اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے 729

اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے

زندگی ہمیں اکثر ایسے حالات و واقعات سے گزارتی ہے کہ مایوسی میں ہمیں آگے بڑھنے کا کوٸی راستہ نظر نہیں آتا۔کسی بھی ناکامی،جسمانی و جزباتی حادثہ سے ہونے والے نقصان کے بعد بندہ اچھا خاصہ بکھر جاتا ہے۔پھر اس میں اتنی سکت نہیں رہتی کہ وہ مزید منفی رویے برداشت کرے،طعنہ زنی کا سامنا کرے وغیرہ۔ایسے واقعات ہر عام و خاص انسان کے ساتھ زندگی میں ہوتے ہیں۔مایوسی اس قدر ہوتی ہے کہ اُمید کی کوٸی کرن نظر نہیں آتی ۔اصل میں مایوسی کوٸی ہماری اپنی بناٸی ہوٸی نہیں ہوتی یہ ہم اپنے اردگرد کے ماحول سے لوگوں کے منفی رویوں سے سیکھ لیتے ہیں۔اور جب تک ہم مایوسی سے نکلنے کی شعوری کوشش نہیں کرتے ہم اس رویے پر قاٸم رہتے ہیں ۔کیوں کہ خود کو سمیٹنا ،اکٹھا کرنا اور پھر سے کھڑے ہوجانا ہی اصل بہادری ہے۔
    ایک بات تو ذہہن میں بٹھا لیں کہ مشکلات،ناکامیاں ،رکاوٹیں زندگی کا حصّہ ہیں۔اگر ہم یہ سوچیں کہ صرف ہماری زندگی ہی مشکلات سے بھری پڑی ہے تو یہ غلط ہے۔ہر انسان کی زندگی میں مشکلات و مصاٸب ہیں۔ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کسی کی زندگی میں کم مشکلات ہیں اور کسی کی زندگی میں زیادہ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری زندگی کی مشکلات اور دوسروں کی زندگی کی مشکلات میں فرق ہو مگرزندگی پھولوں کی سیج کسی کےلیے بھی نہیں ہےکوٸی بھی ان رکاوٹوں سے بچ نہیں سکا۔ہمیں تو صرف راستہ تلاش کرنا ہےکہ کس طرح ان سے لڑنا ہے اور زندگی کا سفر ہنسی خوشی جاری رکھنا ہے۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اپنی سوچوں کو مثبت رکھیں ۔مثبت خیال رکھنے والے دوستوں میں بیٹھیں ۔منفی ،رویوں سے اپنے آپ کو دُور رکھیں ۔اپنے حق کے لیے خود کھڑے ہوں کسی کے آنے کا انتظار نہ کریں۔کب تک اپنے آپ کو ماضی کا قید بناۓ رکھیں گے؟ کب تک اپنے آپکو کوستے رہیں گے؟
 اندھیرے پر لعنت بھیجنے سے بہتر ہےکہ روشنی اور اُمید کا دیا خود جلاٸیں۔جس کام پر قادر ہیں کم از کم وہ تو کریں۔مستقل مزاجی کے ساھ تھوڑا عمل بھی خوب فاٸدہ دیتا ہے۔یہ مت سوچیں کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا ۔اللہ کا نام لیں اور میدان میں اُتریں۔آج ہی سے محنت شروع کریں۔مگر محنت کرنے کے بعد جب دھاڑیں تو پتا چلنا چاہیے کہ یہاں سے کوٸی شیر گزرا ہے۔

قارٸین کی نظر عقاب کی زندگی سے ایک مثال دینا چاہوں گا کہ عقاب کی اوسطاً عمر 70سال ہوتی ہے۔جب 40سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس کی چونچ آگے سے مڑ جاتی ہے شکار نہیں کرپاتا۔اس کے پر اتنے بھاری ہو جاتے ہیں کہ چھاتی سے چپک جاتے ہیں۔اُڑنے میں تکلیف ہوتی ہے۔اس کے پاٶں جس سے جھپٹتا ہے وہ ناخن شکار کر کر کے ٹیرے ہوجاتے ہیں ۔اب اس کے پاس انتخاب  کاصرف ایک آپشن ہوتا ہے کہ وہ مر جاۓ۔مگر 40سال کی عمر  میں عقاب ایسا نہیں کرتا اور ایک اپنے اردگرد سب سے اونچی چوٹی پر چلا جاتا ہے اور چونچ کو پتھر پر مارنا شروع کر دیتا ہے۔درد سہتا ہے تکلیف برداشت کرتا ہے درد سے مر رہا ہوتا ہے لیکن مارتا ہے۔چونچ کو توڑتا ہے اس لیے توڑتا ہے کے چونچ نٸ  آۓ گی۔پاٶں کے ناخن کو رگڑتا ہے توڑ دیتا ہے۔مگر ہر عقاب کی زندگی میں یہ دن ضرور آتا ہے جیسے ہی چونچ آتی ہے اپنے پر توڑتا ہے تاکہ نۓ پر آٸیں اور اس عمل کو 6ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے پھر اس کے بعد اک نیا عقاب بن کر باقی کے 30سال زندہ رہتا ہے ۔اس طرح اگر وہ آج زندگی مشکل گزار لیں گے تو کل کی زندگی آسان ہوجاۓ گی آج وہ محنت نہیں کریں گے تو کل کی زندگی بھی مشکل رہے گی اور آج کی بھی۔
 آگے بڑھنے والوں کے لیے راستے بنانا اللہ کا کام ہے۔آپ بس اپنے حصّے کی محنت دل لگا کر  کریں آپ کی ہمت اور کاوش آپ کو منزل تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو گی اور اپنے آپ کو بڑی  کا میابیوں کے لیے تیار رکھیں۔ اپنے رب سے مشورہ کریں ،اُس پر بھروسہ کریں ،اُس سے دعا کریں اور پھر سے کھڑے ہو کر نٸی سفر کا آغاز کریں۔۔۔۔نہ ڈریں نہ جھکیں نہ ہی صرف سوچتے رہیں بلکہ کچھ کر کے دکھا نا ہے۔

اُٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

بشکریہ اردو کالمز