کورین ائیرلائنز کی پروازوں میں 1990ء سے پہلے حادثے بہت عام تھے۔ تمام تر تفتیشوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ نہ تو ان میں طیاروں کی عمر یا کسی ٹیکنیکل خرابی وجہ بنی اور نہ ہی پائلٹوں کی تربیت۔ ان کے تمام تر طیارے نئے اور ہر قسم کی جدید ترین مشینری سے آراستہ تھے۔ تما م پائلٹ اعلیٰ ترین معیار پر تربیت یافتہ تھے۔ تفتیشی افسران بہت ہی پریشان تھے کہ ان کو حادثات کی وجوہات نہیں مل رہی تھیں‘ آخرکار انہوں نے پروازکے دوران کاک پٹ میں پائلٹوں کیساتھ بیٹھنا شروع کیا‘ان پروازوں کے دوران ان پر انکشاف ہوا کہ کورین معاشرے میں سینئر جونیئر کا بڑا فرق رکھا جاتا ہے اور کوئی بھی ذرا ساجونیئر ہو تو وہ سینئر کے کسی عمل یا حکم پر سوال نہیں اُٹھاسکتا جبکہ جہاز کی پرواز کے دوران بعض فیصلے سیکنڈوں میں کرنے ہوتے ہیں
اس معاملے کو ان تفتیشی ماہرین نے بہت سنجیدہ لیا اور پورے عملے کی دوبارہ تربیت شروع کی۔ ان کو یہ باور کرایا کہ کسی سینئر سے سوال پوچھنا یا ان کے کسی فیصلے پر سوال اٹھانا ہر گز بے ادبی نہیں۔ ایک سال کے اندر اندر کورین ائرلائنز کی کارکردگی دوسرے عالمی ائرلائنز سے بہتر ہوگئی۔ مشرقی معاشرہ خصوصاً اپنے بڑوں کی عزت کرنے کے حوالے سے مشہور ہے‘ بڑوں کے سامنے اونچی آواز میں بولنے سے گریز‘ان کے آتے ہی کھڑا ہونا‘ ان کی تمام گفتگو پر کوئی سوال نہ اٹھانا اور ان کی دانش پر کوئی شک نہ کرنا ہماری خمیر میں ہے۔ چنانچہ ہمیں ان کی تمام توہمات ورثے میں مل جاتی ہیں جن پر سوال اٹھانا حد ادب کیخلاف ہے‘ حالانکہ اب تک جتنی بھی ترقی ہوئی ہے وہ اسی بنیاد پر ہوئی ہے کہ جو ناممکنات ہمارے ذہن میں سمودی گئی ہیں‘
ان کے مخالف سوچا گیا اور آج دنیا اکیسویں صدی میں وہ کارنامے دیکھ رہی ہے جو کچھ عرصہ قبل ناممکن سمجھے جاتے تھے‘ اور یہ رویہ صرف ہمارے مشرق میں نہیں تھا‘ مغرب نے بھی اس میں کافی حصہ ڈالا ہے۔ مثلاً 1903ء میں رائل سوسائٹی آف سائنس لندن کے صدر صاحب نے فرمایا کہ اب تک جتنی ایجادات ممکن تھیں وہ سب ہوچکی ہیں اور اگر کوئی نیا تجربہ کرنا چاہتا ہے تو وہ نہ صرف پیسے کا ضیاع کررہا ہے بلکہ وہ ہمارا وقت بھی ضائع کررہا ہے۔ میرے اساتذہ میں سے دو محترموں کو ابھی تک یاد کرتا ہوں جنہوں نے سکول میں مجھے اس بات کا موقع دیا کہ نہ صرف ان کی تشریح کی مخالفت کروں اور اسے ثابت کروں بلکہ میرے موقف کو مانا بھی۔ اس کے مقابلے میں زیادہ تر اساتذہ کے سامنے بولنا بے ادبی تھی۔اسلامی معاشرے نے بھی سوال اٹھانے کی روایت کو پروان چڑھایا سرکار دوعالمؐ اور خلفائے راشدین ؓسے بھی صحابہؓ سوال کرتے تھے۔
یہی خوبی امام ابو حنیفہؒ کی بھی دیکھیں کہ ان کے دو شاگرد کئی معاملات میں ان سے مختلف موقف اپناتے لیکن وہ ان کے ساتھ فقہ حنفیہ کے بانیوں میں سے شمار ہوتے ہیں اور فقہ کے کسی مسئلہ میں ان تینوں میں دو جن پر متفق ہوتے ہیں اسی کی تقلید ہوتی ہے۔ تاہم دوسری صدی کے بعد ہم نے اماموں یا ان بلند پایہ اساتذہ کی ہر بات کو پتھر کی لکیرقرار دیا جسے کوئی بھی چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کرسکا۔ جس نے اختلاف کیا اسے رافضی، مرتد اور فاسق قرار دیا گیا۔ یوں امت پر وہ جمود طاری ہوگیا کہ موجودہ دور کے کسی مسئلے پر اتفاق تو درکنار‘ ہر وقت سر پھٹول ہوتی رہتی ہے۔ ذہنی صلاحیت نہ تو کسی کی نسلی جاگیر ہے اور نہ عمر کے ساتھ مربوط۔ ہم جس بجلی سے دن کے چوبیس گھنٹے کام لیتے رہتے ہیں وہ ٹسلا نامی موجد کے چودہ سال کی عمرکا خواب تھا۔ وہ پہلی بار جب نیاگرا فال پر پہنچا تو بے اختیار بول اٹھا کہ میں اس طاقت سے پورے بفیلو سٹیٹ کو منور کروں گا اور آج بفیلو سٹیٹ اس خداداد نعمت سے مستفید ہورہا ہے
۔ذہانت کا یہ راز دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں نے پالیا ہے اور اب گوگل‘ مائیکروسافٹ یا فیس بک کسی کی عمر نہیں دیکھتے اور نہ ہی ڈگریوں کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ وہ سکولوں اور کالجو ں میں جاتے ہیں جہاں وہ ان ذہین بچوں کو بھانپ لیتے ہیں۔ تاہم یہ ذہین بچے نمبروں کی بنیاد پر نہیں منتخب ہوتے بلکہ ان کی انوکھی سوچ اور باقی بچوں سے ہٹ کر تخیل رکھنے کی بنیاد پر اچک لئے جاتے ہیں۔ یہ کمپنیاں اب ایچ آر یعنی ہیومین ریسورس پر بہت پیسہ لگارہی ہیں بلکہ اس وقت دنیا بھر میں اسی تخصیص کی سب سے بڑی مانگ پائی جارہی ہے۔ میرے جتنے بھی کلاس فیلو ڈاکٹر نہیں بنے لیکن اپنی زندگی میں کامیاب رستوں پر چل پڑے‘ ان کی اکثریت بالآخر ہیومین ریسورس میں کام کررہی ہے۔ یہ ہے سوال کی اہمیت۔ میری گزارش ہے اساتذہ سے‘خواہ وہ پرائمری سکول میں چھوٹے بچوں کو پڑھارہے ہوں یا پروفیشنل کالجوں میں بالغ طلبہ کو۔ خدا را ان کو سوال کرنے دیجئے۔ ان کو اجازت دیجئے کہ آپ کو چیلنج کریں۔ ان میں متبادل سوچ کی عادت ڈالیں۔ لکیر کے فقیر نہ بننے دیں۔اب جبکہ مشین لرننگ کی وجہ سے روبوٹ بھی سوچنے کے قابل ہوگئے ہیں‘ اشرف المخلوقات کو دولے شاہ کے چوہے نہیں بننا چاہئے۔
سوال کاکمال