عقل داڑھ 594

عقل داڑھ

فلسفہ کی اصلاح میں کسی بھی معاملے کو منطقی تشریح کرنے اور اس سے نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت کو عقل کہتے ہیں ۔عقلیت پسند لوگ بے باکانہ حد تک ہر کسی سے اس کے قول کی عقلی تشریح پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ میر نے کہا

شیخ جی عقل کے ناخن لو ،بھلا روپیہ آٹھ آنہ میں تقریریں لکھی جاتی ہیں  تم بھی کیا باتیں کرتے ہو ،

آج اچھے بھلے عقل مندوں کو بےوقوف دیکھا  کہ اپنے لیے معیار اور  کسی کے لیے اور۔ صرف عقل مند کو پنجابی میں بہت سیانہ کہتے ہیں ۔ہر بولی میں سیانوں کے بارے میں مثال موجود ہے جوکہ سیانہ پن کے لیے بہتر نہیں ۔پنجابی میں کہتے ہیں کہ" سیانا کاں گونہہ چے  چنج مارے"سیانا کوّاغلاظت میں منہ مارتا ہے ۔آج کے دانشور شعورسے نابلد صرف عقل سے ہر بات کو پرکھتے ہیں ۔بقول میر درد :۔ بند احکام عقل میں رہنا

یہ بھی اک نوع کی حماقت ہے

فراق  گور کھپوری  کہتا ہے

عقل میں یوں تو نہیں کمی

اک ذرا دیوانگی درکار ہے

عقل کے ساتھ کسی زاویے ،نسبت سے جب سوچا جاتا ہے تو بات بنتی ہے ۔آج ہم سوشل میڈیا  پر بانگ دہل ،بغیر تصدیق ،اپنی عقل کا پتہ دیتے ہیں۔جس طوفان بدتمیزی کو ہم کم عقل ،ان پڑھ اورمذہبی لوگوں سے جوڑتے ہیں اسی طوفان بدتمیزی کے شہوار ہوتے ہیں ۔کیا کسی مہذب قوم کا یہ وطیرہ ہوتا ہے؟ دوسروں کی رائے کو شدت پسندی  کہتے ہیں اور اس کا جواب بھی شدت پسندی کی صورت میں ہوتا ہے۔مذہبی لوگوں کو جاہل ،بے علم کہا جاتا ہے جبکہ مہذب لوگوں نے کونسے جھنڈے گاڑھ دیے۔کسی کی بات کو بے تکی اور سستی شہرت کے متلاشی گردانتے ہیں اور اسی طرح نہ علم ہونے کے باوجود مذہب ارو  نامور شخصیات پر زبان درازی کرکے چمپئین بنے پھرتے ہیں ۔  آج عقل اور شعور حلق سے اوپر اوپر ہے کاش کہ دل بھی شاد ہو ۔

وہ عقل مند کبھی جوش میں نہیں آتا

گلے تو لگتا ہے آغوش میں نہیں آتا

ہمارا شعور،ہماری عقل، محبت،عشق،اخلاق ،اتحاد مفاد تک محدود ہے لی وجہہ اللہ ہوجائے تو دل باغ و بہار بن جائے۔ہر طرف شادیانے بجنے لگیں۔ ہر طرف اچھائی ہی اچھائی نظر آئے گی۔عقل کو تنقید سے فرصت نہیں ۔عقل مند ہیں کہ دوسرا مذہب،دوسرا فرقہ ،دوسرا طبقہ ہر ایک پر تنقید کرتے ہیں ۔دونوں اطراف سے تنقید ہے تو کیا حاصل ۔اگر مہذب ہو تو کہاں گئی تہذیب؟ برداشت کیوں نہیں ؟کب سدھریں گے ،کب عقل آئے گی؟ کیا عقل داڑھ نہیں نکلی؟ ویسے اس داڑھ کے نکلنے کی سمجھ نہیں آئی۔لطیفہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے لڑتے ہوئے میں نے تمھارے چونتیس کے چونتیس دانت نکال دینے ہیں ۔قریب سے ایک خرد مند گویا ہوا جناب عالی دانت تو بتیس ہوتے ہیں ۔اس لڑاکے نے بولا مجھے معلوم تھا کہ تم بھی دخل اندازی کرو گے اس میں تمہارے بھی دو شامل کر لیے تھے۔اس لطیفہ کے پیش نظر اس عقل داڑھ اگنے کے باوجود ہم بےوقوفانہ باتوں پر کہ فلاں شخص نے اتنے سال ڈولفن سے غلط حرکت کی خبر اور بغیر سوچے سمجھے ایک طوفان بدتمیزی ،انٹیاں ،واشڑ ،تمام کے تمام دن رات واویلا کرتے نہیں تھکتے ۔کبھی کسی بلیّ کے ساتھ خبر ،واویلا ،چائوں چائوں ۔ کیا ہوگیا ہے ہمیں ؟ ہمارے پاس کوئی آئے ایک مُکّہ رسید کرے جس سے ہماری عقل داڑھ نکل جائے اور ہم سمجھ جائیں ضرورت بس اتنی ہے ۔

 

بشکریہ اردو کالمز