615

کتنا بھونڈا سوال ہے

 
بندوق اٹھا لیتے ہیں آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟

ایک مرتبہ کسی محترمہ نے بلوچستان والوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ بلوچستان والے اپنی محرومیوں کے خود ذمہ دار ہیں۔ پھر لمبی داستان سنانے لگی کہ میں تو ڈیرہ بگٹی بھی گھوم پھر آئی ہوں۔ وہاں کے لوگ جب کبھی پکنک منانے جاتے ہیں تو اچھا سالن بنا لیتے ہیں ورنہ پیاز سے روٹی کھا لیتے ہیں۔ محترمہ کی درد بھری داستان سن کر ایک سوال پوچھنے کی جسارت کر ڈالی۔ حالانکہ میں مکمل طور شدید محب وطنوں کے نرغے میں تھا۔ محترمہ سے پوچھا آپ تو ڈیرہ بگٹی کی سیر بھی کرکے آئی ہیں ذرا بتائیے تو سہی وہاں کا رہن سہن کیسا ہے؟ لازمی بات ہے آپ عورت ہیں تو وہاں کے  گھروں میں موجود نرم نرم بستروں پر آرام کا موقع بھی ملا ہوگا۔ گرمی میں ٹھنڈے ای سی کے نیچے پرسکون نیند کی نعمت کو بھی خوب انجوائے کیا ہوگا۔ اچھا یہ تو بتائیں وہاں کی عورتیں گھروں میں کھانا کیسے پکاتی ہیں؟ سنا ہے وہاں گیس اتنی وافر مقدار میں ہے اگر آپ زمین میں کنواں بھی کھودیں تو گیس نکلنے لگتی ہے۔ محترمہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا کہ وہاں کی عورتیں لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتی ہیں۔ 

میں نے مزید جسارت کرکے پوچھا کہ جہاں سے گیس نکل رہی ہو وہاں کے لوگ لکڑیاں جلا کر کھانا پکاتے ہیں ناقابل یقین بات ہے۔ کہنے لگی نہیں یہ حقیقت ہے میں نے خود دیکھا ہے میں وہاں رہ کر آئی ہوں۔ ویسے پنجاب و اسلام آباد کے باسی ہماری باتوں کا یقین ہرگز بھی نہیں کرتے یہ پہلی محترمہ تھیں جو مجھے غلط ثابت کر رہی تھی اور کھلے دل سے بیان کر رہی تھیں۔ اب وہ تلخ سوال کرنے کی باری تھی جو اکثر لوگوں پر گراں گزرتا ہے۔ میں نے پوچھا تو بتائیے وہ مقامی لوگ اس نعمت سے کیوں محروم ہیں؟ محترمہ نے سوال سنتے ہی فٹ سے وہی جواب دیا جو اکثر دیا جاتا ہے۔ کہنے لگیں اب اتنے تھوڑے مطلب دس ، پندرہ ہزار لوگوں کیلئے اتنے اخراجات تو نہیں کئے جاسکتے۔ یہ وہ ریاستی پالیسی ہے جس کا حوالہ محترمہ نے اپنے جواب میں دیا۔ ظاہر سی بات ہے سب سے کم آبادی والا صوبہ بلوچستان ہی ہے۔ اب اتنے تھوڑے مطلب آٹے میں نمک برابر لوگوں کیلئے اچھی اچھی جامعات بنانا ، مہنگے ہسپتال تعمیر کرنا ، کھلی سڑکیں تعمیر کرنا،  اچھے اچھے کھیلوں کے میدان تیار کرنا وقت اور پیسے کا ضیاع ہی تو ہے۔ یہی بات تو جام کمال صاحب پچھلے دنوں کرچکے ہیں کہ کوئٹہ میں اتنی بڑی یونیورسٹی ہے تو خضدار میں ایک اور یونیورسٹی بنا کر اتنا پیسہ کیوں ضائع کیا جائے۔ دراصل جام کمال صاحب یہ کہنا چاہ رہے تھے جس نے پڑھنا ہے وہ کوئٹہ آکر پڑھے ہم کسی کے باپ کے نوکر تھوڑی ہیں جو ہر شہر میں ایک الگ یونیورسٹی تعمیر کرتے رہیں۔ 

آج کسی اور محترمہ نے سوال کیا کہ یہ بلوچ بھی عجیب مخلوق ہیں بندوق اٹھا لیتے ہیں آواز نہیں اٹھاتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ محترمہ کو یہ طنز کرنے کی ضرورت کیوں درپیش آئی۔ حالانکہ آج تک تو بلوچستان میں آواز ہی اٹھائی جاتی رہی ہے۔ اس کے باوجود بندوق اٹھانا کسی طور درست عمل نہیں مگر یہ کہنا کہ آواز ہی نہیں اٹھاتے عجیب ہے۔ شاید محترمہ کا تعلق اس گولے سے نہیں ہے ورنہ اسے ضرور ماما قدیر کی لانگ مارچ نظر آتی جو کوئٹہ سے بلوچ عورتوں کو ساتھ لے کر پیدل نکلے۔ پورا بلوچستان پاوں سے لتارٹے ہوئے سندھ کی سرزمین پر قدم رکھ کر سندھ کو ناپاک کر دیا۔ بات سندھ تک رہتی تو بھی ٹھیک تھا مگر ماما قدیر تو یہ آواز اٹھانے والی نحوست پنجاب تک پہنچانا چاہتے تھے۔ رستے میں کسی نے دریافت کیا کہ لاہور سے گزریں گے تو لاہوریوں سے کیا توقعات ہیں؟ ماما قدیر بولے لاہوری کھلے دل والے ہیں مایوس نہیں کرینگے۔ لاہور میں پہنچ کر کسی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تک نے حال نہ پوچھا۔ لاہور کی کھلی سڑکیں ، خوبصورت پارک ، مینار پاکستان،  شاہی قلعہ دیکھ کر امید تو جاگی ہوگی کہ کاش میرا بھی اس شہر میں کوئی گھر ہوتا۔ مگر زندہ دلان لاہور نے ایسے رخصت کیا جیسے پورے لاہور میں کوئی تھا ہی نہیں۔ پھر بھی ماما قدیر بعض نہیں آئے اور اسلام آباد آ پہنچے۔ شاید وہ پیدل مارچ آواز اٹھانا نہیں کہلاتا وہ تو بلوچستان سے چنے بیچنے نکلا تھا جو اسلام آباد تک پہنچتے پہنچتے سارے ختم ہوگئے اور یوں ماما قدیر اپنے چنوں کی قیمت سے ایک جہاز خرید کر بلوچستان واپس پہنچ گئے۔ 

محترمہ طنز کرنا آپ کا پورا حق ہے مگر طنز بھی ایسا کریں جس کی کسی کو سمجھ تو آئے۔ بندوق اٹھانا کسی صورت درست نہیں نہ ہی اس عمل کی کوئی حمایت بھی کرتا ہے۔ مگر یہ تو نہ کہیں کہ بلوچ عجیب مخلوق ہیں بندوق اٹھا لیتے ہیں آواز نہیں اٹھاتے۔ اور آواز کی جگہ بندوق اٹھانا ان کی چوائس ہے مجبوری نہیں۔ اتنا ظلم تو نہ کریں کہ گلے پھٹ جائیں ، سینے چاک ہوجائیں ، مگر کوئی سننے والا ہی نہ ہو ۔ اگر کوئی سننے والا نہیں اس کا یہ مطلب تو نہ نکالیں کہ آواز ہی نہیں اٹھائی جاتی۔ کم از کم بلوچوں کے متعلق اتنا بے خبر رہ کر انہیں مایوس تو نہ کریں پلیز۔
 

بشکریہ اردو کالمز