6 اپریل کو بلوچستان کے کیپٹل کوئٹہ شہر میں پرامن احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز پر پولیس لاٹھی چارج کرتی ہے اور پھر ان کو گرفتار کردیا جاتا ہے۔ یہ وہی ڈاکٹرز ہے جن کو کچھ دن پہلے پولیس سمیت پورا قوم میڈیا پر سلیوٹ کر رہا تھا۔ ان حالت کو دیکھا جائے تو پولیس کا کام بےوجہ گھر سے باہر نکلنے والے شہری پر لاٹھی چارج کرنا بنتا ہے اس طرح ڈاکٹرز پر نہیں۔ مگر ڈاکٹرز کا وہاں کثیر تعداد موجود ہوکر احتجاج کرنے کو غلط اس وقت کہا جاسکتا تھا جب کسی نے ماسک نہ پہنا ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر کھڑے ہوں۔ احتجاج کا مقصد ان کے مطابق ان کو مکمل میڈیکل کٹ نہیں دیے جارہے اور دیکہ جائے یہ احتجاج ٹھیک بھی ہیں ۔ بلوچستان میں پچلے کئی وقت سے ڈاکٹرز پر لاٹھی چارج، ان کو گرفتار کرنا چلتا آرہا ہے۔
مگر آج کا ڈاکٹرز پر حملہ سمج سے بالاتر ہے۔ اس وقت پورے دنیا میں ڈاکٹرز کو عزت دی جارہی اور ان کا کہنا مانا جارہا ہے مگر بدقسمتی سے بلوچستان میں ان کو نہ حفاظتی سامان دیا جارہا ہے اور گرفتار کیا جارہا۔ جب کہ ان حالت میں ان کو عزت دینی چاہیے اور ان کی ہر ممکن کام سے جوڑے ضرورت اور خوائش پوری کرنی چاہیے۔میڈیکل کٹ نہ دینا سب کے سمج سے بالاتر تو ہے مگر 10 15 اہلکاروں کے گروپ میں آنا اور وہاں لوگوں کا ہجوم جما کرنا بھی سمج سے بالاتر ہے۔ ادر یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ وائرس پہل جائے کیوں کہ میڈیکل کٹ نہ دینا اور پھر ڈنڈے برسانا یہ سب باتیں ہی ثابت کرتی ہے کہ ہماری حکومت کتنی سنجیدہ ہے۔
ہمارے سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے اچھی طرح لگایاجاسکتا ہے اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہماری حکومت کورانا سے نہ ڈرنا چھاتی ہے اور نہ ہی لڑھنا۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹرز کی تصویر دیکی جائے تو وہ ایک دوسرے سے بہت ہی قریب سلاخوں کے پیچھے بھٹاے گے تھے ۔ ادر جگہ بھی نہیں تھی اور پولیس کی ذمےداری تھی کہ ان کو نزدیک نہ بٹایا جائے۔
اس وقت یقینن پولیس سٹیشن میں موجود سب کو معلوم ہوگا کہ یہ ڈاکٹر ہے اور ہر دن وائرس ان کے اگے پیچھے رہتی ہے مگر اس بات کو بھی وہاں نظر انداز کیا گیا تھا۔
آب بات کرتے ہے ڈاکٹرز کی جو ادر کثیر تعداد میں موجود تھے تو ان کو معلوم تھا کہ کیا کرنا اور وہ تمام تدابیر اپنا رہے تھے۔ ادر وه احتجاج بھی اپنے اور دوسروں کی جان بچانے کے لئے کر رہے تھے اور احتجاج کرنا بھی درست تھا۔ چین سے آے ہوے بھائی چارے کی میڈیکل کٹ بلوچستان تک نہیں پہنچی اور اگر پہنچ بھی گئی تو موجودا حکومت نے ہسپتال تک کیوں نہیں بھیجی۔
جب ڈاکٹرز کہ رہے ہے کہ ان کو میڈیکل کٹ نہیں ملی تو نہیں ملی ہوگی اس کے جواب میں لاٹھی چارج کرنا بلکل غلط ہے اور پرآمن احتجاج پر لاٹھی چارج کرنے کی قانون بھی اجازت نہیں دیتا۔بلوچستان میں اس وقت تک جس نے بھی پرامن احتجاج کیا خواں وه ڈاکٹر ہو، وکیل ہو، مزدور ہو یا طالب علم ہو ان سب سے بات کرنے کے بعد رضا مند نہ ہونے پر لاٹھی چارج کردیا جاتا ہے اور ان کو گرفتار کردیا جاتا ہے۔ حکومت سے گزارش ہے پولیس ٹریننگ میں ان کو یہ باتیں بتایے جائے کہ مرد پر ہاتھ اٹھنے کے لئے مرد پولیس والا موجود ہوتا ہے اور عورت کے لئے عورت۔ پچلے دنوں کی بات تھی بولان میڈیکل کمپلیکس کے طلبہ کے پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج ہوئی تو ایک مرد کو لیجانے کے لئے پانج عورتوں کے بیچ میں سے اس کو کینچا گیا اور دو خواتین روڈ پر گر گیی۔ جب تک سفارشات پر پولیس میں لوگ برتهی ہونگے تو ایسا ہی ہوگا۔ آخر میں گزرارش کرتا ہوں حکومت بلوچستان سے کہ وہ ڈاکٹرز کو ہر ممکن سہولت فرام کریں اور پولیس کو اتنا اختیار نہ دیا جائے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں۔
696