2437

جنرل نگار اور اس کا مانیہ 

کئی دنوں سے سوچتا رھا کہ اپنی اکلوتی بیٹی بعض عزیزوں ،رشتہ داروں اپنے قارئین  اور میڈیا سے وابستہ قریبی دوستوں کی اس تحریک پر کیسے توجہ دوں کہ میری عزیز بھانجی اور حال ہی میں جنرل کے عھدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون جنرل نگار کی شخصیت اور ماضی کے حوالے سے بات کروں ۔

کیونکہ ایک تو اس طرح کے معاملات میرا موضوع سخن نہیں ہوتے اور دوم یہ کہ گھر کی کسی خاتون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ،مجھ جیسا دیہاتی اور قدرے پرانی وضع کا حامل آدمی ( لکھاری) فطری طور پر ایک جھجک اور شرماھٹ سی محسوس کرتا ہے۔

لیکن یہ گھریلو خاتون(نگار) چونکہ اب قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنی شدید محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر ایک قابل فخر شناخت اور شہرت سمیٹ چکی ہے ،ساتھ ساتھ زمانے کی تبدیلی اور ارتقائی عمل بھی ایک واضح حقیقت کی شکل میں سامنے ہیں  
اس لئے مجھے کسی حد تک  ایک سہولت اور آسانی میّسر آئی اور خود کو یہ کالم لکھنے پر آمادہ کیا . 

چونکہ میں ایک بلڈی سویلین ہوں اور عسکری معاملات کو زیادہ نہیں سمجھتا اس لئے جنرل نگار کے ذاتی حوالے تک ھی اپنی بات  محدود رکھوں گا ۔

یادوں کی گٹھڑی کھول کر بیٹھا تو سامنے  ستّر کا عشرہ ہے ضلع صوابی کے سرسبز اور پرسکون گاؤں پنج پیر میں دریا کے کنارے عظیم علمی مرکز کے عقب اور پھل دار درختوں کے جھنڈ میں ایک وسیع مہمان خانے میں ہم درجن بھر بچّے جن میں ہم بہن بھائی ،کزنز اور بھانجے بھانجیاں افغانستان سے تعلق رکھنے والے مولانا کبیر (مرحوم ) سے قرآن پاک اور چھوٹی کتابوں ( صرف اور  نورالایضاح وغیرہ  ) کا درس لیتے ہیں ،مولانا کبیر چونکہ شیخ القرآن مولانا محمد طاہر پنج پیر صاحب کے پرانے اور لاڈلے شاگرد ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سخت مزاج کے حامل  بھی ہیں اس لئے ہم سب بچے معمولی سی غلطی یا سبق یاد نہ کرنے پر بلاناغہ زدوکوب بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن صرف ایک بچّی مار پیٹ سے ہمیشہ اس لئے بچ جاتی ہے کیونکہ وہ سبق بھی اچھی طرح یاد کر لیتی ہیں اور ہم سب کی طرح جھوٹ اور بہانوں سے بھی کام نہیں چلاتی ۔۔۔اور وہ بچّی آج کی جنرل نگار ہیں ۔
وقت آگے بڑھتا ہے اس (نگار ) کی ایف ایس سی کا نتیجہ آجاتا ہے تو وہ بورڈ میں پوزیشن لے جاتی ہے تو شیخ القرآن پنج پیر کی سب سے بڑی بیٹی اور نگار کی والدہ گاؤں آکر اپنے عظیم والد کے سامنے سنھبل کر بیٹھ جاتی ہے اور محتاط انداز سے بات شروع کرتی ہیں کہ نگار نے نمبر تو سب سے زیادہ لئے ہیں اور اسے میڈیکل میں داخلہ بھی مل سکتا ہے لیکن۔۔۔۔

لیکن کیا؟

روشن فکر عالم دین والد قدرے غصے کے ساتھ اپنی بیٹی کی بات کاٹ دیتے ہیں اور حسب معمول مختصر لیکن مدلل اور جامع بات کرتے ہیں کہ اگر اس نے محنت کی ہے تو مزید پڑھنا چاہئیے اور یہ تم لوگوں سے کس نے کہا ھے کہ علم صرف مدرسوں میں حاصل کی جاتی ھے ؟

یہی روشن فکری ہی تو اس عالم دین کو منفرد اور اہم ترین  بنا رہی ہے ۔

وقت مزید آگے بڑھتا ہے وہ (نگار ) آرمی میڈیکل کالج سے اعزازی پوزیشن کے ساتھ فارغ ہو کر کیپٹن ڈاکٹر بن جاتی ہے اور مہمانوں کی گیلری میں آ کر ھم سب کے گلے لگ جاتی ھے تو اس کے رائٹر والد جذباتی ہوکر اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کے ناکام کوشش کرتے ہیں. ( بہت کم لوگوں کو معلوم ھے کہ جنرل نگار کے والد کرنل ریٹائرڈ عبدالقادر خان انتہائی صاحب مطالعہ لکھاری تھے اور اس زمانے میں ڈان اخبار میں باقاعدہ کالم لکھا کرتے تھے. آن کا آخری کالم بھی ان کی موت کے دن ھی چھپا تھا جس کے ساتھ اخبار انتظامیہ نے ایک دردناک پیغام بھی لکھا تھا )  اس کے بعد مختلف شہروں میں کیپٹن نگار  کی پوسٹنگز ہوتی ہیں لیکن اپنے گاؤں اور رشتوں  سے اس کا رومانس نہیں ٹوٹتا اور جوں ہی چُھٹیاں ہوتیں تو مجھے فون کر کے کہتی کہ “مانیہ ” ( وہ مجھے بچپن سے اسی نام سے پکارتی ہے) کہ مجھے لینے آجاؤ  اور میں جا کر اسے گاوں لے آتا گھر کے ھم سب ھم عمر دوپہریں پھلدار درختوں کے نیچے اور راتیں گھر کی کھلی چھت پر گپیں ھانکتے اور بزرگوں کی ڈانٹ سنتے گزارتے جب چھٹی ختم ہوتی تو ھم دونوں گاوں سے طویل فاصلہ پیدل  طے کر کے اور ھمارے بزرگوں کے کسی ھم عمر ویگن میں بیٹھ جاتے اور میں انہیں پہنچا کر دوسرے دن واپس آجاتا ۔وہ مجھ سے عمر میں چند سال بڑی ھے لیکن ھم مزاج ہونے کے سبب ھم دونوں بچپن ھی سے بہت قریب رھے.

اس دوران اس کی شادی درویش مزاج میجر جوھر سے ہوئی اور دونوں بہت اچھی زندگی گزارنے لگے لیکن اللہ تعالٰی نے اولاد کی نعمت سے محروم رکھا ۔

اٹھارہ ستمبر اُنیس سو نوّے کو نگار کے والد ،والدہ اور دونوں چھوٹی بیہنیں ایک جانکاہ روڈ ایکسیڈنٹ میں حیدرآباد کے قریب  لقمئہ اجل بنے ،جبکہ ابھی  پچھلے سال اس کے شوھر بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر لحد میں اُتر گئے. گویا کامیابیاں اور دکھ اس کی زندگی کے ساتھ ساتھ چلے لیکن حیرت انگیز طور پر مضبوطی کے ساتھ اپنی شخصیت کو اس نے ان مسلسل دکھوں کے باوجود بھی تھامے رکھا اور کامیابیوں کے باجود بھی ھمیشہ با وقار  اجلا اور قابل اعتبار ھی رکھا ۔

وہ نہ منتشر ہوئی ،نہ بکھری ،نہ ہی تکبّر اس کے مزاج میں آیا ،نہ جھوٹ اور نظر انداز کرنا اس نے سیکھا ۔

اشتعال اور چڑچڑاپن تو دور کی بات ہے بلکہ ھمیشہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ یکسو , سٹریٹ فارورڈ ،پرجوش اور مثبت مزاج ھی رھی.  حتٰی کہ اپنی حس مزاح پر بھی خراش تک نہیں آنے دی ۔

کل شام ہی اس کا فون آیا تو مجھے اپنے مخصوص نام(مانیہ) سے مخاطب کرتے ہوئے ٹیٹھ صوابی وال  پشتو میں اپنا مخصوص جملہ بولا کہ مانیہ سہ دے کول (مانیہ کیا کر رہے ہو) تو میں نے برجستہ کہا کہ مانیہ بچپن کے اس مار پیٹ کو یاد کر رہا ہے جو کبیر استاد کے ھاتھوں کھائی ۔

مجھے معلوم تھا کہ اب اس کی ھنسی نہیں رُکے گی کیونکہ وہ بھی میری طرح ناسٹیلجک (ماضی پرست ) بہت ہے اور پرانے واقعات کا لطف بہت لیتی ہے ۔

اس لئے تو شاہد قادر  (نگار کا بھائی جو ماشاء اللہ اس وقت ایک اہم عھدے پر ہیں ) کے بچپن کی ناقابل فراموش بے وقوفیوں اور  حماقتوں کا ذکر ہمارا مشترکہ اور پسندیدہ موضوع ہے ۔
جس پر ھمارے قھقھے نہیں رکتے ۔

جنرل نگار اس وقت اپنی شدید محنت اور قابلیت کے سبب اگرچہ منظر پر چھائی ہوئی ہیں  لیکن بتانا ضروری ہے کہ ظاہری وضع قطع ( جو اس کی ورکنگ وومن کی حیثیت سے مجبوری ہے) سے ذاتی زندگی قدرے مختلف ہے ،

اس کی شخصیت اگرچہ بہت مدہم اور باوقار ہے لیکن کمزور ہرگز نہیں بظاہر وہ غافل نظر آئے گی لیکن سامنے آنے والے ہر فرد کو وہ چند سیکنڈ میں پوری طرح پرکھ لیتی ہے اس کا رویہ حد درجہ دوستانہ ہوتا ھے لیکن وہ بہت گہرائی کے ساتھ سمجھتی ھے کہ دل اور دماغ کے رشتے اور لوگ الگ الگ ہوتے ہیں اور کس کس کو کہاں  کہاں رکھنا ھے. اس مظبوطی اور سمجھداری کے پیچھے اس کے خاندان کا تاریخی پس منظر بھی  ھے
کیونکہ اس کی تربیت پختون خطے کے سب سے با آثر روحانی  رھنما اور تاریخ ساز ریفارمر  شیخ القرآن مولانا محمد طاہر پنج پیر کے گھر اور زمانہ ساز ماموں میجر عامر کے زیر سایہ ہوئی جن سے رشتہ تو ماموں کا ہے لیکن جاننے والوں کو معلوم ہے کہ در حقیقت یہ ایک والد اور بیٹی ہی کا رشتہ ہے اور اس تاریخ کے پیچھے دکھوں کے طویل موسم میں میجر عامر کی مسلسل اُٹھائی ذمہ داریاں اور لازوال قربانیاں  ہی ہیں ۔ کیونکہ والدین کی وفات کے بعد یہی ماموں ھی ان کا سہارا بنا. 

سو جنرل نگار کی شخصیت  اور کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے  کہنا یہی  ہے کہ تکبّر ،جھوٹ اور دغابازی کے بغیر بھی اہم منصب پر پہنچا جا سکتا ہے اور ایمانداری ،صلہ رحمی اور دوسروں کے احترام کے ساتھ اس منصب پر رہا بھی جا سکتا ہے ۔ بشرطیکہ کوئی نگار کی مانند اسے سیکھ تو لے.

حمادحسن

بشکریہ اردو کالمز