گزشتہ مہینہ رمضان کا مہینہ تھا اور امت مسلمہ کے لیے رمضان کا مہینہ انتہائی با برکت اور مقدس مہینہ ہے۔چاند دیکھ کر روزہ رکھا جاتا ہے اور چاند دیکھ کر عید کی جاتی ہے۔جب سے وطن عزیز معرض وجود میں آیا ہے تب سے لے کر آج تک دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں روئیت کے مسئلہ کو لے کر بھی ایک سرد جنگ مذہبی حلقوں میں چل رہی تھی۔جس کا اس بار انجام بخیر ہوا۔ہمارا سرکاری مذہب تو اسلام ہے مگر بد قسمتی سے ہم مسلمان نہیں۔بلکہ ہم فرقوں،جماعتوں اور سلسلوں میں بٹ چکے ہیں۔رب کائنات نے اپنی آخری و الہامی کتاب قرآن مجید میں ہمارا نام مسلم رکھا تھا اس کے علاوہ ہم سب کچھ ہیں۔ہماری اندھی تقلید نے ہمیں اللّٰہ اور اس کے آخری الہامی پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے علاوہ اپنے فرقے کے موجد اور اپنے سلسلے کے پیشوا کی اطاعت کو دین اسلام سمجھ رکھا ہے۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم تقسیم در تقسیم ہوئے اور غلام ابن غلام بنتے چلے گئے۔حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبال نے اس مذہبی تقسیم کا ایک صدی قبل اعلان کر دیا تھا۔آپ نے اپنے کلام میں بے شمار جگہ پر امت مسلمہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے والے اس ناسور کو اپنے کلام میں جا بجا اجاگر کیا اور فرقہ پرستی کے سنگین نتائج سے آگاہی دی۔آپ نے فرمایا
گلہ تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا۔۔۔
کہاں سے آئے گی صدا لاالہ الااللہ۔۔۔۔۔۔
ایک اور جگہ فرمایا!!!
تعصب چھوڑ اے ناداں دہر کے آئینہ خانوں میں۔۔۔۔
یہ سب تیری ہیں تصویریں جنہیں سمجھا برا تو نے۔۔۔
اطاعت رسول کو واحد ذریعہ وحدت و ملت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔!!!
اب کسی ایک ہی ہر جائی سے عہد غلامی کر لو۔۔۔
ملت احمد مرسل کو مقامی کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر اب جاکر جب سے نوجوانوں نے کچھ تحقیق کا دامن تھاما تو ہماری نئی نسلوں کو ادراک ہوا کہ ہم تو مذہبی بنیادوں پر بھی لوٹے جارہے ہیں۔تو انہوں نے مذہبی فرقہ واریت سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔مگر تا حال کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو پائی۔کیونکہ ہم تحقیق کے بجائے کہاوتوں پر اور اللّٰہ کی تائید و نصرت کے بجائے کرامتوں اور توہم پرستیوں پر زیادہ یقین کامل رکھتے ہیں۔اس کا ایک عملی مظاہرہ ہمیں عید کے موقع پر مختلف سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھنے والے علماء کے درمیان چاند نظر آنے یا نہ آنے والے ہنگامے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔گو کہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے مگر شریعت سے مراد اسلامی شریعت یا ہمارے فرقوں کی شریعتیں۔یہ ہمیں ان فرقوں سے تعلق رکھنے والے علماء یا ان کے پیروکار ہی بتا سکتے ہیں۔مگر اس بار صورت حال تھوڑی مختلف تھی۔اس سرد جنگ میں ایک اضافہ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری صاحب کی صورت میں ہوا۔جو اس مرتبہ آؤ چاند چاند کھیلیں والے کھیل میں آن شامل ہوئے۔اور جناب وزیر موصوف نے صبح دس بجے ہی شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کر دیا۔بس پھر کیا تھا ہمارے سوشل میڈیا پر سوالیہ نشان بننا شروع ہوگئے کہ عید فواد چوہدری کے دن دس والے چاند یا مفتی منیب الرحمان کے رات سوا دس والے چاند کے مطابق ہوگی۔خدا خدا کر کے شام ہوئی اور روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری ہوا اور قوی امکان تھا کہ کل روزہ ہوگا کیونکہ برادر اسلامی ممالک میں تیس روزے مکمل ہوئے تھے تو ہمارا چاند انتیس کا کیسے ہو سکتا تھا۔ہمارے ہاں بھی تیس روزے مکمل ہونا تھے۔تبھی اکثر لوگ مطمئن تھے اور عید کی تیاری سے غافل بھی۔چاند جوکہ مغرب کے وقت دکھائی دے جاتا ہے مگر ہمارے روئیت ہلال کمیٹی کو وہ چاند رات دس بجے دکھائی دیا۔مفتی منیب الرحمان صاحب نے سا کا اعلان کیا اب دن دس بجے والے چاند اور رات دس بجے والے چاند میں فرق کیا ہے یہ پاکستانی عوام بہتر بتا سکتی ہے۔مفتی صاحب نے سابقہ اعلانات کی طرز پر لمبی تمہید باندھی مگر جب انہوں نے فرمایا کہ راولپنڈی میں ایک جرنل صاحب نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چاند دیکھا اور شہادت دی تو پوری قوم کو یقین ہوگیا کہ کل عید ہے۔کیونکہ راولپنڈی کی آلودہ فضا میں بیٹھے جرنل صاحب جب اپنے اہل خانہ کے ہمراہ چاند دیکھ سکتے ہیں تو اسلام آباد،پشاور کراچی اور شمالی علاقہ جات والے اندھے تو نہیں کہ ان کو چاند نظر نہ آئے۔اور مفتی صاحب کی یہ دلیل بھی رد ہوئی کہ چاند کو آنکھ سے دیکھنا شرط ہے۔جس کی دلیل وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری صاحب نے یہ دی کہ مفتی صاحب بھی عینک اور دوبین سے چاند دیکھتے ہیں۔لہذا آنکھ سے دیکھنا بھی کوئی حجت نہیں۔سوائے اس کے کے چاند کسی ریاستی وزیر یا جرنل صاحب کو نظر ائے یہ اصل حجت ہے۔کچھ بھی ہوا مگر آخر قوم نے وہ دن دیکھا جب ساری قوم نے ایک دن عید منائی۔اب وہ چاند دیکھ کہ منائی گئی یا تارے یہ الگ بحث ہے۔چاند پوری زمین کا ایک ہوتا ہے پھر وہ باقی اسلامی ممالک میں تیس دن اور صرف ایک مسلم مملک پاکستان میں انتیس دن کو کیوں تھا یہ بھی فضول بحث ہے۔عید تو سب نے ایک دن کی جس میں اہم کردار پی۔ڈبلیو۔ڈی کے محکمہ کا تھا یعنی پاور والے ڈنڈے گا کیونکہ ہم بحیثیت قوم اسی قابل ہیں۔اور اس کھیل کا بھی ہمیشہ ہمیشہ اختتام ہوا کہ آؤ چاند چاند کھیلیں۔۔۔