سال 2020 جنوری کی بات تھی کہ میں اپنے بلوچستان کے دوستوں کے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھا۔ چھٹی کا دن تھا اور تمام دوستوں کا پروگرام بنا کہ اسلام آباد کے پاس موجود ایک چھوٹے سے گاؤں سیدپور جاییں گے جس میں ہندو مذہب آباد ہے۔ سیدپور جانے کی خاص وجہ وہاں پر موجود ثقافتی ریستوڑانٹ دیس پردیس کو دیکھنا تھا۔
ایک دوست کی خواہش پر ہم نے انکے کلاس فیلو اد ماہ کو بلایا جو کے ایک چینی لڑکا ہے اور وه چین سے تھا۔خیر کچھ وقت کے بعد وه بھی وہاں پہنچ گیا اور
ہم سیدپور کی طرف روانہ ہوگے ۔دیس پردیس ریسٹورنٹ ایک بلندجگہ پر موجود ہے اتنا بلند کہ اس سے سیدپور کا پورا گاؤں نظر اتا ہے۔
مجھے وہاں سب سے ملٹی کلچرل یہ لگا کہ شہر اے اقتدار میں صوبہ پنجاب کے کلچرل ریسٹورنٹ میں پلنگ پر بیٹھ کر ایک چینی لڑکے سے انگریزی زبان میں بلوچی کلچر کے حوالے سے بات کرنا۔بات چیت چلتی گیئ اور ہم نے اسی دوران کانا منگوایا اور ادماہ اس وقت ہمارے مہمان تھے اور اپنے روایت کے مطابق
ہم نے اس کی خاطر داری کی.
اسی دن صبح میں انگریزی اخبار ڈھان کو پڑھتے ہوے میں نے دیکہ کے چین نے اپنے ملک میں وائرس پہلنے کی وجہ سے اپنے شہر وهان میں دس دن میں ہسپتال تیار کرنے کا دعوه کیا ہے اور پاکستان جیسے صحت کے حوالے سے پیچھے ملک میں رے کر ایسی بات سننا میرے لئے حیران کن تھا اور سب سے دلجسپ بات یہ تھی کہ یہ 1000 پلنگ پر مشتمل ہوگا اور چین کی حکومت نے یہ تیار کر کے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے عوام کے لئے کتنا فقر مند ہیں۔
میں نے یہ بات ادماہ سے کی اور اس نے کہا بلکل ہوسکتا ہے۔مزید ہم اس وائرس کو ڈسکس کرنے لگے اور بات اس کے نقصانات پر آگئی کہ وہ انسان کو ختم کرسکتا ہے مطلب کافی اموات اس سے ہوسکتی ہیں۔
ہم وہاں سے اٹھ کر واپس گھر کے طرف روانہ ہوے اور راستے میں ادماہ (چینی لڑکا) ہر طرف میڈیکل اسٹورز ڈونڈ رہا تھا۔ اس سے پوچنھے کے بعد مجھے معلوم ہوا وه وائرس کی ڈر سے پاکستان میں اپنے لئے ماسک، اور دیگر چیزیں خرید رہا تھا جب کے یہ وائرس اس وقت صرف چین میں موجود تھا۔ اس کو یہ سب خریدتے ہوے دیک کر ہم حیران بھی تھے اور ہنس بھی رہے تھے۔
اس وقت وہ صرف یہی کہہ رہا تھا کے یہ بہت خطرناک اور تم لوگ قسمت والے ہو کہ یہ وبا اب تک یہاں نہیں آیا۔
اس وقت اس کی باتیں ہمیں فضول لگ رہا تھا اور اسکا سامان خریدنا بھی ہمیں عجیب لگ رہا تھا۔
ہماری طرح اس وقت ہماری حکومت بھی چین کو دیک کر کوئی خاص قدم نہیں اٹھا رہی تھی جس سے عوام کو فائدہ ہو۔
جیسے چینی لڑکا ہمیں سمجھا رہا تھا کہ یہ بہت خطرناک ہے ٹھیک اسی طرح چینی حکومت بھی پاکستان سمیت اور دیگر پاکستان جیسے ممالک کو سمجھا رہا تھا۔مگر ہماری حکومت نے جواب میں ہمیں نہ آگا کیا اور نا ہی ہمارے لئے کوئی اہم فیصلہ کیا بلکہ چین کی امداد کرنے کو تیار ہوگیا اور ملک کے مختلف حصوں میں میڈیکل سپلائی کیا اور اس کے ساتھ ساتھ فلائٹ بھی روک دئے۔
یہ سب کرنا غلط نہیں تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے عوام کے لئے کچھ کرنا لازمی تھا۔ اس وقت کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گیے۔ وائرس کے شروع میں چین میں پسے ہوے پاکستانی طالب علموں نے سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز بناۓ اور حکومت سے گزارش کی کہ ان کو وطن واپس لایا جائے مگر یہاں سے جواب ملا کہ موت کہی بھی آسکتی ہیں۔ اگر دیکہ جائے حکومت چین کی مدد کرسکتا تھا تو اس وقت طالب الموں کے لیے ایک پی آئی اے کا جہاز اور میڈیکل اسٹاف بھیجا جاسکتا تھا اور ہمارے پڑوسی ممالک نے یہی کیا اور اپنے تمام طالب الموں کو واپس لانے کے لئے اقدامات کیے۔
جب ایران تک وائرس پنچا تو اس وقت حکومت کو یہ اندازہ کیوں نہیں ہوا کہ ایران سے ظایرین ضرور واپس آییں گے۔ جب پانی سر سے اوپر ہو چکا تھا یعنی ظایرین تافتان بارڈر پنچ گیے اس وقت حکومت کو ہوش آیا اور حکومت بلوچستان کو ھدایت دی گیے کہ وه ظایرین کے لئے انتظامات کریں اور ایک قرنتینا سینٹر بنایا گیا جس میں ایک پلنگ کا دوسرے پلنگ سے چند میٹر کا فاصلہ بھی نہیں تھا۔ ۔خیر ماضی بدل تو نہیں سکتی لیکن اس وقت بھی ہمیں اپنے ہی گھروں میں رہنا چاہیے اور کم اس کم ایک دوسرے سے 6 فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ ہمیں دیر تو ہوگئی مگر اب اس وبا سے لڑھنا ہے ڈرنا نہیں ہے۔
انشااللہ مل کر اس کو شکست دیں گے اور اس سے پہلے بھی ١٩١٨ میں ایک وبا سپانش فلو کے نام سے آے تھی دنیا بر میں اور اس وقت سب کچھ بند تھا اور لوگ ماسک پہنتے تھے اور تمام تدبیر اپنا تھے۔ امید یہی ہے کہ جتنی تیزی سے یہ دنیا میں آیے بلکل اسی تیزی سے واپس جائے۔
ہمیں اس مصیبت سے یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی ہم کسی دوسرے پر آے مشکل کو ہلکا مت لیں۔
763