نور خان اس سال پھر سے ڈریسنگ روم میں میرا انتظار کررہے تھے۔ میں کلینک سے اٹھا اور انکے بستر پر پہنچا۔ اس دفعہ انہوں نے بائیں پاﺅں کو آگے کیا ہوا تھا۔ اسکے تلوے پر ایک بڑا سا زخم تھا۔ میں نے پوچھا کیسے بنا؟ تو کندھے اچکا کر کہا کہ پتہ نہیں چند دن سے مسلسل اس زخم سے پانی بہہ رہا ہے۔ میں نے ان کےساتھ آئے ہوئے بیٹے سے پوچھا کہ اب پھر سے انہوں نے کمرے میں ہیٹر رکھنا شروع کیا ہے۔ وہ کہنے لگے کہ ڈاکٹر صاحب ہمارے کہنے سے تو باز ہی نہیں آتے۔ ان کے بس میں نہیں کہ بس ہیٹر کے اوپر بیٹھ ہی جائیں۔ نور خان‘ میرے اور شوگرکے تکون کا حصہ ہیں‘ انکو گزشتہ پندرہ سال سے شوگر کی شکاےت ہے‘ شوگر تو بہت حد تک ہمارے اینڈو کرینا لوجسٹ کنٹرول کرلیتے ہیں لیکن وہ بیچ میں بد پرہیزی سے باز نہیں آتے۔ پچھلے سال انہوں نے تقریباً اپنا دایاں پاﺅں گنواہی دیا تھا وہ تو خیر ہوئی دو تین ہفتے کے علاج اور تین چار آپریشنوں سے وہ اپاہج ہونے سے بچ گئے تھے۔ ان کو میں نے ہزار بار سمجھایا تھا کہ شوگر میں پاﺅں کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اور اسکے احساسات مرجاتے ہیں اسلئے پاﺅں کا خیال رکھنا شوگر کے مریضوں کیلئے بہت ضروری ٹھہر جاتا ہے۔آپ جب بھی شوگر کے ڈاکٹر سے ملتے ہیں ان میں سے اکثر آپ کی آنکھوں کا بھی معائنہ کریں گے‘ دل کا حال بھی جانیں گے۔
گردوں پر بھی نظر رکھیں گے لیکن کم ہی ایسے ہوں گے جو آپ کے جوتوں پر نظر ڈالیں گے یا آپکے پاﺅں کا معائنہ کریں گے‘اسی لئے میرے پاس جو بھی شوگر کا مریض پاﺅں کے عارضے کے ساتھ آتاہے‘ میں نہ صرف زبانی سمجھاتاہوں بلکہ تین چار زبانوں میں اس کو پاﺅں کا خیال رکھنے کی ہدایات کا ایک صفحہ بھی پکڑا دیتا ہوں۔ نور خان کو بھی پشتو اور اردو دونوں میں لکھا ہوا پمفلٹ دیا تھا لیکن جس طرح کا رویہ ڈاکٹر کی دوسری ہدایات کےساتھ روا رکھا جاتا ہے‘ اس کاغذ کو بھی اسی طرح کسی کونے میں پھینک دیا گیا تھااور اب وہ میرے سامنے بستر پر جلے ہوئے پاﺅں کےساتھ دراز بے بسی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔انسانی جسم ایک عجوبہ ہے جس میں سب سے نا سمجھنے والا حصہ دماغ اور اعصاب کا ہے۔ ہمارے بدن کا ہر حصہ دماغ کےساتھ اعصاب کےساتھ جڑا ہوتا ہے ۔ ایک ایک خلیہ اپنے حالات سے دماغ کو ہر ہر لمحہ آگاہ کرتا رہتا ہے۔ آپ نے لمبی تراویح میں تجربہ کیا ہوگا کہ جب کھڑے کھڑے ذرا سی دیر ہوجاتی ہے تو آپ سارا وزن ایک پاﺅں پر منتقل کردیتے ہیں یہ اسلئے کہ جب پاﺅں کے تلوے پر آپ کے جسم کا سارا زور پڑتا ہے تو وہ پچک جاتا ہے اور اس حصے میں خون کا دوران رک جاتا ہے۔ جب وہاں کے خلئے خون کی کمی مزید برداشت نہیں کرسکتے تو دماغ میں گھنٹی بج جاتی ہے‘دماغ آپ کو اپنا وزن دوسرے پاﺅں پر منتقل کرنے کا حکم دےدیتا ہے اور یوںآپ وزن دوسرے پاﺅں پر منتقل کردیتے ہیں یہ اعصاب اور دماغ کا رشتہ سوتے میں بھی کار آمد ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رات کو سوتے وقت آٹھ گھنٹے کی نیند میں ہم اٹھار ہ سے چوبیس دفعہ کروٹ بدلتے ہیں‘یہی وجہ ہوتی ہے کہ جب بدن فالج کے حملے سے متاثر ہوتا ہے تو ہم ایک ہی جگہ پر لمبا عرصہ دباﺅ ڈال لیتے ہیں اور وہاں پر زخم بن جاتا ہے۔
شوگر کے مریض کے پاﺅں میں خصوصاً اعصابی کمزوری پائی جاتی ہے ‘یوںپاﺅں کا احساس مر جاتاہے اور اگر وہ ہیٹر کے نزدیک ہوکر جل بھی جائے‘ تو احساس نہیں ہوتا‘ میرے ایک پیارے دوست کو گاڑیوں کے جمع کرنے اور ان میں مختلف اختراعات ڈالنے کا شوق ہے‘خود ہی ہاتھ میں لوہے کے اوزار اور ویلڈنگ کے کھلونے لے کر عملاً آگ سے کھیلتے رہتے ہیں‘ ایک دفعہ لوہے کے سرخ ذرے انکے پاﺅں پر پڑے لیکن ان کو احساس تک نہ ہوا‘ وہ تو جب گوشت جلنے کی بو آئی تو نیچے دیکھا‘ اللہ نے خیر کی کہ بروقت علاج سے پاﺅں کٹنے سے بچ گیا‘ تقریباً نوے فیصد شوگر زدہ پاﺅں میں احساس مرجاتاہے اور اسیلئے زخمی ہوتے رہتے ہیں‘ بقیہ میں خون کی نالیوں کی بندش کی وجہ سے زخم بنتے ہیں‘تاہم دونوں بیماریاں ایک ساتھ کم ہی ہوتی ہیں‘ خون کی نالیوں کی بندش کی وجہ سے جو زخم بنتے ہیں وہ بہت زیادہ اور ناقابل برداشت درد کا باعث بنتے ہیں‘ انکا علاج فوری طور پر ہونا بہت لازم ہوجاتا ہے ورنہ جلد ہی بہت اوپر سے پاﺅں کاٹنا پڑتا ہے‘ بہر حال شوگر کے مریضوں کو پاﺅں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے‘ہمارے معاشرے میں کپڑوں اور چہرے کی رونق کا تو خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن پاﺅں بے چارے جو ساری عمر ہمارا وزن برداشت کرکے ہمیں اٹھائے پھرتے ہیں‘ ہماری بے توجہی کا شکار رہتے ہیں‘ پاﺅں کیلئے آرام دہ جوتا مہنگا بھی ہو تو کسی طریقے سے ضرور حاصل کریں پھر شوگر کے مریض کیلئے نرم اور آرام دہ جوتا‘ کاٹن کی جراب لازم و ملزوم بن جاتا ہے‘ ہر رات ویسلین سے مالش‘ کسی سے احتیاط کےساتھ ناخن ترشوانا‘ جوتے پہننے سے قبل اس میں ہاتھ ڈال کر دیکھنا کہ کوئی کنکر وغیرہ تو نہیں۔
پیچھے سے کھلے جوتوں سے احتراض اور پاﺅں ہر وقت گیلے نہ رہنے دینا وہ چند ضروری ہدایات ہیں جو میں ہر مریض کو دیتا ہوں‘ ویسے بھی اللہ تعالیٰ نے پاﺅں کی ساخت ایسی بنائی ہے جیسے کسی بس کی کمانیاں‘ جب ہم زور سے اپنے پورے بدن کا وزن ایک پاﺅں سے دوسرے پاﺅں پر منتقل کرتے ہیں تو یہی کمانیاں سارا شاک جذب کرتی ہیں‘ جوتے وہی اچھے ہوتے ہیں جن میں درمیان میں نرم اُٹھان ہوتاکہ تلوے کی کمانی بالکل ہی بیٹھ نہ جائے‘اسوقت دنیا کی جوتے بنانےوالی اچھی کمپنیاں اسی پر تحقیق کرتی ہیں پچھلے دنوں جب مجھے ایک پنڈلی میں درد شروع ہوا اور دس منٹ چلنا بھی دو بھرہوگیا تھا تو میری مدد کو ایسا ہی ایک جوتا آیا جو گوگل سے تحقیق کے بعد اچھا خاصا مہنگا خریدا لیکن پہلے ہی دن میری پنڈلی کو اتنا آرام آیا کہ میں نے جم میں پھر سے ٹریڈمل شروع کردیا‘ اچھے جوتے وہ ہیں جو پاﺅں کو انکا حق دے سکیں نہ کہ فینسی ہوں‘ اس سلسلے میں پشاوری چپل شوگر کے مریضوں کیلئے بے حد خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ پیچھے سے کھلے ہوتے ہیں اور کوئی بھی کنکر یا کانٹا پاﺅں کے نیچے آسکتا ہے‘ اچھے اور آرام دہ جوتے ہر پاﺅں کا حق ہے جو ہمیں ساری عمر متحرک رکھتے ہیں۔
پاﺅں کاحق