرجان اور دیگر قیمتی  پتھروں سے گل کاری کی گئی ہے، دائیں اور بائیں اللہ رب العزت کے ننانوے نام کندہ ہیں۔سکھ دور میںمقبرہ کو نقصان پہنچایا گیا، سہ نشین اکھاڑ کر امرتسر لے گئے ، عمارت کے ستونوں اور آرائشات میں استعمال کیے گئے قیمتی جوہرات نکال کر لے گئے ۔اب بھی مقبرہ جہانگیر قابل دید ہے ،جہاں سیاح دیکھنے آتے ہیں۔خاکسار تین نومبرکو مقبرہ جہانگیر دیکھنے دریائے راوی کے کنارے شاہ درہ کے باغ دلکشا پہنچا، مقبرہ کی عمارت سے متاثر ہوا۔ وہاں حکمت اللہ زدران اور زوہیب سے ملاقات ہوئی، دونوں نوجوان خوش اخلاق اور ملنسار ہیں۔ مقبرہ جہانگیر پر ڈیوٹی پرموجود ملازم نے احتراماًسلام کیا لیکن جب مقبرہ جہانگیر دیکھنے کے بعدواپس جانے لگے تو ملازم نے کہا کہ ہم تین چار ملازمین کو چائے پانی دے دیں، جتنا مناسب سمجھیں،بحرحال میں نے ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے جان چڑھالی۔اسی طرح گذشتہ سال ساہیوال میں آثار قدیمہ ہڑپا میوزیم دیکھنے گیا تو وہاں ملازم نے بھی مطالبہ کیا تو میں نے اس کو دو سو روپے دیے۔ہرن مینار شیخوپورہ کے ملازمین کے ہتھکنڈے بھی قابل تعریف نہیں ہیں جس پر خاکسار نے کالم تحریر کیا تھا۔آثارقدیمہ اور سیاحتی مقامات پر ملکی و غیر ملکی سیاح آتے ہیں، یقیناایسی حرکات ہمارے ملک ، محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ سیاحت کے لئے بدنامی کاباعث بن رہے ہیں۔محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ سیاحت کے سیکرٹری صاحبان ان ملازمین کے ان طریقوں اور امور میں حصہ دار ہیں یا نہیں لیکن یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ آشر باد کے بغیر ملازمین کوئی غلط اقدام نہیں اٹھاسکتے ہیں لہذا ملازمین کے حرکات اور اقدامات ان کے کھاتے میں درج ہوتی ہیںاوروہ ان کے گناہ یا غلطی سے مبرا نہیں ہیں۔اگر اس فانی دنیا میں سزا سے بچ جائیں تو آخرت میں سزا ضرور ملے گی ۔چیف سیکرٹریز صاحبان اور جملہ سیکرٹری صاحبان سے استدعا ہے کہ اپنے اپنے صوبوں اور محکمہ جات میں چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم بنائیں ،اس سے محکمہ جات کی کارکردگی بہتر ہوجائے گی اور ملازمین کی اچھائی یا برائی سے باخبر بھی ہونگے۔آپ بھی لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے زنجیر عدل لٹکائیں لیکن زنجیر عدل نمائشی نہ ہوں۔ زنجیر عدل سے نہ صرف ہمارے ادارے اورمحکمہ جات  کرپشن سے پاک ہوجائیں گے اور ترقی کریں گے بلکہ ہمارا ملک بھی کرپشن کے ناسور سے پاک ہوجائے گااورترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوجائے گا۔                             ٭٭٭٭٭
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

بشکریہ اردو کالمز