پنجابی کا مشہور لوک گیت موجودہ دور کے مطابق ـ چن کتھاں گزاری ادھی رات وے مینڈا جی دلیلاں دے وات وے ـ
ویسے تو سارا سال شاعر حضرات چاند پر لائین مارتے ہیں اور اپنے محبوب کی غیر موجودگی میں فرضی محبوب بلآخر چاند ہی ہوتا ہے ـلیکن رمضان اور شوال کا چاند مولویوں کا ہوتا ہے کہ خبر دار کسی نے ہمارے چاند کو میلی آنکھ سے دیکھا یہ بس ہمارا ہے ـ پر کیا کریں جناب چاند پر بھی کوئی قبضہ کر سکتا ہے ؟ کوئی ضروری تو نہیں چاند فلک پر ہو وہ بھی تو اپنے چاند کا متلاشی در بدر ہوگا اسی لیے تو ناز نخرے سے نظر آتا ہے ـ جناب یہ تو چاند کی بات ہے ـ جب ریاست کمزورہو تی ہے تو وہاں لاقانونیت عام ہو جاتی ہے ـ کچھ ایسا ہی مملکت پاکستان میں دیکھنے کو مل رہا ہے امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون ـ مولوی اور لبرل کے لیے الگ قانون ـ رؤیت کا مسئلہ ہر سال پیش آتا ہے بجائے اسے سلجھانے کے ایسا الجھایا کہ چن تارے اکٹھے نظر آنے لگے وہ بھی بے وقت ـ جہاں یہ خالص دینی فریضہ ہے وہاں اسے سیاست کے بھینٹ چڑھا دیا گیا ـ اور بےکار سرکار نے پاکستانیوں کو انٹرٹینمٹ کا ایک اور موقع فراہم کیا ـ لوگ نو بجے تک نا اہل لوگوں کی طرف دیکھتے رہے جب فواد چودھری صاحب کا ٹویٹ سامنے آیا کہ منسٹری آف سائینس اور ٹیکنالوجی کے مطابق چاند 13 مئی کو نظر آ پائے گااور عید14 مئی کو ہو گی اس کے بعد اشتیاق بڑھ گیا ـ آخر اہل پاکستان نے آخری محاظ ( سوشل میڈیا ) سمبھالا اور طرح طرح کی دلچسپ پوسٹ سامنے آئی ـ ایک نے کہا چاند نے کرونا ایس او پیز کو فالو کرتے ہوئے باہر نکلنا مناسب نہیں سمجھا ـ ایک نے لکھا کیوں نا چاند دیکھنے کا کام بھی فوج کو سونپا جائے ـ کوئی ہمیں بھی بتائے دودھ کی دہی لگانی ہے یا صبح کھیر ـ آخر 11.30 کے قریب پشاور سے عید کا اعلان ہونے کے بعد یکجہتی کے پیش نظر عید کا باقائدہ اعلان ہوا ـتا ہم لکھاریوں نے ہمت نہ ہاری اور لکھا اس کمیٹی نے بھی اس قوم کو حیران کیا رات بارہ بجے چن چڑھا دتا – اگر چاند رات کو آپ کے جسم میں سرسراہٹ ہو تو سب سے پہلے آپ نے گھبرانا نہیں کیوں کہ شیطان ری انسٹال ہورہا ہو گا ـ پاکستانی عوام نے امید چھوڑ دی تھی لیکن چاند نے امید نہیں توڑی رات 11 بجے منظر عام پر آ گیا – لوگو اعلان کیا جاتا ہے کہ سحری کا سامان بھی تیار رکھو حکومت کے پاس یو ٹرن کا آپشن موجود ہے ـ کوئی پنڈ دے مولوی نوں وی دس دیوے کہ شہر والے مولبیاں چن چاڑھ دتا اے ـ ساڈا چن ساڈی مرضی مولوی اچکنزئی ـ اور فواد چودھری کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا صرف مجھے نیچا دکھانے کے لیے اپنی مرضی کا چن چڑھایا گیا ـدیکھا قوم کس ڈٹھائی سے یکجا ہوتی ہے ؟