529

غلام احمد بلور جمہوری جدوجہد کا ایک تابندہ کردار

اس عہد ستم کا المیہ دیکھیں کہ جب بے ضمیر کرداروں، بازاری زبانوں اور کذ ب بیانی کے ماہر ٹولے سیاسی بساط پر ایک بے حیا تاریخ بُن رہے ہیں وہاں نا پید ہوتے عہد کا ایک ایسا سیاستدان اب بھی باقی ہے جو نہ صرف شرافت، وفا شعاری اور جمہوری جدوجہد کا ایک تابندہ کردار ہے بلکہ کبھی سیاست میں قربانیوں کی تاریخ کھلے تو بلاشبہ میر قافلہ بھی وہی ٹھہرے گا۔ شاید یہ بات تو ایک دنیا جانتی ہے کہ اس گھر سے روز روز لہولہان لاشیں اٹھتیں اور اس کے آنگن کو تسلسل کے ساتھ ویران اور مغموم کرتی رہیں لیکن دنیا شاید یہ نہیں جانتی کہ مدتوں پہلے سیاست اور دکھ اکٹھے ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے اور ابھی تک وہاں آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں۔ یعنی اس بڑھاپے میں بھی جب ان کی عمر اسی سال سے اوپر ہونے کو ہے اور وہ عصا کے سہارے چل پھر رہے ہیں اسی طرح متحرک اور فعال ہیں جس طرح وہ عشروں پہلے تھے۔ اپنے حلقے میں تو کیا دور دراز کے علاقوں میں کوئی جنازہ تو درکنار کسی مریض کی بیمار پرسی تک نہیں چھوڑتے کہ وضع داری عمر بھر کا اثاثہ ہے۔ ان کے گھر کا وہی آنگن لوگوں سے اب بھی بھرا رہتا ہے جس آنگن سے وہ اپنے پیاروں کی لہولہا ن لاشیں اٹھاتے رہے۔ اس بوڑھے لیکن وفا شعار اور دلیر سیاستدان کا نام غلام احمد بلور ہے۔ یہ نصف صدی پہلے کی بات ہے جب پشاور کے ایک امیر بزنس مین کے چار بیٹوں میں سے سب سے بڑے بیٹے غلام احمد بلور نے ولی باغ کا رخ کیا اور پھر وہ دن اور آج کا دن نہ ولی باغ سے عقیدت ٹوٹی نہ عہد وپیماں پر حرف آنے دیا ۔ ورنہ پس منظر میں جھانکنے والے بوڑھے بلور کے گہرے دکھوں اور گھاؤ کا ادراک بھی رکھتے ہیں۔ لیکن اس باب وفاداری میں وہ کونسی اذیت ہے جو انہوں نے اور ان کے خاندان نے نہیں سہی اور کونسی قربانی ہے جس کا انہوں نے اپنے خاندان سمیت سامنا نہ کیا۔ 1974میں نوجوان بلور پارٹی کے صوبائی صدر بنے اور اس کے ایک سال بعد سینٹ کے ممبر تو زیرک اور دور اندیش بھٹو کی نظروں میں آگئے اور چند دنوں بعد پیپلز پارٹی میں آنے کے ساتھ ساتھ ایک تگڑی وزارت کی آفر بھی دے دی لیکن غلام احمد بلور کا سیاسی کعبہ ولی باغ ہی رہا ،لاڑکانہ نہیں بنا۔ چند دنوں بعد گورنر سرحد حیات محمد خان شیرپاؤ کی ایک بم دھماکے میں ہلاکت ہوئی تو غلام بلور کو حکم عدولی کی سزا ملنا شروع ہوئی اور وہ اپنے تینوں بھائیوں سمیت گرفتار کر لئے گئے (غلام بلور کے تینوں بھائیوں کا اس وقت سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا) پشاور، ڈی آئی خان، ہری پور اور اڈیالہ جیلوں میں چاروں بھائی الگ الگ سے پابند سلاسل تھے۔ ایسے میں غلام بلور کو جیل میں خبر ہوئی کہ والد کے بنائے ہوئے مشترکہ گھر پر ایف ایس ایف (فیڈرل سیکیورٹی فورس) نے قبضہ کر لیا ہے اور بچوں کو وہاں سے نکال دیا گیا ہے جبکہ کاروباری مرکز کو بھی آگ لگا دی گئی ہے۔

نوجوان بلور نے تاریک کوٹھڑی میں پیام بر کو صرف اتنا کہا تھا کہ سیاست کریں گے تو قربانیاں تو دینی پڑیں گی۔ تب انہیں کیا معلوم تھا کہ قربانیوں کی تاریخ طویل بھی ہوگی اور خونچکاں بھی۔ رہائی کے کچھ عرصہ بعد پارٹی پر حیدرآباد ٹربیونل کی صورت میں بھٹو نے ایک اور قیامت ڈھا دی اور نیشنل عوامی پارٹی کی تمام قیادت بمع ولی خان، افضل خان لالا، ارباب سکندر حیات، بزنجو، خیر بخش مری اور میر گل خان نصیر گرفتارکر لی گئی تو نوجوان غلام احمد بلور بھی قافلہ طوق و سلاسل کا حصہ بنے تھے۔ ایک بار میرے گال پر شوخی کے ساتھ چٹکی لیتے ہوئے بوڑھے بلور نے کہا تھا کہ صرف پینتیس سال کی عمر میں میرے پیروں میں ایک طرف بھٹو کی طاقتور وزارت پڑی تھی اور دوسری طرف میرے گلے کے سامنے حیدرآباد ٹریبونل میں پھانسی کا پھندا لہرارہا تھا لیکن نوجوان دیکھو کہ میں نے انتخاب کس کا کیا تھا ؟ میں نے شدید حیرت کے ساتھ پوچھا کہ پھانسی ؟ فوراً سنجیدہ ہو کر کہا کہ ہاں جنرل ضیا بھٹو کا تختہ نہ الٹتا تو ہم تیرہ لوگوں کو پھانسی پر لٹکنا ہی تھا جن میں ولی خان بھی شامل تھے۔ غلام احمد بلور خان عبدالغفار خان اور ولی خان کو آج بھی اپنی سیاسی عقیدت سمجھتے ہیں لیکن نوابزادہ نصراللہ خان، مفتی محمود اور غوث بخش بزنجو کا ذکر کرتے ان کی آنکھیں تک بھیگ جاتی ہیں۔ 1990کے الیکشن میں ایک طوفانی کمپین چل رہی تھی کیونکہ بے نظیر بھٹو بذات خود بلور کے مقابل تھیں اور جب الیکشن کا نتیجہ سامنے آیا تو بلور نے اسے شکست دی تھی اور پوری دنیا کا میڈیا بلور کو گھیرے ہوئے تھا لیکن پوری کمپنی اور تاریخی جیت کے با وجود بھی ایک کمزور لفظ تک ان کے منہ سے نہیں نکلا کیونکہ بے نظیر بھٹو کے سسر حاکم علی زرداری ان کے قریب ترین دوستوں میں سے تھے اور اس وجہ سے آصف علی زرداری کو آج بھی اس گھر میں بھتیجے کا سٹیٹس حاصل ہے۔ حد درجہ دین دار غلام بلور بظاہر ایک سادہ مزاج آدمی ہیں لیکن سیاسی داؤ پیچ کے ایسے ماہر کہ باید و شاید ، تبھی تو ان کے بقول ان کے خاندان نے سترہ الکشن لڑے اور کامیابی کا تنا سب اسی فیصد رہا۔ انیس سو نوے میں وہ نواز شریف حکومت میں وفاقی وزیر ریلوے تھے۔ اس دوران بے نظیر بھٹو نے حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تو نواز شریف پر وہی کپکپی طاری ہوئی جو آج کل عمران خان پر طاری ہے۔ غلام احمد بلور اس دن پشاور میں تھے کہ وزیر اعظم نواز شریف کا پیغام ملا کہ فوری طور پر اسلام آباد پہنچیں۔ شام کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس شروع ہوا تو وزیرداخلہ چودھری شجاعت حسین، اعظم ہوتی اور چودھری نثار سمیت تمام وزرا نے مشورہ دیا کہ لانگ مارچ نہیں کرنے دیا جائے لیکن نواز شریف نے سب کی بات سننے کے بعد خاموش بیٹھے بلور کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ بلور صاحب آپ کی کیا رائے ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میاں صاحب میری رائے ان سے مختلف ہے اور میں لانگ مارچ روکنے کے حق میں نہیں۔ سب نے مڑ کر حیرت کے ساتھ ان کی طرف دیکھا تو وزیراعظم نے بات واضح کرنے کو کہا۔

غلام احمد بلور نے وضاحت کردی کہ بے نظیر بھٹو کراچی سے نکلیں گی لیکن وہاں سیاسی پلڑا ایم کیو ایم کا بھاری ہے اور وہ ہماری حلیف ہے اس لئے ٹرین شام کو حیدرآباد پہنچے گی تو کچھ ہلا گلا ضرور ہوگا لیکن وہاں سے روانہ ہوگی تو اندرون سندھ سفر رات کے وقت ہوگا اس لئے دیہاتی سندھ میں رات کو بڑے مجمعے کا امکان کم ہے۔ ٹرین اگلے دن صبح کے وقت پنجاب میں داخل ہوگی اور وہاں حکومت آپ ہی کی ہے تاہم ملتان میں پیپلزپارٹی مجمع لگا سکتی ہے لیکن وہاں پہنچ کر میں خود ہینڈل کر لوںگا۔ وزیر اعظم نے غلام احمد بلور کی تجویز کی منظوری دے دی۔ مقررہ دن وزیر ریلوے غلام بلور بذات خود ملتان سٹیشن پر ریلوے کے مقامی دفتر میں موجود تھے اور ریلوے حکام کو ہدایات دیں کہ ٹرین کوچند منٹ تک روک کر فوراً آگے کی طرف روانہ کر دیاجائے۔کسی نے سوال اٹھایاکہ کہیں کارکن طیش میں آکر ٹرین پر فائرنگ نہ کردیں تو بلور نے جواب دیا کہ یہ نا ممکن بات ہے کیونکہ ٹرین میں ان کی لیڈر بیٹھی ہوئی ہیں اور پھر ٹرین پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہوتی ہوئی اسلام آباد کی طرف بڑھتی اور لانگ مارچ کمزور پڑتی رہی۔ بلور بھی ٹرین کے ساتھ ساتھ چلتے اور اپنا سیاسی منصوبہ بروئے کار لاتے رہے حتی کہ کمزور پڑتے احتجاج سے مایوس بے نظیر بھٹو لالہ موسی میں ٹرین سے اتر کر جیپ میں اسلام آباد چلی گئیں اور ٹرین مارچ بغیر کسی خطرے کے اختتام کو پہنچا۔ دو دن بعد وزیراعظم نے کا بینہ کے بھرے اجلاس میں تمام ارکان سے کہا کہ بلور صاحب کی بصیرت اور تجربہ مشکل وقت میں ہمیں بہت فائدہ دے گیا۔ گویا سیاست تجربے اور پختگی کی محتاج ہوتی ہے زبان درازی اور دشنام طرازی کی نہیں لیکن المیہ دیکھیں کہ زمانہ حال میں موخرالذکر ہی حاوی ہیں لیکن یہ بھی یاد رہے کہ تاریخ میں ایسے لوگ تعفن اور بد بو داری کے علاوہ چھوڑیں گے بھی کیا؟ رہے غلام احمد بلور جیسے وضعداری ،شرافت اور قربانی کے پیکر لوگ تو مستقبل میں مورخ کس شان سے لکھے گا کہ یہ وفاداری اور قربانیاں بھی سیاست کے اس عہد جاہلیت میں روشنی بکھیرتی رہیں جب سیاست کی طوائف تماش بینوں میں گھری ہوئی تھی اور ہاں ایک بات اور اگر سیاست کو بد نام کرنے کی خاطر سیاستدانوں کی کردار کشی ہی مطلوب ہے تو بے شک آپ اپنی کرتے رہیں لیکن اب لوگ ایک تعفن زدہ ٹاٹ اور ایک سیاستدان کے فرق کو ایسی ہی وضاحت کے ساتھ سمجھنے لگے ہیں جس وضاحت کے ساتھ شیخ رشید اور غلام احمد بلور کی شخصیت اور سیاست کے فرق کو سمجھتے ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز