کیلاشی کلچربچائیے۔۔۔! 480

کیلاشی کلچربچائیے۔۔۔!

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال میں وادی کیلاش میں ایک قبیلہ رہتا ہے، مخصوص روایات اور ثقافت کے باعث دنیا بھر میں ان کی منفرد پہچان او ر الگ شناخت ہے۔کیلاشی قبیلہ چترال اور نورستان میں بھی آباد تھا لیکن اب یہ قبیلہ وادی بمبوریت، رمبور اور بریر پر مشتمل خوبصورت علاقہ کیلاش تک محدود ہے اور یہ قبیلہ سکڑتا سکڑتا اب محض چار ہزار نفوس پرمشتمل ہے۔کیلاشی قبیلے کا سکڑنا دنیا اورپاکستان کیلئے خوش آئند نہیں ہے۔ اگر یہ منفرد کلچر ختم ہوگیا تو یہ کسی لحاظ سے بھی پاکستان اور دنیا کیلئے بہتر نہیں ہوگا۔کیلاشی کلچر کو بچانے کے اقدامات سے قبل اس قبیلے کے بارے میںاختصار سے بتاتا چلوں کہ اس قبیلے کے بارے میں مختلف روایات ہیں،ان میں ایک روایت یہ ہے کہ یہ لوگ یونان سے سکندر اعظم کے ساتھ آئے تھے اور ان کے قافلے سے یہ لوگ کسی طرح بچھڑ گئے تھے ۔پھر چترال اور نورستان کے مضافات میں آباد ہوگئے ۔کیلاشی لوگ سال میں تین تہوارچاومس ، چلم جوشی اور اُچال مناتے ہیں۔کیلاش کی لڑکیاں پسند کی شادی کرتی ہیں۔ کیلاشی لڑکیاںجس لڑکے کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہیں تو تہوار کے موقع پران کا ہاتھ پکڑ کر ان کے گھر چلی جاتی ہیں ۔والدین کے دریافت پرمعلوم ہوجائے کہ لڑکی خوشی اور رضامندی سے آئی ہے تو پھر باقاعدہ شادی کی تقریب ہوتی ہے۔کیلاشی لڑکی کے ماموں کو بیل ، بندوق اور دیگر تحائف بھی دیے جاتے ہیں۔اسی طرح بچے کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اور مہمانوں کے لئے کھانوں اور تحائف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔کیلاشی مذہب کے پیروکار اپنے گائوں کو اونجسٹہ کہتے ہیں،جس کا مطلب پاک جگہ ہے۔اس لئے مخصوص ایام پرگاتہ یعنی ناپاکی میں خواتین اور لڑکیوں کو گھر وں میں رہنے کی بجائے گائوں سے زرا ہٹ کر مخصوص سنٹر بشالی میںرہتی ہیں۔بچے کی پیدائش پر بھی خاتون دس دن بشالی میں گزارتی ہے اور بعد میں مکمل پاکی تک گھر کا واش روم استعمال نہیں کرسکتی ہے۔کیلاش کی تینوں وادیوں میںآٹھ بشالی ہائوسز یا سنٹر ز ہیں۔ بشالی میں خواتین کے استعمال کیلئے بستراور دیگر اشیاء بھی موجود ہوتی ہیں۔گھروالے ان کے لئے کھانا لاتے ہیں لیکن ان کو چھو نہیں سکتے ۔اگر کوئی خاتون بشالی میں فوت ہوجائے تو پھر اس کو واپس اپنے گھر نہیں لاتے بلکہ  بشالی کے قریب تین دن میت کو رکھتے ہیں اور اس کے بعد اس کو دفن کرتے ہیں۔بشالی کی دیواروں کو چھونا منع ہے۔اگر کوئی کیلاشی بشالی کے حدود کی خلاف ورزی کرے مثلاًکوئی دیوار کو چھولے یا ماں سے چھوٹا بچہ گائوں کی طرف چلا جائے وغیرہ ، تو اس مقام پر بکرے کی قربانی کردی جاتی ہے۔یہ انیم ازم (Animism)کو مانے والے ہیں۔یہ لوگ بارہ خدائوں کو مانتے ہیں ۔یہ کسی فرد کے انتقال پر ڈھول اور بانسری بجاتے ہیںاور رقص کرتے ہیں ، اس موقع پر طرح طرح کے کھانے پکاتے ہیں۔میت کوڈھول اور بانسری بجاتے ہوئے قبرستان تک لے جاتے ہیں۔ یہ تابوت کو قبرستان میں زمین پر رکھتے تھے اور ان کی استعمال کی چیزیں بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن اب وہ میت کو دفن کرتے ہیں لیکن ناچ کود اور ڈھول بانسری بجانے کا سلسلہ قائم ہے۔1320ء میں افغانستان کے مسلمانوں نے کیلاشیوں پر حملہ کیا تھا جس میں تقریباً نوے فی صد کیلاشی مارے گئے تھے اور صرف دس فی صد کیلاشیوں نے پہاڑوں میں پناہ لی تھی۔1895ء میںافغانوں اور ازبکوں نے کیلاشی قبیلے پر حملہ کیا جن میں نورستان کے کیلاشیوں کو زبردستی مسلمان بنایا تھا۔ وادی کیلاش کے دشوار گزار علاقے میں رہنے والے دنیا کی نظروں سے اوجھل تھے،اس لئے دنیا کو کیلاش کے بارے علم نہیں تھا۔کیلاشی لوگ وادی سے باہر نہیں جاتے تھے اور نہ ہی کسی کو اس وادی میں آنے دیتے تھے۔ 1940ء میںبرطانیہ دور میں کیلاش کو دریافت کیا گیا۔ اس کے بعد دنیا کو معلوم ہوا کہ یہاں منفرد کلچر اور رسم ورواج کے حامل قبیلہ رہتا ہے۔ان کے کلچرکو دیکھنے کیلئے ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں کیلاش آتے ہیں۔اس کلچر کو دیکھنے ضرور جائیں لیکن ان کو ڈسٹرب نہ کریں۔ یہ بڑے معزز ، شریف اور پرامن لوگ ہیں۔مخلص اور ملنسار ہیں اور سیاحوں کی عزت کرتے ہیں لیکن سیاحوں کو چاہیے کہ وہ بھی ان کی عزت کا خیال کریں ا وران کا احترام کریں،وہاں پر شور وغل نہ کریں۔یہاںکے گھروں کی چار دیواریاں نہیں ہوتی ہیں لہذا ان کے گھروں میں بغیراجازت نہ جائیں۔ان کی اجازت کے بغیر خواتین اور لڑکیوں کی تصویریں نہ بنائیں۔ ان کے مذہبی مقامات کے       در و دیوار کو نہ چھوئیں۔ ان کی عبادات اور رقص میں خلل نہ ڈالیں۔ایک اچھا سیاح مقامی آبادی، ان کے عقیدے ، رسم ورواج اور املاک کو قطعی کوئی نقصان نہیں پہنچاتاہے بلکہ ان کا خیال اور لحاظ کرتا ہے۔ منفرد اور دلچسپ کلچر کے باعث کیلاش ایک پرکشش سیاحتی مقام ہے، اس لئے وہاں لوگ باربار جاتے ہیں اور خاکسار بھی متعدد بار وہاں جاچکاہے۔ ہم اس بار ان کا کرائم ریکارڈ معلوم کرنے کیلئے کیلاش کے تھانے میں گئے۔وہاں کے ایس ایچ او اور اے ایس آئی سے ملاقات کی،وہ ہم سے بڑے پرتپاک طریقے سے ملے اور انھوں نے چائے وغیرہ سے ہماری خاطر تواضع کی۔ان کے ساتھ جرائم سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔کیلاش میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کیلاش کا کلچر دنیا کے کسی اور ملک اور خطے میں نہیں ہے،ان کی آبادی کم ہوتی جارہی ہے اوران کا رسم ورواج ختم ہوتا جارہا ہے۔ اس کی متعدد وجوہات میں سے چند ایک یہ ہیں۔ وہاں غیر مقامی اور غیر کیلاش لوگ کاروبار کرتے ہیں۔جن سے کیلاشی لوگوں کا کاروبار شدید متاثر ہورہا ہے اور کیلاشیوں کو مجبوراً وادی چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں کاروبار زیست چلانے کیلئے جانا پڑتا ہے۔ تقاضا یہ ہے کہ وادی کیلاش میں صرف اور صرف کیلاشی طبقے کے لوگوں کو کاروبار کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور وہاں پر کسی غیر مقامی فرد کو ہوٹل یا جگہ خریدنے یا لیز پر لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔کیلاش میں غیر کیلاشی آبادی بڑھ رہی ہے،اُن کے اثرات اِن پر پڑتے ہیں، اس لئے وہاں پر صرف کیلاشی مذہب کے پیروکاروں کے علاوہ کسی کو مستقل یا طویل عرصے کے لئے رہنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ وادی بمبوریت، رمبور اور بریر کیلاش میں دیگر مذاہب کے باشندوں کو مستقل یا عارضی طورپررہنے کی قطعی اجازت نہ ہو،وہاں سے غیر کیلاشیوں کو کسی اور مقام کی طرف منتقل کرنا چاہیے ۔ کیلاش میں صرف کیلاشی طبقہ کے افراد شاد وآباد رہیں ۔تبلیغی جماعت سے کیلاشی تنگ ہیں لہذا وہاں پر مسلمان ،عیسائی یا کسی اور مذہب کے تبلیغی جماعت یا مشنری کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان اور اقوام متحدہ اس علاقے میں تبلیغی جماعتوںاور عیسائی مشنری وغیرہ پر مکمل اور سخت قدغن لگائیں ۔اگر کیلاش کلچر کو بچانے کیلئے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ نے اقدامات نہ اٹھائے تو دنیا سے یہ منفرد کلچر اوجھل ہوجائے گا تو پھر کیلاشی طبقے کا تذکرہ صرف کتابوں، فلموں ، ڈراموں اور تصویروں میں ہوگالہذا حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ سے التجا ہے کہ کیلاشی کلچر کو بچانے کے لئے عملی اور ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
                                             ٭٭٭٭٭

بشکریہ اردو کالمز