دو نہیں ایک پاکستان میں سب کے لیے ایک قانون ہونا چاہیے۔دو نہیں ایک پاکستان کا تصور تو کیا جاسکتا ہے جو کہ پاکستانی سیاست دان حکومت میں آنے سے پہلے کرتے ہیں لیکن اس پر نہ خود عمل کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کو اس پر عمل کرواتے ہیں۔
اس ملک کو عرصہ دراز سے لوٹا جا رہا ہے جو بھی حکومت میں آیا خوب پیسہ بنایا،بیرون ممالک اپنے عزیرواقارب اور بیوی بچوں کے نام پر جاٸید ادیں خریدیں اور سوٸس بینکوں میں خوب پیسے جمع کرواۓ۔
پاکستان کو ترقی پزیر بنانے میں صرف سیاست دانوں کا ہاتھ ہی نہیں ہے بلکہ بیوروکریٹس بھی اس میں برابر کے شریک ہیں۔بیوروکریٹس کے لاٸف سٹاٸل اور تنخواٶں میں تضاد نظر آتا ہے۔لیکن اس بات کا بھی افسوس ہے کہ احتساب صرف سیاست دانوں کا ہوتا ہے بیوروکریٹس کا نہیں ہوتا ہے۔بیورکریٹس سیاست دانوں سے زیادہ امیر اور غلط طریقے سے پیسہ بناتے ہیں احتساب کے ادارے ہمیشہ سیاست دانوں کے لیے استعمال کیۓ جاتے ہیں بیوروکریٹس کا احتساب پاکستان میں بہت کم ہوتا ہے۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب نے یہ نعرہ لگایا ”دو نہیں ایک پاکستان “ اسں پر عمل کروانے کی کوشش تو کی لیکن عوام نے دیکھا کہ وزیراعظم جناب عمران خان صاحب بھی کسی نہ کسی مقام پر بےبس نظر آۓ تھے۔وزیراعظم پاکستان نے ایک اچھا کام کیا وہ یکساں نظام تعلیم ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں غریبوں کے لیے ادویات نہ کل میسر تھیں اور نہ آج۔ امیر کل بھی خوش تھااور غریب آج بھی نہ خوش ہے۔انصاف کل بھی مہنگا تھا اور آج بھی ۔تو دو نہیں ایک پاکستان والا نعرہ سچ ثابت نہ ہو سکا۔وی آٸی پی کلچر کل بھی تھا اور آج بھی ہے اگر ایف_آٸی _آر غریب پر کٹے تو وہ جیل میں ہوتاہے لیکن امیر کو کوٸی گرفتار نہیں کرسکتا ۔اس ملک میں دو نہیں ایک پاکستان تب ہی بنے گا جب پاکستانی حکمران غریب لوگوں کو اوپرلے کے آٸیں اور انکو برابری کے حقوق ملیں ۔امیر شخص تو اپنا کام کسی نہ کسی طریقے سے نکال ہی سکتا ہے۔لیکن غریب شخص تو اپنا حق لیتے ہوۓ ڈرتا ہےکہ اس کو امارت میں ڈوبا شخص مار ہی نہ دے۔
وقت کو ضرورت ایک ایسے حکمران کی ہے جسے دریاۓفرات کے کنارے پیاسے کتے کے مرنے کی فکر تھی۔جس کو آدھی رات کو گشت کی فکر تھی کہ رعایا سکون سے سوۓ،ایک بھوکی عورت کے مل جانے پر راشن کی ہر چیز مہیا کرنے کے بعد بھی رَورَو کر یہ کہنا کہ خدا سے میری شکایت نا کردینا ۔میری دُعا ہے خُدا ہمیں پھر سے ایسا حکمران دے۔آمین
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو
یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو
یہاں جو سبزہ اگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو
گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو
خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویش ماہ و سال نہ ہو
ہر ایک خود ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو
خدا کرے کہ میرے اک بھی ہم وطن کے لئے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو
(احمد ندیم قاسمی)
472